ابنا: آئندہ جمعے کے دن تک جاری رہنے والی اس نمائش میں ایک ہزار دو سو سے زیادہ ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں نے حصہ لیا ہے۔ اس نمائش میں تین سو پندرہ غیر ملکی کمپنیوں کی شرکت سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ملت ایران کے دشمن ایران کے تیل کا بائیکاٹ کرنے کے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر پیٹرولیم رستم قاسمی نے کہا ہے کہ ایران ہائيڈروکاربن کی توانائی رکھنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ تیل و گیس کے زیر زمین ذخائر رکھنے کی وجہ سے فیصلہ کن کردار کا حامل ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے یونان اور اسپین کو تیل کی برآمدات بند کرنے کے ایک دن بعد گیارہ اپریل کو جرمنی کو بھی تیل کی برآمدات روک دیں۔ اس کے علاوہ ایران نے فرانس اور برطانیہ کو تیل کی برآمدات روک دیں۔ اور وہ اٹلی کو بھی تیل کی برآمدات بند کر دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے تیئیس جنوری کو یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزراۓ خارجہ کے اجلاس میں ایران کے تیل کے بائيکاٹ پر ہونے والے اتفاق راۓ کے بعد یورپی ممالک کو تیل کی برآمدات بند کردینے کا فیصلہ کیا تھا۔ یورپ کی ایران مخالف پابندیوں کی ناکامی کے آثار اس وقت نظر کھل کر سامنے آۓ جب ایران کے اقتصاد سے زیادہ معاشی بحران کے شکار اور توانائی کے شدید ضرورتمند یورپی ممالک کا اقتصاد ان پابندیوں کی زد میں آگیا۔
ایران پر گزشتہ تین عشروں سے اقتصادی پابندیاں چلی آرہی ہیں اور ایران ان پابندیوں کے نتیجے میں ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں خود کفیل ہوچکا ہے۔ اس عرصے کے دوران ملت ایران نے سیکھ لیا ہے کہ وہ کس طرح پابندیوں کو اپنی ترقی کے مواقع میں تبدیل کر سکتی ہے۔ تیل اور گیس کی صعنت کو ایران کے اقتصاد میں کلیدی مقام حاصل ہے اس صنعت میں اسلامی جمہوریہ ایران نے جو ترقی و پیشرفت کی ہے اس کو دیکھ کر اس صنعت کے ماہرین اور اس نمائش میں شرکت کرنے والے افراد انگشت بدندان رہ گۓ ہیں۔ اس نمائش میں شرکت کے لۓ ایران کا دورہ کرنے والے ایکو تنظیم کے سیکرٹری جنرل محمد یحیی معروفی نے تیل اور گيس کی صنعت میں ایرانی ماہرین کی ترقی و پیشرفت کو سراہتے ہوۓ ایران کو اس سلسلے میں دوسرے ممالک کے لۓ ایک مناسب نمونۂ عمل قرار دیا ہے۔
ایکو کے سیکرٹری جنرل نے تاکید کی ہے کہ ایران تیل و گیس کے ذخائر سے مالا مال ہونے کی وجہ سے اس تنظیم کے رکن ممالک کے علاقے کی توانائي کی ضروریات پوری کرنے کے بارے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اور اس تنظیم کے رکن ممالک بھی اپنی تیل کی صنعت کو ترقی دینے کے لۓ ایرانی ماہرین سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اگرچہ مشرق وسطی کے ممالک میں بہت سے ممالک کے پاس تیل و گیس کے ذخائر موجود ہیں لیکن تیل و گیس کی صنعت میں ایرانی ماہرین اور دانشمندوں نے جو ترقی و پیشرفت کی ہے اس کی وجہ سے توانائی کے شعبے میں ملت ایران کو بے مثال موقع مل گيا ہے۔ ان حالات میں ایران کو مزید الگ تھلگ کرنے کے مقصد سے تیل کے بائیکاٹ کی بات کرنا یورپ کے ان بعض سیاستدانوں کی خام خیالی سے مشابہت رکھتا ہے جو توانائی کی منڈی کے حقائق سے بالکل ناواقف ہیں۔.......
/169