اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے شیعہ عالم دین "حجت الاسلام والمسلمین شیخ عبدالكریم الحبیل" نے صوبۂ القطیف کے شہر "الربیعیہ" کی مسجد العباس میں خطاب کرتے ہوئے کہا: سعودی عرب کے شیعہ خاص طور پر مدینہ منورہ میں رہنے والے شیعہ باشندوں کو کم از کم شہری حقوق بھی نہیں دیئے جاتے۔انھوں نے کہا کہ مدینہ کی نصف سے زیادہ آبادی اہل تشیع پر مشتمل ہے لیکن ان کو مسجد بنانے کی اجازت نہیں ہے، انہيں دینی و مذہبی شعائر سے منع کیا جاتا ہے اور انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ زرعی زمینوں میں جاکر نماز جماعت بپا کریں جبکہ یہ مسائل دینی آزآدیوں سے متصادم ہیں۔سعودی عرب کے اس نامور عالم دین نے کہا: شہر الخُبَر کے شیعیان اہل بیت (ع) کے خلاف آل سعود کا دباؤ جاری ہے، انہیں نماز جماعت بپاکرنے سے منع کیا گیا ہے، ان کی مساجد کو بند کردیا گیا ہے اور انہيں مزید مساجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ انھوں نے کہا: سعودی عرب میں شیعہ کتب کو ضبط کیا جاتا ہے اور یہ سعودی اقدام مذہبی آزادیوں کو کـچلنے اور فرقہ وارانہ ثقاقت کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ انھوں نے کہا: ہمارے آباء و اجداد نے تسلسل کے ساتھ فرقہ وارانہ امتیازی پالیسیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور آج ہم ان کے فرزندوں کی حیثیت سے اسی راستے پر گامزن ہیں لیکن اس کے باوجود ہم آل سعود کی طرف سے پرانی امتیازی پالیسیوں کا سامنا کررہے ہیں، اور اہل تشیع پر سعودی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور آل سعود کی حکومت ہمارے جائز مطالبات پر کان ہی نہیں دھرتے۔ شیخ الحبیل نے القطیف کے عوامی احتجاجی مظاہروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: القطیف کی عوامی تحریک کا مقصد حقیقی شہری حقوق کا حصول اور عزت و کرامت اور امن و سلامتی کے ساتھ تمام مذاہب کی پرامن بقائے باہمی کو یقینی بنانا اور امتیازی رویوں کا خاتمہ ہے۔ ........
/169-110
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے: