ابنا: شام کے خلاف فوجی آپشن کا استعمال اور اس کے سیاسی نظام کے مخالفین کو مسلح کرنا وہ طریقہ ہے جو مغرب اور امریکہ نے بعض عرب ممالک کے ساتھ مل کر اختیار کر رکھا ہے۔ امریکی وزیر جنگ لئون پنیٹا نے کہا ہے کہ شام پر بین الاقوامی دباؤ کو برقرار رکھنا بہترین راستہ ہے۔ سلامتی کونسل میں مغربی ملکوں کے نمائندوں نے بھی کہا ہے کہ کہ جب تک شام کے خلاف قرارداد منظور نہیں ہو جاتی وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ یہ دھمکیاں ایک ایسے وقت میں دی جا رہی ہیں کہ جب روس اور چین شام کے بحران کے پرامن اور سفارتی حل پر بدستور زور دے رہے ہیں۔ روس اور چین کی مخالفت کی وجہ سے سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قرارداد پاس کروانے میں امریکہ، مغرب اور بعض عرب ملکوں کو اب تک ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود امریکہ مشرق وسطی کے علاقے میں اپنے عرب اتحادیوں کے ذریعہ اور اسی طرح شام میں حکومت کے مخالف گروہوں کے ساتھ رابطہ قائم کر کے شام اور اس کی حکومت کے خلاف اپنے پروگراموں پر عمل درآمد کی بدستور کوشش کر رہا ہے۔ بعض سیاسی حلقوں کا یہ خیال ہے کہ شام کے بارے میں یمن پراجیکٹ اس وقت وہ منصوبہ ہے کہ جو پر وائٹ ہاؤس توجہ دے رہا ہے۔ درحقیقت بشار اسد سے اقتدار لے کر ایک ایسے شخص کے حوالے کرنا کہ جس پر امریکہ اور مغرب کا اتفاق ہے، وہ پروگرام ہے کہ جو امریکہ نے شام کے لیے تیار کیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ عرب ممالک کا پتا استعمال کرنا چاہتا ہے۔ خلیج فارس کے ممالک میں سے قطر اور سعودی عرب اس وقت کھل کر بشار اسد سے دشمنی کا اظہار کر رہے ہیں۔ سعودی عرب اور بحرین کی جانب سے شام میں اپنے سفارت خانے بند کرنے کے بعد خلیج فارس تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے بھی کہا ہے کہ اس کونسل کے دیگر رکن ملکوں نے بھی دمشق میں اپنے سفارت خانے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدامات امریکہ کی ہری جھنڈی سے اور شام اسی کے کہنے پر انجام دیے گئے ہیں۔ جبکہ شام کے بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے کوفی عنان نے حال ہی میں دمشق میں بشار اسد سے ملاقات کی ہے۔ کوفی عنان نے بشار اسد کے ساتھ اپنی ملاقات کی رپورٹ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ سلامتی کونسل کے ارکان کو پیش کی لیکن اس کے باوجود امریکہ شام کے خلاف جنگ کے نقارے بجا رہا ہے۔ یہ ایسے حالات میں ہے کہ جب شام کے دوستوں کے نام سے کانفرنس اس بار ترکی کے شہر استنبول میں ہو گي جس میں شام کے مخالفین شرکت کریں گے۔ اس کانفرنس میں بھی تیونس میں ہونے والی گزشتہ کانفرنس کی مانند کرتا دھرتا امریکہ ہی ہے۔ امریکہ نے اس وقت شام کے مخالفین، علاقے میں شام مخالف اتحاد اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعہ شام کے بارے میں اپنے پروگراموں پر عمل درآمد کے لیے اپنی تمام کوششیں صرف کر دی ہیں۔ لیکن روس نے کہ جو مشرق وسطی کی تبدیلیوں کے سلسلے میں امریکہ کا روایتی حریف سمجھا جاتا ہے، شام کے مسئلے میں واشنگٹن کا ساتھ نہ دینے کے ساتھ ہی ساتھ واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ وہ اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ شام میں غیرملکی مداخلت کے بارے میں امریکی منصوبے اور سازش پر عمل ہو اور اس بارے میں سلامتی کونسل میں قرارداد منظور ہو۔ ........
/169