14 مارچ 2012 - 20:30

ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق رحیم یارخان میں 11مارچ کو سینکڑوں مومنین نے سانحہ خانپور، علامہ ثقلین کی شہادت اور سانحہ کوہستان کے خلاف پر امن احتجا جی مظاہرہ کیا۔جس پر متعصب انتظامیہ سے 20 مومنین کے خلاف ایف۔آئی۔آر درج کر دی۔

ابنا: مزید تفصیلات کے مطابق ملت جعفریہ کے غیور نوجوانوں نے پاکستان بھر میں بےگناہ شھید ہونے والے مومنین کی شہادتوں کے خلاف پر امن احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں متعدد علماء کرام، عمائدین ملت سمیت عزاداران امام حسین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

لیکن اس احتجاج کو متعصب پنجاب حکومت برداشت نہیں کر سکی اور بے گناہ حسینیوں کے خلاف مقدمہ درج کردیا۔متعصب انتظامیہ نے دو مقدمہ درج کئے ہے۔ ایک ایف۔آئی۔آر میں 350 اور دوسری ایف۔آئی۔آر میں 35 افراد نامزد کئیے ھے۔ یہ ایف۔آئی۔آر مقامی انتظامیہ کی جانب سے درج کی گئی ہیں۔

افسوس ھمارے لوگ ہی شھید ہو، اور مقدمات بھی ھمارے ہی خلاف قائم ہوں۔آخر کیوں معصوم عزاداروں پر ظلم کے پہار توڑے جا رھے ھیں۔ایسی پولیس ملک کو کیا تحفظ فراہم کرے گی جو دھشتگردوں کی پشت پناہ ہوں۔

آج اس ملک کی سر زمین پر سفاک قاتل، اور کالعدم اسلحہ بردار دھشگردوں کو ہر قسم کی آزادی حاصل ھیں لیکن پرامن شہری جن کا مطالبہ صرف اور صرف قاتلوں کی گرفتاری ھیں۔ ان پر اس ملک کی زمین تنگ کی جارہی ہیں۔
.......

/169