اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق ایک مصری روزنامہ نویس نے منطقۃالشرقیہ میں آل سعود کے سیکورٹی اقدامات کو مہمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح عوامی مطالبات میں اضافہ ہوگا اور ان کی مطالبات کی سطح بھی وسیع تر ہوجائے گی۔
مصری جریدے "الغد العربی" (عربی مستقبل) کے چیف ایڈیٹر "عادل الجوہری" نے کل بدھ کے روز العالم نیوز نیٹ ورک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: الشرقیہ کے عوام پر بیرونی قوتوں سے وابستگی کا الزام لگانے سے آل سعود کا مقصد اندرونی بحران کو بیرون ملک منتقل کرنا ہے۔
انھوں نے کہا: منطقۃالشرقیہ کے احتجاجی مظاہروں کے بارے میں آل سعود کی وزارت داخلہ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکومت عوامی احتجاج کے خلاف سیکورٹی اقدامات اور جبر و تشدد کا رویہ جاری رکھے گی۔
انھوں نے کے کہ آل سعود کا تشدد بے فائدہ ہے اور سعودی عرب کے نوجوان اپنے مطالبات سے پسپائی اختیار نہیں کریں گے اور معیشت، سیاسی مسائل اور جمہوریت کے حوالے سے عوامی مطالبات کی سطح مزید وسیع ہوگی۔
انھوں نے کہا: وزارت داخلہ کا بیان اس پیغام پر مشتمل تھا کہ ریاض کے حکمران سنہ 2008 کی دستاویز (جس میں عبداللہ بن عبدالعزيز نے الشرقیہ کے عوام کی دینی آزادیوں کی ضمانت دی ہے) نیز 1930 کے عشرے میں آل سعود کے پہلے بادشاہ اور موجودہ بادشاہ کے والد عبدالعزیز بن سعود کے اسی طرح کے ضمانت نامے کے پابند نہیں ہیں اور پابند رہنا بھی نہیں چاہتے۔
انھوں نے منطقۃالشرقیہ میں آل سعود کے تجاوزات کے بارے میں اِنسانی حقُوق کے تحفظ کی عِلمبردار بین الاقوامی ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کی دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان تجاوزات کو اس بات کی علامت قرار دیا کہ خاندان آل سعود ظلم و جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے اور معترضین کے ساتھ مذاکرات کی کسی بھی دعوت کو لبیک کہنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
........
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
سعودی عرب میں عوامی تحریک جاری؛ مکمل صورتحال؛
آل سعود: العوامیہ کی پوری آبادی کو قتل کریں گے؛ آل سعود کو علمائے الاحساء کا انتباہ