ابنا: فیصلے میں کہا گیا کہ فوج بلانا صوبائی حکومت کا کام ہے، سپریم کورٹ اس حوالے سے فیصلہ نہیں دے رہی۔ فیصلے میں آئی جی پولیس کی رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا کہ کراچی میں 306افرادکوقتل کیاگیا۔چیف جسٹس افتخارچوہدری نے کہاہے کہ کراچی کاامن شرپسندوں نے تباہ کیا، لینڈوڈرگ مافیااوربھتاخوری معمول بن گئی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میڈیاکے مطابق سرمایہ ملائیشیامنتقل ہورہاہے۔ان کا کہنا تھا کہ میڈیارپورٹس کے مطابق کراچی میں مختلف گروپ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں اورکراچی کے شہریوں کوتحفظ حاصل نہیں۔چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ اس وقت کی حکومت نے تمام ترواقعات کاذمہ دارایم کیوایم کوٹھہرایاتھا،کراچی میں گزشتہ کئی ماہ سے امن و امان کی خراب صورتحال تھی۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے الزامات پراس وقت حکومت نے تردیدکی تھی۔چیف جسٹس نے کہاکہ آرٹیکل5پرعمل کرناہرشہری کافرض ہے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اوربھتہ خوری روزکامعمول بن گئی ہے۔انہو ں نے کہاکہ90کے دوران مختلف واقعات ہوئے جن کے دوران کرفیوبھی نافذرہا۔چیف جسٹس نے کہاکہ امن وامان اورمعاشی ترقی ایک دوسرے کیلئے لازم ملزوم ہیں، ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، اسلام امن کامذہب ہے،قتل وغارت سے منع کرتاہے، جوایمان والے کوجان بوجھ کرقتل کرتاہے اس کیلئے سنگین سزاہے، قرآنی تعلیمات آئین پاکستان کاحصہ ہیں۔افتخار گیلانی نے اجمل پہاڑی، کامران مادھوری کے خلاف آئی ایس آئی کی رپورٹ پیش کی۔ ڈی جی رینجرز نے بتایا کہ کراچی ، لسانی، مذہبی اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم ہے اور روزانہ ایک کروڑ روپے بھتہ وصول کیا جارہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا رپورٹ کے مطابق کراچی میں مختلف گروہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں، پشتونوں، اردو بولنے والوں، پنجابیوں اور سندھیوں کی پچاس سے زائد سربریدہ لاشیں ملی ہیں۔ ............
/169