26 ستمبر 2011 - 20:30

آل خلیفہ کے بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ نے پیر کے روز ریاض جاکر عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی اور مشترکہ مسائل، علاقائی مسائل اور بدلتے حالات اور ان مسائل کے حوالے سے اپنے مشترکہ موقف کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک طرف سے انتخابات میں آل خلیفہ کو بری طرح شکست ہوئی ہے اور کل گیارہ ہزار افراد نے حق رائے دہی استعمال کیا ہے اور دوسری طرف سے عوامی احتجاج میں شدت آنے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف تشدد آمیز اقدامات میں شدت آئی ہے اسی حال میں آل خلیفہ خاندان کے بادشاہ نے آل سعود یاترا کی نیت سے ریاض کی راہ لی اور سعودی بادشاہ سے ملاقات کی۔ آل سعود سے وابستہ سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق فریقین نے اس ملاقات میں تمام شعبوں میں تعاون اور دنیا کے بدلے ہوئے حالات پر بات چیت کی۔بے شک بادشاہوں کو یہ بدلتے حالات ایک آنکھ بھی نہیں بھاتے چنانچہ ان دونوں نے حالات بدلتے کا راستہ روکنے کے لئے مزید اقدامات پر بھی بات چیت کی ہوگی اور آل خلیفہ نے آل سعود سے اپنے عوام کو کچلنے کے لئے مزید امداد طلب کی ہوگی اور آل سعود نے بھی مثبت جواب دیا ہوگا جبکہ بعض رپورٹوں کے مطابق آل سعود نے بحرین پر باقاعدہ قبضے کی سازش تیار کررکھی ہے۔ دریں اثناء فرانسیسی خبر ایجنسی نے رپورٹ دی ہے کہ ۔۔۔ کی جنت میں رہنے والے سعودی بادشاہ نے آل سعود کی مجلس شوری کے نام خط لکھ کر "بحرین میں امن و استحکام بحال ہوجانے" کا خیر مقدم کیا ہے اور "بحرین میں باقاعدہ فوجی مداخلت کے باوجود" اس ملک میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔ سعودی بادشاہ نے اپنی فورسز کے ہاتھوں بحرین پر قبضہ اور اس ملک کی حاکمیت اعلی کو پامال کرنے کے بھونڈے اقدام کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ہے: ہم ہر اس اقدام کے خلاف ہیں جو بحرین کے استحکام اور قومی وحدت کو مخدوش کرے اور اس ملک کے امن و استحکام کو تباہ کردے!!!۔سعودی بادشاہ نے کہا ہے کہ خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کی سلامتی سعودی عرب کی سلامتی کا جزو ہے۔سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود سے حمد بن عیسی آل خلیفہ کی ملاقات کے دوران بحرین پر چڑھائی کرنے والے سعودی وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز آل سعود اور دنیا جہاں میں القاعدہ اور ذیلی دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کرنے والے سعودی انٹیلیحنس چیف مقرن بن عبدالعزیز آل سعود اور عبداللہ کے بیٹے وزیر مملکت اور شاہی گارڈز کے سربراہ متعب بن عبدالله بن عبدالعزیز آل سعود بھی موجود تھے۔خلیفی بادشاہ نے ایسے حال میں سعودی عرب کا دورہ کیا ہے کہ بحرینی عوام کے خلاف ان کی بیرونی کرائے کی فورسز نیز سعودی قابضین نے بحرینی عوام کے خلاف ظلم و جور کا بازار گرم کررکھا ہے؛ خواتین کی گرفتاریاں وسیع ہوگئی ہيں، چار و چاردیواری کی توہین عام ہوگئی ہے اور خواتین پر سر عام تشدد کیا جارہا ہے، لوگوں کے گھروں اور مساجد کو نذر آتش کیا گیا ہے اور کئی افراد اس دوران بری طرح جھلس گئے ہيں اور اتنے ظلم و جور کے باوجود بے بس خلیفی بادشاہ کی سعودی یاترا کا براہ راست مفہوم یہ ہے کہ سعودی بادشاہ کی خام  خیالی کے برعکس، بحرین میں عوامی انقلاب نے زور پکڑ لیا ہے اور خلیفیوں نیز سعودیوں کے بحرین میں دن گنے جاچکے ہيں۔ ادھر خلیفی بادشاہ کو انتخابات کے ڈرامے میں زبردست شکست ہوئی اور شیعہ اور سنی عوام نے اپنے انقلاب کا تحفظ کرتے ہوئے انتخابات کا بائيکاٹ کردیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

/110

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔