ابنا: فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمودعباس آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کےبعد سلامتی کونسل میں خودمختارفلسطینی مملکت کےقیام کی درخواست پیش کریں گےاوراس درخواست پرردعمل میں صہیونی فوج ، پولیس اور بارڈرسیکورٹی فورس نے، غرب اردن کےشہروں ، سڑکوں اورشہرقدس نیزمسجدالاقصی کےتمام دروازوں کےاطراف میں بڑی تعداد میں تعینات ہوکرمقبوضہ زمینوں کوفوجی اڈےمیں تبدیل کردیاہے۔محمود عباس اقوام متحدہ سےاس ادارےمیں فلسطین کی مستقل رکنیت کےخواہاں ہیں جوایک ایسابرحق مطالبہ ہے جو فلسطین پرترسٹھ سالہ قبضےکےبعد بھی عالمی برادری کےلئےایک بڑا چیلنج بنا ہواہے۔ اقوام متحدہ میں فلسطین کی رکنیت کے منصوبےکی منظوری کےلئےسلامتی کونسل کےپندرہ میں سےنوملکوں کی موافقت ضروری ہے۔ جبکہ اس وقت سلامتی کونسل کےپانچ رکن ملکوں برازیل، چین، لبنان، روس اورجنوبی افریقہ ،اقوام متحدہ میں خودمختارمملکت کی حیثیت سےفلسطین کی رکنیت کی حمایت کااعلان کرچکےہیں لیکن امریکہ نےجسےویٹوکاحق حاصل ہےپہلےہی اعلان کردیاہےکہ وہ فلسطینیوں کی اس درخواست کونامنظور کرانےکےلئےویٹوکاحق استعمال کرےگا۔فلسطین کےخودمختارملک کی حیثیت سےتسلیم کئےجانےسے اسےہیگ کی عالمی عدالت میں صہیونی ریاست کے جرائم کےخلاف مقدمہ دائرکرنےکاحق حاصل ہوجائےگا۔ اس بنا پراگرسلامتی کونسل میں فلسطینیوں کی درخواست منظور نہ ہوئی تووہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سےرجوع کریں گےجہاں وہ فلسطین کوغیررکن ناظرملک کی حیثیت سے قبول کئےجانےکی اپیل کریں گے۔اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک سوترانوےملکوں میں سےسوممالک یہ تسلیم کرتےہیں کہ فلسطین کوخودمختارملک کی حیثیت سےتسلیم کرکےاس کااس سلسلےمیں ساتھ دیں گے تاکہ اس کےبعد سےفلسطین اقوام متحدہ میں ایک ناظرملک کی حیثیت سے حاضرہوسکے۔اگرچہ بہت سےماہرین کی نظرمیں یہ ایک نمائشی اقدام ہے لیکن فلسطینیوں کےلئے یہ اسرائیل کےخلاف ایک سفارتی کامیابی ہےکیونکہ جنرل اسمبلی میں فلسطین کوتسلیم کئےجانےکی صورت میں اگرچہ فلسطین ، امریکی مخالفت کی وجہ سےاقوام متحدہ کی رکنیت حاصل نہيں کرپائےگالیکن عالمی سطح پرتسلیم کئےجانےکےبعد دنیافلسطینی مملکت اور اس کےعوام کےحقوق کےسلسلےمیں پابند ہوگی ۔.............
/169