اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ کے بیرونی کرائے کے جلادوں نے کل جزیرہ سترہ میں پرامن مظآہرین پر بھی حملے کئے لیکن ایک حملہ انھوں نے نماز عید سے لوٹنے والے ایک خاندان پر کیا اور اس دوران ایک 14 سالہ بچے کو براہ راست گیس شیل کا نشانہ بنایا جس سے یہ بحرینی بچہ شدید زخمی ہوا اور اس کو سلمانیہ اسپتال منتقل کیا گیا جو تھوڑی دیر بعد زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہوگیا۔شہید بچے کے ورثاء اور بحرینی عوام نے سلمانیہ اسپتال پہنچ کر جب بچے کی میت مانگی تو اسپتال پر قابض خلیفی جلادوں نے کسی کو اندر نہیں گھسنے دیا اور میت حوالے کرنے سے بھی انکار کیا۔ دریں اثناء خلیفی فورسز نے اسپتال کے عملے میں سے دو افراد کو گرفتار کیا جن سے وہ ان افراد کا نام و نشان معلوم کرنے کی کوشش کریں گے جو شہید کو اسپتال پہنچا کر آئے تھے۔ اس کے بعد خلیفی کرائے کے ایجنٹوں نے میت نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کا شوشہ چھوڑا تا ہم اخرکار میت ورثاء کے حوالے کرنے پر مجبور ہوئے۔اطلاعات کے مطابق شہید علی جواد احمد الشیخ مظاہرے میں شریک نہ تھا بلکہ اپنے والدین کے ہمراہ نماز عید سے گھر لوٹ کر آرہا تھا۔ شہید علی جواد احمد الشیخ کے والد نے تفصیل معلوم کرنے کی غرض سے رابطہ کرنے والے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ آل خلیفہ حکومت کے اہلکاروں نے انہیں خبردار کیا ہے کہ ذرائع کو تفصیلات بتانے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ دریں اثناء ایک اطلاع کے مطابق آل خلیفہ کی خونخوار حکومت نے 14 سالہ بحرینی شہید کے قاتل کو انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔آل خلیفہ کی غیرجمہوری حکومت نے گذشتہ چھ مہینوں میں عوام کو کچلنے کی بنا پر عید کی دن قتل کرکے عالمی سطح پر اپنی بدنامی کے بہت سے اسباب فراہم کئے تھے اور حال ہی میں اس نے بحرین کے اندر اپنے لئے حالات بہتر بنانے کے لئے بعض کوششیں شروع کررکھی تھیں تا کہ رائے عامہ ان کے حق میں ہوجائے لیکن دنیا پرستوں کے پاس عقل نہ ہونے کی وجہ سے وہ گناہ اور جرم سے توبہ اور غلطیوں کی تلافی کرنے کی بجائے مزید غلطیاں کر بیٹھتے ہیں چنانچہ خلیفی حکمرانوں کے جلادوں نے ایک بے گناہ بچے کو شہید کرکے انقلاب بحریں میں ایک نئے موڑ کو شکل دی ہے اور عوام کے غیظ و غضب اور عزم و ہمت کا حال یہ ہے کہ آل خلیفہ کے درندے بری طرح خوفزدہ ہوئے ہیں اور اب انھوں نے عوامی رائے عامہ کو ایک بار پھر دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہوئے اس بچے کو مارنے والے نقاب پوش قاتل کی گرفتاری پر انعام کا اعلان کیا ہے۔آل خلیفہ نے گذشتہ چھ مہینوں میں اتنے عجیب اقدامات سرانجام دیئے ہیں کہ اب اس کا یہ اقدام بہت عجیب نہیں لگتا لیکن ہے عجیب!!!اور وہ یوں کہ کیا حکومت کبھی اپنے حاضر سروس اہلکار کو پکڑنے کے لئے کبھی انعام مقرر کرتی ہے؟کہا جاسکتا ہے کہ وہ نقاب پوش تھا تو اس کا جواب یہ تھا کہ اس کے پاس پولیس کی وردی اور "آنسو گیس شیل" کا لانچـر کہاں سے آیا؟ کیا خلیفی حکومت کے عام کرائے کے ایجنٹ جو عام طور پر تلواروں اور کلہاڑیوں سے مسلح ہوتے ہیں اب بندوقیں اور شیل لانچر بھی استعمال کرنے لگے ہیں؟ کیا حکومت ان لوگوں کو نہیں جانتی؟ ایک سوال یہ کہ کیا آل خلیفہ چند ہی روز میں کسی بیرونی شہری کو پکڑ کر قاتل کے عنوان سے متعارف نہیں کرائے گی جس کو اس کیس کا علم تک بھی نہیں ہوگا؟ کیا وہ عوام کے تسکین پہنچانے اور ان کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے کسی بیگناہ شخص کو قربانی کا بکرا بنا کر اپنے قاتل کو بچانے کی کوشش نہیں کرے گی؟امر مسلم یہ ہے کہ 14 سالہ بچے شہید علی جواد احمد الشیخ کو آل خلیفہ کی شہادت کے بعد بحرین کی صورت حال تبدیل ہوگئی ہے اور آل خلیفہ کی مکاری اور آل سعود کی مکاری بھی اس حکومت کو بچانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے عوام اپنا انقلاب جاری رکھنے کے لئے مزيد پر عزم ہوگئے ہیں۔
جمعرات کے روز تدفین کے وقت 100 کے قریب نیوز ٹی وی چینلز کے نمائندے منامہ میں موجود تھے اور وہ اس واقعے پر آل خلیفہ حکمرانوں اور ان کے مخالف عوام کی آراء کو کوریج دے رہی تھے اور یہ بات بھی جعلی اور غاصب نجدیوں کی حکومت کے خوف کا باعث بن گئی ہے۔آل خلیفہ سے وابستہ فوریسیک ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ انہیں بچے کے بدن پر مارنے پیٹنے کے اثرات دکھائی دے رہے ہیں اور اس کی گردن پر زخم کا تعلق آنسو گیس شیل کا ہے لیکن تحقیقات جاری ہیں۔
- بحرین - تصویر: علی جواد احمد الشیخ شہادت سے قبل
- بحرین - تصویر: شہید علی جواد احمد الشیخ کا جلوس جنازہ اور تدفین
بہرصورت تصاویر دیکھ کر آپ بھی کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں:








۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110



