26 اگست 2011 - 19:30

حکومت پاکستان میں کسی ”انا ہزارے“ کے جنم سے پہلے پارلیمنٹ میں موثر احتساب بل لانے اور احتسابی عمل کو قانون کے تابع کرنے کے لئے کمربستہ ہوگئی ہے اس سلسلے میں صدر اور وزیراعظم کے درمیان مشاورت مکمل ہوگئی ہے جبکہ قومی اسمبلی کی قانون و انصاف کے لئے مجلس قائمہ سے بھی رجوع کیا جارہا ہے تاکہ احتساب کے دائرے میں ہر شخص کو بلااستثنیٰ لایا جائے۔

ابنا: وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے وزیراعظم کو احتسابی عمل سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز مسترد کردی ہے اور رائے ظاہر کی ہے کہ ایسا کرنے سے احتسابی کارروائی بے مقصد ہو کر رہ جائے گی۔ سرکردہ صحافیوں کے اعزاز میں ترتیب دیئے گئے افطار عشائیے میں وزیراعظم گیلانی نے انکشاف کیا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے پاکستان مسلم لیگ (نون) سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے اس رکن کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے رکھا ہے جس نے ان کے صاحبزادے اور پنجاب اسمبلی کے رکن سید عبدالقادر گیلانی کے خلاف بدعنوانی سے حاصل کردہ دولت سے بیش قیمت کار درآمد کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حج اسکینڈل 2010ء میں رونما ہوا جبکہ کار 2009ء میں درآمد کی گئی اس طرح عبدالقادر گیلانی رضا کارانہ طور پر تحقیقات میں شامل ہوئے اور اپنا بیان قلمبند کرایا۔ مسلم لیگ نون کے رکن سید عمرا ن شاہ کا نام لئے بغیر وزیراعظم نے بتایا کہ جب ان سے عبدالقادر گیلانی کے خلاف الزامات کا ثبوت طلب کیا گیا تو وہ اس میں ناکام رہے اور موقف اختیار کیا کہ وہ تو محض سنی سنائی بات کررہے تھے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ اس پر انہوں نے حکم دیا کہ متذکرہ رکن اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے جو شرفاء کی بلا ثبوت پگڑیاں اچھالنے کے مرتکب ہوئے ہیں ایک استفسار کے جواب میں وزیراعظم نے مونس الٰہی کے معاملے پر تبصرہ کرنے سے یہ کہہ کر گریز کیا کہ یہ ابھی عدالت میں ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے آڈیٹر جنرل کے طور پر بلند اختر رانا کے تقرر کا دفاع کیا۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ کراچی آپریشن کے سلسلے میں کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا یہ بلا امتیاز جاری رہے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔

/110