ابنا: شرکائِ کاروان نے پاراچنار میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا اور حکومت اور حکومتی اداروںکی بے حسی پر گہری تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہاں امن و امان کے قیام اور عوام کوتحفظ کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔
انھوں نے کہا کہ ٹل پاراچنار روڈ گذشتہ پانچ سالوں سے طالبان دہشت گردوں کے قبضہ میں ہے اور پاراچنار کا رابطہ اپنے ہی ملک پاکستان سے عملی طور پر منقطع ہے۔ ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ نہ ہونے کے سبب وہاں اشیائے خورد و نوش کی قلت ہے ‘ تعلیم اور صحت کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور وہاں لوگ علاج کی سہولت نہ ملنے کے سبب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں ان حالات میں حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان کی محرومیوں کے ازالہ کیلئے عملی اقدامات اٹھائے۔
................
/169