27 جولائی 2011 - 19:30

اسلام آباد…سپریم کورٹ سے ریٹائر ہونے والے جسٹس جاویداقبال کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس میں وکلاء رہنماوٴں نے بعض تند و تیز خطاب کئے۔

ابنا: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار چودھری نے کہا ہے کہ انتظامیہ مقننہ، عدلیہ کی جانب سے اختیارات کے من چاہے استعمال پرآئین پابندی عائد کرتا ہے ۔ اکتیس جولائی کو سپریم کورٹ سے ریٹائر ہوجانے والے جسٹس جاویداقبال کے اعزاز میں چیف جسٹس افتخار چودھری کی زیر صدارت فل کورٹ ریفرنس ہوا، ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین لطیف آفریدی نے کہا کہ احکامات پر عمل نہیں ہورہا، وکلاء قانون کی حکمرانی کے لئے عدلیہ کے ساتھ ہیں، سپریم کورٹ بار کی صدر عاصمہ جہانگیرنے کہا کہ جسٹس جاویداقبال اچھے جج ہیں لیکن جسٹس خورشیدبھنڈر کیس میں ان کافیصلہ متنازعہ تھا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے ججز سے بھی ہمدردی نہیں جن پر آئین سے انحراف کا الزام ہو،عاصمہ جہانگیرکا کہنا تھا کہ ایبٹ آباد کمیشن کے ارکان اپنا حقیقی خاکی رنگ دکھارہے ہیں،اس سے تحقیقات کو چیلنج بھی درپیش ہیں، جسٹس جاویداقبال نے خطاب میں کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان کشیدگی نہیں ہونی چاہیئے ، انہوں نے آئین کا تشریح سپریم کورٹ کا حق ہے،پارلے منٹ کی بالادستی کے بارے میں بھی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، نظام کے بہترین مفاد میں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیئے، چیف جسٹس نے خطاب میں کہا کہ جمہوری نظام آئینی ڈھانچے پر کھڑا ہے جس میں چیک اینڈ بیلنس ہیں، آزاد عدلیہ آئین سے انحراف کو چیک کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ 
............

/169