ابنا: چیف جسٹس نے ریمارکس دئے ہیں کہ عدالت کے کام میں سیاسی مداخلت شروع ہوگئی ہے۔ چیف جسٹس افتخارچودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے این آئی سی ایل کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہاکہ عدالت کے فیصلے پرعمل نہیں کیاجارہا۔ آخر ظفرقریشی کا قصور کیا ہے ، چیف جسٹس نے ظفرقریشی کی معطلی سے متعلق مختلف اخباری خبروں کے حوالے دئے اور کہا کہ چھ اخبارات نے لکھا کہ ظفرقریشی کی معطلی کا فیصلہ وزیراعظم سے رحمان ملک اور پرویزالہی کی ملاقات میں ہوا، ہم معاملے کی تحقیقات کے لئے ریٹائرڈ جج کی ڈیوٹی لگادیتے ہیں جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردے گا۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو کہا کہ یہ واضح رہے کہ این آئی سی ایل کیس کی تفتیش بھی ہوگی اور پیسہ بھی واپس آنا ہے، بھارت میں سپریم کورٹ نے پیسہ واپس لانے کا اقدام کیا ہے کیا ہم پاکستان میں ایسا نہیں کرسکتے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ ظفرقریشی کی معطلی کا فیصلہ واپس کرانے کیلئے حکومت کو کہیں گے ، اس پر عدالت نے سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169