ابنا: جان کیری کے دورۂ پاکستان سے قبل پاکستان کے صدر آصف علی زرداری ، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور جان کیری کے دورے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گيا۔ اس ملاقات میں یہ بھی طے پایا کہ جان کیری کو پاکستانی عوام، فوج اور حساس اداروں کی سوچ سے آگاہ کیا جائے گا اور اس بات سے بھی آگاہ کیا جائے گا کہ مستقبل میں ایبٹ آباد جیسے واقعات برداشت نہیں کیے جائيں گے۔ جان کیری کے دورۂ پاکستان سے قبل پاکستان کے تین بڑوں کی یہ ملاقات مغربی خاص طور پر امریکی حکام کے بیانات کا ردعمل سمجھی جا رہی ہے جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ مختلف مسائل خاص طور پر افغان پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں امریکہ کے ساتھ تعاون کے بارے میں پاکستانی فوج اور حکومت کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مغربی حکام یہ دعوی کرتے ہیں کہ ممکن ہے کہ فوج کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم ہو ، اسے حکومت کو اس بارے میں بتانا چاہیے تھا جبکہ پاکستانی فوج اور حکومت نے ایبٹ آباد میں بن لادن کی موجودگی سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔ اسی دوران امریکی حکام یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت اور فوج خاص طور پر آئی ایس آئی کے درمیان افغان پالیسی اور امریکہ کے ساتھ تعاون کے بارے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے اور اس سلسلے میں فیصلے کا اختیار فوج کے پاس ہے۔ اسی بنا پر امریکی حلقے پاکستانی حکومت اور فوج پر دباؤ ڈال کر انہیں افغانستان اور امریکہ کے ساتھ تعاون کے بارے میں مشترکہ پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ اس بنا پر جان کیری کے دورے سے قبل پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی کے بارے میں صدر آصف علی زرداری کا بیان امریکی حکام کے ان دعووں کا جواب بھی سمجھا جا رہا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169