ابنا: دارالحکومت طرابلس سے اطلاعات ہيں کہ اس شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے لیبیا کے انقلابیوں اور کرنل قذافی کی طرف سے کرائے پر بلائے گئے غیرملکی ایجنٹوں کے درمیان لڑائی جاری ہے البتہ طرابلس کے بعض علاقوں پر انقلابیوں نے قبضہ کرلیا ہے ۔
عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ ان غیرملکی ایجنٹوں کے ذریعہ جنھیں کرنل قذافی نے کرائے پر بلایا ہے لیبیاء کے عوام کا بڑے پیمانے پر قتل عام ہورہا ہے۔ بعض خبروں میں یہاں تک بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران لیبیاء کے ڈکٹیٹر کرنل قذافی کی سیکورٹی فورسز فوجیوں اور غیرملکی ایجنٹوں کے ذریعہ اب تک دس ہزار نہتے لیبیائي باشندے مارے جاچکے ہيں۔
عینی شاہدوں اور بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ بن غازی میں دوہزار افراد ہلاک ہوئے ہيں جن میں بیشتر کو زندہ جلادیا گیا ہے ۔ دارالحکومت طرابلس میں بھی سڑکوں پر ایسی بہت سی لاشیں دیکھی جاسکتی ہيں کہ جن کے ہاتھ پیچھے سے بندھے ہيں۔
عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ معمرقذافی نے بعض افریقی ملکوں سے ان ایجنٹوں کو اپنے ہی شہریوں کا قتل عام کرنے کے لئے بلایا ہے یہ افراد پیلی ٹوپیاں پہنے ہوئے ہيں اور لوگوں کا انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل عام کررہے ہيں۔
لیبیائی حکومت کے غیرملکی ایجنٹوں کےذریعہ شہریوں کے قتل عام میں یہ شدت معمرقذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی اور خود کرنل قذافی کے دھمکی آمیز بیانات کے بعد آئی ہے۔
اس درمیان اطلاعات ہيں کہ لیبیاء کے وزیر دفاع نے بھی کرنل قذافی کی حکومت کی وحشیانہ کاروائیوں پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفاء اور انقلابیوں کے ساتھ شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے۔
جبکہ لیبیاء کے مختلف علاقوں سے ایسی اطلاعات مسلسل موصول ہورہی ہیں کہ فوج کے جوان جوق در جوق انقلابیوں کی صفوں میں شامل ہورہے ہيں
طبروق شہر کے فوجی اڈے کے کمانڈر بریگيڈیر سلیمان محمود نے کہا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کے ہمراہ انقلابیوں کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں بریگیڈیر سلیمان محمود نے کہا کہ ہم عوام کے ساتھ ہیں۔ ماضی میں ہم قذافی کے ساتھ تھے مگر اب حالات مختلف ہيں قذافی اب ایک ڈکٹیٹر ہے۔
طبروق شہر کے مضافات میں تیل کے ذخائر ہيں فوج نے شہر کو خالی کردیا ہے اور بعض گروہوں نے اس شہر کا کنٹرول کا سنبھال لیا ہے۔
اس سے پہلے بھی لیبیاء کے کئی اعلی سفارتکاروں، وزراء اور فوجی افسران نے انقلابیوں کے ساتھ شامل ہونے کا اعلان کردیا تھا ۔
دوسری طرف کرنل قذافی کی حکومت کی بہیمانہ کاروائیوں کی عالمی برادری نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ لیبیاء کے ساتھ فریم ورک معاہدے پر اپنے مذاکرات معطل کررہی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ، افریقی یونین اور اسلامی کانفرنس تنظیم نے بھی اپنے اپنے بیانات میں کرنل قذافی کی حکومت کی انسانیت سوز کاروائیوں کی مذمت کی ہے۔
ایسی بھی اطلاعات ہيں کہ عرب لیگ نے لیبیاء کی رکنیت معطل کردی ہے۔
عالمی برادری نے لیبیا کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر عوام کا قتل عام روک دے۔
دنیا کے کئی ملکوں نے لیبیاء سے اپنے سفارتکاروں اور شہریوں کو واپس بلالیا ہے۔
برازیل، چین، کویت اور کئی دیگر ممالک نے لیبیا سے اپنے شہریوں کو واپس بلانے کے اقدامات شروع کردئے ہيں اس سے پہلے ترکی سمیت کئي اور ملکوں نے بھی اپنے اپنے شہریوں اور سفارتکاروں کو لیبیاء سے واپس بلالیا ہے۔
........
/110
27 فروری 2011 - 20:30
News ID: 228723
لیبیا کے مزید شہروں پر انقلابیوں کا قبضہ ہوگیا ہے ۔ بن غازی اور جبل الاخضر کے بعد اب لیبیاء کے دو بڑے اور اہم شہروں زوارا، اور الزاویہ پر بھی انقلابیوں نے اپنا کنٹرول سنبھال لیا ہے ۔