اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کل رات بیروت میں خطاب کرتے ہوئے رفیق حریری قتل کیس ٹربیونل کے استغاثہ ڈینیل بلمار کے بیانات کو اس عدالت کےسیاسی ہونے کا ثبوت قرار دیا۔ حزب اللہ سیکریٹری جنرل نے کہا کہ رفیق حریری قتل کیس ٹربیونل کی طرف سے عائد کردہ فرد جرم کے مقابلے میں ہمارا پہلا کام سعدی حریری کی حکومت کو ختم کرنا تھا کیونکہ سعدحریری نے ثابت کردیا تھا کہ اس عدالت اور اس کے فتنے کا مقابلہ کرنے میں وہ ناکام رہے ہیں۔سیدحسن نصراللہ نے دشمنوں کی سازشوں کے مد مقابل حزب اللہ کی ہوشمندی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ سعدحریری کی حکومت گو گرانا رفیق حریری قتل کیس کی عدالت کے ابتدائی فیصلے پر حزب اللہ کا پہلا رد عمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب اس عدالت کا تفصیلی فیصلہ اور اس کے مندرجات آئيں گے اس وقت حزب اللہ بھی اپنا آخری فیصلہ سنائے گی۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ سعدی حریری کی برطرفی کو سیاسی قتل سے تعبیر کیا جارہا ہے جبکہ اسلامی مزاحمت تحریک کا سیاسی قتل کسی کے پیش نظر نہیں ہے جو ملکی اورعلاقائی سطح پر ایک شریف تحریک شمار ہوتی ہے اور جس نے اسرائيل کے خلاف مسلمانوں میں مقابلے اور قیام کا جذبہ پیدا کیا ہے؛ اور جس نے لبنان اور لبنانی عوام کی حرمت کو بچانے کے لئے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ہم کسی ایک فریق کی حمایت کرنے کو نہیں کہہ رہے اور نہ ہی کسی جماعت کو حکومت سازی کے عمل میں شرکت سے روک رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ امریکہ اور اسرائیل کے اشاروں پر کام کرنے والے ہیں وہ وہ لبنانی عوام کی نمائندگی کی اہلیت نہیں رکھتے۔حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے لبنان میں نئی حکومت کی تشکیل کے لئے ہونے والی سرگرمیوں اور صلاح و مشوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ مارچ الائنس کی طرف سے نامزد وزیر اعظم کے منتخب ہوجانے کی صورت میں ہم ان سے مطالبہ کریں گے کہ وہ قومی حکومت تشکیل دیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے صلاح و مشورے جاری ہیں اور آٹھ مارچ سیاسی اتحاد کی طرف سے نامزد کئے جانےوالے وزیر اعظم کے بار ےمیں جلد ہی کسی نتیجے پر پہنچ جائيں گے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نےکہا ہے کہ اگر ان کی جماعت کے نامزد امیدوار کومطلوبہ اکثریت مل گئی تو وہ قومی حکومت تشکیل دیں گے اور وہ کسی جماعت کو حکومت سازی کے عمل میں شرکت سے نہیں روک رہے ہیں۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ اگر ان کی جماعت کے نامزد امیدوار کومطلوبہ اکثریت مل گئی تو وہ قومی حکومت تشکیل دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اہلسنت کے دباؤ پر مبنی خبریں غلط ہیں کیونکہ مخالفین کا ہدف کسی فرقے اور دھڑے کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ وہ لبنان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کا کہ وہ ایسی حکومت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو مکر و فریب سے دور ہو۔ حزب اللہ کے سربراہ نے ولید جنبلاط کے 8 مارچ الائنس میں شمولیت کو شجاعانہ اور لبنان کے مفاد میں قرار دیتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے تمام لبنانی دھڑوں کا احترام کئے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئی کابینہ کو ہر طرح کے معاندانہ رویہ اختیار کرنے سے گریز کرنا پڑے گا۔ سید حسن نصر اللہ نے لبنانی کے سابق وزیر اعظم عمر کرامی کو ایک اچھا اور قابل قدر انسان قرار دیا اور ان کی توہین کرنے والوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمر کرامی ایک اچھے انسان ہیں اور انھوں نے خود کو وزير اعظم نامزد نہیں کیا اور نہ ہی کسی سے انھوں نے اس بات کی درخواست کی ہے اور نہ ہی انھوں نے داخلی اور علاقائی سطح پر کوئی سیاسی جماعت تشکیل دی ہے چنانچہ ایسے اچھے انسان پر بے بنیاد الزام لگانا انسانیت کے خلاف ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ عمر کرامی پر بے بنیاد الزام عائد کررہے ہیں ان میں کچھ وہ ہیں جو لبنان کی عدالت میں رشید کرامی کے قتل کے ملزم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی مناسب شخص نہ ملا تو عمر کرامی کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے آئیں اور ملک کی انتظامی ذمہ داری اپنے دوش پر لیں۔یاد رہے کہ لبنان کی موجودہ حساس صورت حال میں اس ملک کی مزاحمتی تحریک امریکہ اور صہیونی ریاست کے سیاسی اور تشہیراتی حملوں کے مقابلے میں اپنے ملک کے وقار و شرف کا بھرپور دفاع کررہی ہے۔ دوسری طرف سے حزب اللہ کے ایک اور سینئر عہدیدار شیخ نبیل فاروق نے بھی لبنان کے سابق وزیر اعظم کے قتل کے بارے میں بنائي گئي بین الاقوامی عدالت کو صہیونی عدالت قراردیتے ہوئے کہا کہ ہم اس راستے صہیونی ریاست کو لبنان میں اثر و رسوخ نہیں بڑھانے دیں گے۔ شیخ نبیل فاروق نے کہا کہ تمام پس پردہ اقدامات سے صاف ظاہر ہوگیا ہے کہ یہ عدالت اسرائیلی مفادات کے لئے کام کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس عدالت کی پہلے دن سے ہی کوئي قانونی حیثیت نہيں تھی اس کے فیصلے پر ہیگ، نیویارک یا کہیں اور عمل درآمد ہوسکتا ہے لیکن لبنان میں اس کے نفاذ کے لئے کوئي جگہ نہيں ہے۔ شیخ نبیل فاروق نے کہا کہ اگر یہ عدالت ہمارے خلاف ایک بین الاقوامی ہتھیار کے طور پر ابھر کے سامنے آئے گی تو ہم اس کے سامنے خاموش نہیں بیٹھیں گے اور اس عدالت کے ذریعے لبنان میں صہیونی ریاست کے اثر و رسوخ کا یوں ہی تماشا نہیں دیکھیں گے۔
..............
/110