17 ستمبر 2010 - 19:30

کوئٹہ میں شیعیان اہل بیت (ع) کی ٹارگٹ کلنگ اور منصوبہ بندی شدہ نسل کشی کے خلاف اس شہر کے ہزاروں باسیوں نے احتجاجی اجتماع بپا کیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورت کی مطابق کوئٹہ میں سرکاری وعدوں اور دعوؤں کی باوجود شیعیان اہل بیت (ع) کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بند نہ ہونی کی بنا پر اہل تشیع نے ایک عظیم اجتماع منعقد کرکے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی فرائض منصبی پر عمل کرتے ہوئے جرم کے خلاف سزا کا معطل شدہ نظام بحال کرکے سینکڑوں شہیدوں کے دندناتے پھرنے والے قاتلوں کو گرفتار کرکے انہیں سزا دے اور دہشت گردی کی کاروائیاں روک کر عوام کو امن و سکون کی فضا فراہم کرے۔
یہ اجتماع کوئٹہ کے مشہور علاقے "علمدار روڈ" پر منعقد ہوا جس میں ہزاروں شیعیان اہل بیت (ع) نے شرکت کی اور کوئٹہ کے دو ائمہ جمعہ حجج اسلام غلام مہدی نجفی اور سید ہاشم موسوی سمیت مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ امین شہیدی، مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی رہنما او بلوچ عالم دین علامہ مقصود علی ڈومکی، جناب قیوم نظر چنگیزی، حاجی طاہر نظری، سید مسرت حسین حسینی (بنگش) اور دیگر راہنماؤں نے خطاب کیا۔
اجتماع کی تفصیل اور تصاویر کی وصولی کی توقع ہے۔

.........

/110

اپڈیٹ

تفصیل از شیعیت نیوز

کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاجی جلسہ   
کوئٹہ میں گذشتہ کئی ماہ سے جاری ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف علمدارروڈ پر احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔شیعت نیوز کے نمائندے کے مطابق کوئٹہ میں گذشتہ کئی ماپ سے جاری ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ اور نسل کشی کے خلاف آرگنائزنگ کمیٹی برائے شہدائے بلوچستان ،اور مجلس وحدت مسلمین سمیت آئی ایس او اور دیگر شیعہ مذہبی جماعتوں کی جانب سے اتوار کے روز مورخہ چار جولائی کو احتجاجی  جلسہ منعقد کیا گیا۔جلسہ سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری علامہ امین شہیدی،علامہ غلام مہدی نجفی،علامہ مقصود ڈومکی،سید مسرت آغا،شہدا آرگنائزنگ کمیٹی بلوچستان کے چئیر مین حاجی عبد القیوم چنگیزی،حاجی طاہر نظری ،فدا حسین نوشاد اور عامر عباس طوری نے خطاب کیا۔
احتجاجی جلسہ میں ہزاروں شیعیان حیدر کرار نے شرکت کی اور کوئٹہ میں مسلسل جاری ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ اور نسل کشی کے خلاف شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی،اس موقع پر شرکائے جلسہ نے ہاتھوں میں دہشت گردی کے خلاف نعروں پر مبنی پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جبکہ لبیک یاحسین علیہ السلام کے سرخ بینرز اور سرخ پرچم بھی بلند کئے ہوئے تھے،شرکائے جلسہ نے شہدائے ملت جعفریہ سے اظہار عقیدت کے لئے سروں پر سرخ پٹیاں باندھ رکھی تھیں جن پر شہادت سعادت،شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات کے عقیدت مندانہ اشعار آویزاں تھے۔
احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گذشتہ دنوں ملت جعفریہ کے مطالبات کو تسلیم کرنا شہدائے ملت جعفریہ کے پاک و پاکیزہ خون کی تاثیر کے سبب ہی ممکن ہوا لیکن دوسری جانب کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سمیت طالبان دہشت گردوں کی جانب سے دو جولائی کو عبد العلیم کو شہید کرنا حکومت کے لئے چیلنج ہے ۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کی کاروائیاں امت کے لئے ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہیں حکومت کو چاہئیے کہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی اور کانگریسی ایجنٹوں طالبان دہشت گردوں کے خلاف مؤثر اقدامات کئے جائیں ،بصورت دیگر ملت جعفریہ اپنے مطالبات کی منظوری پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں اپنے احتجاج کا دائرہ کار وسیع کر دے گی اور مذاکرات کی بجائے فیصلوں کو سڑکوں پر کرنے کو ترجیح دے گی۔
رہنماؤں نے کہا کہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سمیت طالبان دہشت گردوں کو جو کہ بلوچستان میں مذہبی منافرت پھیلانے میں مصعوف عمل ہیں ان کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے اور فرقہ واریت کرنے والی تمام تنظیموں کی نقل و حمل کی باقاعدہ نگرانی کی جائے ،انہوں نے کہا کہ عوام کو ان کا آئینی حق یعنی جان و مال کی حفاظت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ،رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گرد عناصر جو کہ ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں ان کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور ان کے پس پردہ عناصر اور آقاؤں کو بے نقاب کیا جائے جو مملکت پاکستان کو کمزور کرنے کے در پہ ہیں۔
رہنماؤں نے گذشتہ دنوں سانحہ داتا دربار کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ داتا دربار میں مقامی دہشت گرد گروہ جو کہ کالعدم ہیں ملوث ہیں اور پنجاب حکومت دہشت گردوں کی سرپرستی کر ہی ہے جو کسی بھی صورت قابل معافی گناہ نہیں ہے،اس موقع پر شرکائے جلسہ نے لبیک یا حسین علیہ السلام،مردہ باد امریکہ،مردہ باد اسرائیل،دہشت گردی نامنظور،فرقہ واریت مردہ باد،شیعہ سنی اتحاد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔