اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان کے 3گرفتارشدت پسندوں نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں خود کش حملوں کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ رقم دے رہی ہے اور افغان سیکرٹ ایجنسی کے رابطوں کے ذریعے 68کروڑ روپے(680ملین)دے چکی ہے ۔3رکنی گینگ نے اعتراف کیا ہے کہ اس کا تعلق ان افراد سے ہے کہ جس کو ملک میں ”شریعت کے نفاذ“ کے نام پر ”جمہوری پاکستان کو عدم استحکام“ کا شکار کرنے پر مامور کیاگیا ہے۔
ایجنسی کے اہلکاروں کو ایک ایسا رابطہ ملا جو انعام کے بدلے مخبری پر تیار ہے اور جس کے نتیجے میں خرم اشتیاق، غلام مصطفے اور شمیم کی گرفتاری عمل میں آئی یہ افراد بیت اللہ محسود کے نائب قاری حسین کے ماتحت کام کررہے تھے تینوں کو سال رواں میں 13اگست کو اس وقت گرفتار کیاگیا جب وہ ٹارگٹ کے گرد چکر لگا رہے تھے شدت پسندوں کو 2خودکش جیکٹس 70 کلو گرام دھماکا خیز مواد اور ڈیٹونیٹرز سمیت رنگے ہاتھوں گرفتار کیاگیا تھا
ملزمان بہت سخت جان ثابت ہوئے انکشاف اور اعتراف میں بہت وقت لیا انہوں نے انکشاف کیا کہ بیت اللہ محسود کا نمبر2قاری حسین3 معاونین فرخ عثمان عرف شاہ جی ، طیب عرف بابا اور حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی تربیت دینے والے استاد کی مدد سے کام کررہا ہے ۔
لیڈر قاری حسین خود کش بمبارتیار کرتا اور انہیں پاکستان بھر میں بھیجتا ہے وہ گروپ کیلئے ”را“ سے فنڈز کا انتظام بھی کرتا ہے جو افغان ایجنسی RAM(رام ) کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے فرخ عثمان قاری کے نائب کے طورپر کام کرتا ہے اور اس سیٹ اپ کی نگرانی کرتا ہے جو عام طور پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں حملوں کیلئے قائم کیاگیاہے
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ لاہور ہائیکورٹ، ماڈل ٹاؤن، نیول وار کالج، ایف آئی اے بلڈنگ اور سرگودھا میں پی اے ایف بس پر خود کش حملوں کا ماسٹر ما ئنڈ وہی تھا ۔طیب عرف بابا زیادہ تر راولپنڈی اسلام آباد کو ڈیل کرتا ہے آبپارہ مارکیٹ اور میریٹ ہوٹل پر دھماکوں کے پیچھے یہی شخص تھا تیسرا آدمی جو استاد کے نام سے مشہور ہے بم بنانے کا ماہر ہے بتایا جاتا ہے کہ وہ بھارتی نژاد ہے گرفتار ہونیوالے 2افراد شمیم عالم عرف سہیل عرف کاشف عرف انکل اور خرم اشتیاق عرف ابراہیم ٹی ٹی پی کے متحرک رکن تھے اور براہ راست استاد کی نگرانی میں کام کرتے تھے ۔
شمیم سہولت کار تھا اس کا کام قاری حسین اور طیب عرف بابا کے ایماء پر خودکش بمباروں میں رقوم تقسیم کرنا تھا تعلیم یافتہ اور خوش پوش شہری دکھائی دینے کے باعث ٹارگٹ ایریا کی ریکی کا ایک اور اہم کام بھی اسے سونپا گیا تھا اس کے اندر شہر کے لوگوں سے گھل مل جانے کی صلاحیت موجود ہے خرم اشتیاق عرف ابراہیم اعلیٰ تربیت یافتہ شدت پسند ہے اس کاکام کارروائی مکمل کرنے کیلئے روانگی تک خود کش بمبار کو خفیہ مقام پر رکھنا ہے ۔اس سیٹ اپ کا تیسرا آدمی ساجد وزیر ستان کے علاقے علی خیل کا رہائشی ہے یہ بات یقینی نہیں کہ اس کی خدمات کو استعمال کیاگیا ہے یا ابھی محفوظ رکھا گیا ہے۔
ایک اور ٹیم جو فرخ عثمان عرف شاہ جی کے ماتحت کام کرتی ہے ببلو ،ریحان، غلام مصطفے عرف آصف (تیسرا گرفتار ملزم)اور عبدالرحیم پر مشتمل ہے ببلو کا کام آخری وقت میں دھماکا خیز مواد فراہم کرناہے جب خود کش بمبار ”مقدس کارنامے “کیلئے حتمی طور پر تیار ہوتا ہے۔کٹرجہادی غلام مصطفے اور عبدالرحیم حفاظت کاکام انجام دیتے ہیں اور خیال رکھتے ہیں کوئی دغا نہ کرے اورپیٹھ نہ دکھاجائے ایسے میں صرف ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ اسے اگلے جہان پہنچا دیا جائے ۔
ٹیم کے ارکان نے بتایا کہ 2مرکزی ملزموں کو مشرف دور میں گرفتار کیا گیااور دونوں کے سر کی قیمت 50 ,50 لاکھ ڈالر مقرر تھی۔مگر انعامی رقم ان اہلکاروں جن کی کاوشوں پر یہ ملزم گرفتار ہوئے کو دینے کے بجائے 2بڑی ایجنسیوں میں تقسیم کردی گئی ٹیم ایک عرصے سے شدت پسندوں کا سراغ لگانے پر کام کررہی تھی مگر وہ ایک مڈل مین کے ذریعے ملزم تک جا پہنچی جو مزید کام کیلئے بھی تیار ہے مگر ”اسی صور ت میں اگر پکڑنے کا انعام اسے دیا جائے“ ۔ ٹیم کا دعویٰ ہے کہ وہ قاری حسین اور اسکے گینگ تک پہنچ سکتے ہیں اور پاکستان میں خود کش حملوں کا خطرہ 90فیصد تک کم کیا جاسکتا
........
152/