17 مئی 2010 - 19:30

کنکریٹ کی بلند مضبوط عمارتیں مٹی کا ڈھیر بن چکی ہیں۔۔ملک کے جنوبی اور شمالی حصے کو ملانے والا پل مکمل طور پر تبا ہ ہوگیا اورشاہراہیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکی ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شدید زلزلے کے بعد چھوٹے جھٹکوں کی وجہ سے لوگوں نے رات سڑکوں پر گذاری۔زلزلے کے بعد بحر الکاہل میں آنیوالے سونامی کی لہریں جاپان کے ساحلی علاقے سے ٹکراگئی ہیں جہاں سے ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہورہے ہیں ۔ چلی میں شدید زلزلے نے معیشت اور انفرا اسٹرکچر کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے ۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق چلی میں مضبوط بلڈنگ اسٹینڈرڈز کی وجہ سے بحر الکاہل میں آنیوالے8.8 شدت کے زلزلے سے زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا ۔ تاہم اس کے باوجود تباہی و بربادی کے مناظر ہر جگہ دیکھے جاسکتے ہیں زلزلے کے مرکز سے قریب چلی کے ساحلی علاقوں میں زیادہ تباہی ہوئی ہے ۔زلزلے کے نتیجے میں پیدا ہونیوالی سونامی کی بلند لہروں سے جوآن فرنانڈس جزیرے اور دیگر ساحلی علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ بڑی تعداد میں عمارتیں ، پل اور شاہراہیں تباہ ہوگئیں اور سڑکوں پر گاڑیاں الٹ گئیں ۔

تلکا اورپارالہ میں کئی اسپتالوں کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے تین سو سے زائد افراد ہلاک اور بیس لاکھ افراد متاثر ہوئے جبکہ پندرہ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے ۔سان تیاگو انٹرنیشنل ایئر پورٹ بھی بند ہے ۔8.8 شدت کے زلزلے کے بعد آنیوالے آفٹر شاکس کی وجہ سے لوگ انتہائی خوف زدہ ہیں ۔زلزلے کے بعد لوگوں نے پہلی رات آفٹر شاکس کے خطرے کی وجہ سے سڑکوں اور کھلے مقامات پر گذاری ۔

 گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ریکٹر اسکیل پر تقریبا پچاس آفٹر شاکس ریکارڈ کئے جاچکے ہیں ۔زلزلے کے جھٹکے چلی کے پڑوسی ملک ارجنٹائن میں بھی محسوس کیے گئے جہاں اس کی شدت6تھی ۔ ارجنٹائن میں زلزلے سے دو افراد ہلاک ہوئے اور کئی گھروں کو نقصان پہنچاہے۔ 

 /152