اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی ماہر اور سیاسی تجزیہ کار نے عالمی برادری کیجانب سے ایرانی سائنسدان شہید فخری زادہ کے قتل کی کھلی طور پر مذمت نہ کرنے کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سفارت کاری میں زیادہ سے زیادہ سرگرم ہونے کی ضرورت ہے اور عالمی برادری کو یہ قبول کرنے پر مجبور کرنا ہے کہ دہشت گردی کی مذمت کی جاتی ہے۔
مہدی ذاکریان نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری کو پہلے جنرل سلیمانی اور پھر اس کے بعد فخری زادہ کے قتل کی واضح طور پر مذمت کرنی ہوگی کیونکہ جنرل سلیمانی کے قتل کیس میں ایران کے ایک سرکاری عہدیدار نے عراقی سرکاری عہدیدار کی باضباطہ دعوت پر عراق کا دورہ کیا اور اسی سرزمین میں دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل کیا گیا اور یہ ایسے حال میں ہے جب سرکاری عہدیدار قانونی طور پرمحفوظ ہیں۔
ذاکریان نے کہا کہ دہشتگردی حملہ؛ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اب تک کسی فرد یا گروہ نے فخری زادہ کیخلاف دہشتگردی حملے کی ذمہ داری تسلیم نہیں کی ہے تا ہم بین الاقوامی برادری کو واضح طور پر اس حملے کی مذمت کرنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو بین الاقوامی برادری کو کسی دہشت گردانہ اقدام کی مذمت پر قائل کرنے کے لئے سنجیدہ اور موثر اقدام کی ضرورت ہے۔
ذاکریان نے بائیڈن کے صدرات کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ سمجھوتے و نیز ایران کو جنگ پر اکسانے کیلئے فخری زادہ کے قتل سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں انہیں ایران کے سیاسی نظام سے واقفیت حاصل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا کسی بھی قسم کا اقدام اجتماعی خرد اور منظم حساب کتاب پر مبنی ہوگا۔
واضح رہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانی سائنسدان محسن فخری زادہ کو 27 نومبر بروز جمعہ تہران میں ایک دہشتگردانہ حملے میں شہید کر دیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲