7 نومبر 2020 - 20:13
انگریزی شیعہ کون ہیں؟ پندرہویں قسط

یہ ایک تسلیم شدہ امر ہے کہ آج کے عالم اسلام کی مصلحت اتحاد اور یکجہتی، ہم دلی اور وحدت ہے، تاکہ پورا عالم اسلام کے تمام ممالک ایک محاذ میں شانہ بشانہ دشمنوں کے بڑے اور خطرناک شیطانی محاذ سے نمٹ سکیں؛

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ "ہمارے ہاں ایسے کئی لوگ ہیں جو شاید انگریزی اداروں سے وابستہ نہ ہوں لیکن ان کے اعمال و افعال اور اقوال سے بہرصورت تشیع کی بنیادوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور ان لوگوں کو مدد مل رہی ہے جو تشیّع کے زندہ پائندہ مذہب کو ایک مردہ اور خرافہ پرست مذہب میں تبدیل کرنے کے درپے ہيں جن کو دین اور عالمی سطح کے حقائق کے پیش نظر اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا چاہئے۔
کچھ لوگ ولایت فقیہ، اسلامی جمہوریہ ایران، شیعہ مرجعیت اور اتحاد بین المسلمین کے خلاف نبرد آزما ہیں چنانچہ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے تانے بانے انگریزیت یہ امریکیت کے ساتھ جاملتے ہیں اور امریکی اور برطانوی لابیاں ان کی حمایت بھی کرتے ہيں اور انہیں نہ تو تکفیریوں کی طرف سے کوئی خطرہ رہتا ہے اور نہ ہی حکومتیں ان کے خلاف کوئی اقدام کرتی ہیں؛ جبکہ اتحاد و یکجہتی کے داعی راہنماؤں اور تنظیموں پر ہر وقت سرکار کی تلوار لٹکی رہتی ہے جبکہ وہ تکفیریوں کے نشانے پر رہتے ہیں۔
بین الاقوامی امور کے تجزیہ نگار اور سپاہ پاسداران میں رہبر کے نمائندے کے مشیر اعلی جنرل ید اللہ جوانی ایکنا خبر ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے انگریزی تشیع کے بارے میں کہتے ہیں:
• انگریزی فرقے کی علامت یہ ہے کہ اس کے پیروکار چاہتے ہوئے یا حتی نہ چاہتے ہوئے لندن سے کچھ وابستگی ضرور رکھتے ہیں اور شاید نہ چاہتے اور نہ جانتے ہوئے بھی دشمن کی بساط پر کھیلتے نظر آتے ہیں؛ انہیں انگریزی حکومت کی سیاسی اور مالی امداد بھی حاصل رہتی ہے اور ان کی منصوبہ بندیوں میں پس پردہ یا کبھی حتی پیش پردہ ـ انگریزوں اور امریکیوں کا نقش پا دکھائی دیتا ہے۔
• لندنی شیعہ اور امریکی سنی کی اہم ترین علامت یہ ہے کہ ان کا نقطۂ نظر اور موقف ہمیشہ بوڑھے سامراج، خبیث انگلستان یا شیطان اکبر امریکہ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور ان کی اپنی پالیسیوں میں یا تو شیطانی طاقتیں آشکارا فعال ہوتی ہیں یا پھر ان میں اسلام دشمن طاقتوں کے لئے کردار ادا کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔
• پوری تاریخ میں، مسلم دنیا میں "تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو" انگریزی حکومت کی دائمی پالیسی کا دائمی اصول رہا ہے۔ اگر ہم انگریزی شیعوں کے نام سے مشہور ٹولوں کے بیانات اور مواقف کا جائزہ لیں تو دیکھ لیتے ہیں کہ ان کی ہر بات اور ہر عمل عالم اسلام کو تفرقے سے دوچار کرتی ہے اور موجودہ اختلافات میں اضافہ کرتی ہے۔
• لندنی شیعہ بعض اشتعال انگیز موضوعات کو ہوا دے کر اور بعض افعال و اعمال کا ارتکاب کرکے شیعہ-سنی کے اختلافات کو شدت دیتے ہیں اور یہ مسئلہ بڈھے استعمار کی پالیسیوں کے عین مطابق ہے؛ اور وہ ان ٹولوں کے ان اقدامات کے سائے میں، عالم اسلام میں اپنے ناجائز مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
• آج اہل سنت کے پیروکار کہلوانے والے تکفیریوں اور سلفیوں کو بھی ـ بطور امریکی سنی ـ اور شیعہ کہلوانے والے انتہاپسند اور تکفیریوں کو بھی ـ بطور انگریزی شیعوں ـ مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ اور برطانیہ، کی ہمہ جہت مدد و حمایت حاصل ہے؛ اور جو امریکی سنی ہیں ان کے تشہیری ٹی وی چینلوں کو امریکہ اور اس کے حواریوں کی حمایت حاصل ہے اور انگریزی شیعوں کے تشہیری چینلوں کو برطانیہ کی حمایت حاصل ہے گوکہ امریکہ ان کی حمایت میں بھی برطانیہ سے پیچھے نہیں ہے؛ گوکہ وہ اپنے علاوہ اپنے عرب حواریوں سے ـ بطور خاص سعودی عرب ـ سے داداگیری کرکے ان چینلوں کو مالی امداد فراہم کرتا ہے۔
• یہ ایک تسلیم شدہ امر ہے کہ آج کے عالم اسلام کی مصلحت اتحاد اور یکجہتی، ہم دلی اور وحدت ہے، تاکہ پورا عالم اسلام کے تمام ممالک ایک محاذ میں شانہ بشانہ دشمنوں کے بڑے اور خطرناک شیطانی محاذ سے نمٹ سکیں؛ چنانچہ اس میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ جو لوگ لندنی یا انگریزی شیعہ یا امریکی سنی کے طور پر دشمن کے تنخواہ دار یا بےتنخواہ گماشتے بنے ہوئے ہیں، ان کا کردار اس کے بالکل برعکس ہے جو وحدت و یکجہتی پر ضرب لگا رہے ہیں اور جو پرچم انھوں نے سنبھالا ہوا ہے وہ افتراق و انتشار کا پرچم ہے"۔ (26)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد
۔۔۔۔۔۔۔۔

26۔ اس حصے میں بریگیڈیئر جنرل ڈاکٹر ید اللہ جوانی، کے خطاب [بحوالہ قدس آنلائن 12 جنوری 2015ع‍] سے استفادہ کیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲