اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کینیڈا کے وزیر خارجہ اسٹیفن ڈیون نے اوٹاوا یونیورسٹی میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ کینیڈا نے دو ہزار بارہ میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کئے جس کا اب تک کوئی مثبت نتیجہ نظر نہیں آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کی خواہشمند ہے، اس لئے کہ تعلقات کے منقطع ہونے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ستمبر دو ہزار بارہ میں کینیڈا کے اس وقت کے وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر کی حکومت نے ایران کو اسرائیل کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے تہران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے تھے۔
اسٹیفن ڈیون نے جو جسٹن ٹروڈو کی قیادت میں کینیڈا کی نئی حکومت میں وزیر خارجہ ہیں، اپنے اس خطاب میں کہا کہ تہران میں کینیڈا کا سفارتخانہ تین سال سے بند ہے، اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوا ہے؟ انھوں نے کانفرنس کے شرکاء سے سوال کیا کہ کیا یہ صحیح ہے کہ ہم ایران میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے اٹلی کا سہارا لیں؟ انھوں نے کہا کہ ہمیں تہران میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھولنا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ کینیڈا کی جانب سے ایران کا یک جانبہ بائیکاٹ جاری رہنا بےنتیجہ ہے اور کینیڈا کے عوام اور تاجروں کو اس کا نقصان پہنچے گا۔
قابل ذکر ہے کہ کینیڈا کے وزیر خارجہ نے گزشتہ چھے مارچ کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کینیڈا کی بعض پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲