4 جون 2021 - 10:12
بچوں کے قاتل، رشوت خوار، جھوٹ و فراڈ کے ماہر اور دھشتگردی کی حامی نیتن یاہو کے اقتدار کا خاتمہ

صہیونی ریاست کے وزیر اعظم ، جو 15 سال سے مقبوضہ فلسطین میں برسر اقتدار تھے، بدعنوانی، جرائم اور دہشت گردی کی حمایت کے ریکارڈ کے ساتھ اقتدار کی کرسی سے معزول کردیئے گئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو ، جنہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کے آغاز سے ہی فلسطینی عوام کے خلاف بہت سارے جرائم کا ارتکاب کیا ہے ، کو کل (جمعرات) معزول کردیا گیا۔

اخبار " العربی الجدید " نے آج بنیامین نیتن یاھو کی جرائم بھری سرنوشت سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی جس کا آغاز اس طرح سے کیا:
نیتن یاھو اسرائیل کے صرف ایک سیاستدان ہی نہیں تھے کہ جنہوں نے اسرائیل کی تاریخ میں سب سے زیادہ اس غصبی ریاست پر حکومت کی اور پندرہ سال وزارت عظمیٰ کے عہدے پر رہے بلکہ وہ ایک بڑے جنگجو بھی تھے کہ انہوں نے اپنے اس دورے حکومت میں تین بار غزہ پر خونریز چڑھائی کی اور وہ ایک چالاک سیاست باز بھی تھے کہ انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل کر کے چند عرب ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے میں کامیابی حاصل کی جس کی بنا پر ڈونلڈ ٹرمپ نے "صدی کی ڈیل" نامی معاملہ انجام دے دیا۔
قطری اخبار نے مزید لکھا ہے کہ بدعنوانی کے الزامات کے باوجود نیتن یاہو نے ہر دوسرے سیاستداں سے زیادہ حکومت کی کرسی سے چپک کر تل ابیب کے سیاسی استحکام کو متزلزل کر دیا یہاں تک کہ گزشتہ دو سالوں میں تل ابیب میں چار مرتبہ صدارتی انتخابات منعقد کروائے گئے اور ہر بار نیتن یاہو اتنی سیٹیں نہیں لا پائے کہ وہ اکثریت میں آ کر حکومت بنا سکیں لیکن قدرت کا نشہ اور اپنے جرائم کی سزا کا خوف انہیں اقتدار کی کرسی سے دور نہیں ہونے دے پا رہا تھا لیکن آخر کار کل صبح مخالف پارٹیاں انہیں سرنگوں کرنے میں کامیاب ہو گئیں اور نیتن یاہو کا ایک مرتبہ غصبی وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہونے کا خواب دھندلا رہ گیا۔

نیتن یاہو کی کہانی
العربی الجدید نے لکھا ہے: نیتن یاھو 21 اکتوبر 1949 کو تل ابیب میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ "بنٹسیون نیتن یاہو" کے دوسرے بیٹے تھے جو صہیونی مورخ اور "اصلاحی تحریک" کے مفکرین میں سے ایک تھے جسے "Zeev Jabotinskij" نے عالمی صہیونیت کے طور طریقے کے خلاف جنم دیا گیا تھا۔ ایسی تحریک جو اسرائیل کی تشکیل سے پہلے دو دھشتگرد گروہوں "لیحی" اور "اتسل" کی شکل میں فلسطینیوں کا قتل عام کرنے میں معروف تھی اور اس کی بدترین کاروائی "دیر یاسین" کا اپریل 1949 میں قتل عام کا واقعہ تھا۔

"دیر یاسین" کے قتل عام کی تصویر


اس تحریر میں مزید آیا ہے کہ اس تنظیم کے اراکین نے صہیونی ریاست کی تشکیل کے بعد ایک "حیروت" (حریت) نامی دائیں بازو کی سیاسی تحریک کو جنم دیا کہ جو بعد میں نیتن یاہو کی صدارت میں لیکوڈ پارٹی کا بنیادی ستون قرار پائی۔
اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ نیتن یاھو کے اقدامات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے والد سے متاثر تھے ، اور جب نیتن یاہو فوج میں شامل ہوئے تو، وہ اس کی سب سے مشہور یونٹ ، "سیرٹ میٹکل" میں شامل ہوگئے ، جبکہ ان سے پہلے ان کے بڑے بھائی "یوناتن" اس یونٹ میں شامل ہو چکے تھے وہ شخص جو 1976 میں اغواہ شدہ اسرائیلی طیارے کو آزاد کرنے کے آپریشن کے دوران مار دیا گیا وہ یوناتن ہی تھا۔
العربی الجدید نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ نیتن یاہو کا چھوٹا بھائی بھی اس یونٹ میں شمولیت رکھتا ہے مزید لکھا کہ نیتن یاہو فوج میں خدمات انجام دینے کے بعد امریکہ چلے گئے جہاں انہوں نے اپنی تعلیم کو مکمل کیا۔
1984 میں، وہ اقوام متحدہ میں صیہونی حکومت کا نمائندہ بن گئے اور 1988 میں اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد لیکوڈ پارٹی میں شامل ہوگئے۔ وہ پارٹی جو اس وقت اقتدار میں تھی۔
اس اخبار نے مزید لکھا ہے کہ 1992 میں لیکوڈ پارٹی کے شکست کھانے اور اسحاق رابن کی سربراہی میں لیبر پارٹی کے اقتدار میں عروج کے بعد نیتن یاہو نے لیکود پارٹی اور حزب اختلاف کی قیادت سنبھالی اور اسحاق شامر کی جگہ لے لی۔
نیتن یاہو نے رابن کے قتل کے ٹھیک چند مہینوں بعد 1996 کے انتخابات میں، لیبر پارٹی کے رہنما شمعون پیریز پر غیر متوقع فتح کے ساتھ سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ 25 دسمبر 1996 کو نیتن یاہو کی حکمرانی کے دوران ، ان کی کابینہ کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے نیچے سرنگ کھودنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے خلاف حزب النفق (سرنگ بغاوت) کے نام سے مشہور فلسطینی جدوجہد کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ اس جدوجہد میں 63 فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے ، جبکہ 36 صہیونی فوجی ہلاک اور درجنوں مزید زخمی ہوئے۔

سرنگ کے خلاف احتجاج

اسی تحریک کے ساتھ ہی ، نیتن یاہو کے حکم کے مطابق، 25 دسمبر 1997 کو عمان میں اسرائیلی جاسوس ایجنسی (موساد) نے فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے سیاسی سربراہ "خالد مشعل" کے قتل کا منصوبہ بنایا ، لیکن وہ ناکام رہا۔

العربیہ الجدید نے مزید کہا کہ 1996 کے انتخابات میں نیتن یاھو لیبر پارٹی کے رہنما "ایہود باراک" سے الیکشن ہار گئے اور اس کے بعد "ارئیل شیرون" نے لیکوڈ پارٹی کی قیادت سنبھالی۔
2005 میں غزہ کی پٹی سے قابض فوج کے انخلا کے بعد ، شیرون اس منصوبے کی مخالفت کی وجہ سے لیکوڈ پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، لہذا نیتن یاہو لیکوڈ پارٹی کی قیادت دوبارہ اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔
اس قطری اخبار کا کہنا ہے کہ 2009 کے انتخابات میں نیتن یاھو نے "کادیما" پارٹی کی رہنما "ٹسیپی لیونی" کو شکست دی اور اپنی زندگی میں دوسری بار کابینہ تشکیل دی جو آج تک حریدی مذہبی گروہوں کی حمایت سے اقتدار میں رہی۔
العربی الجدید نے مزید کہا کہ حماس کی فتح کے بعد نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی کے خلاف محاصرے کا دائرہ تنگ کر دیا اور فلسطینیوں کا دائرہ حیات مزید کم کر دیا۔ اس دوران غزہ کے خلاف تین جنگیں لڑی گئیں اور اس کے ساتھ ہی درجنوں کشیدگیاں وجود میں آئیں۔

حالیہ جنگ میں غزہ کے رہائشی مکانوں پر نیتن یاہو کی حکومت کے حملوں کا ایک نمونہ


پہلی جنگ 2012 میں شروع ہوئی تھی، اس دوران 175 فلسطینی ہلاک اور سیکڑوں مزید زخمی ہوئے تھے۔ ان میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ دوسری جنگ 2014 میں ہوئی تھی ، جس میں شہدا کی تعداد 2139 تھی اور زخمیوں کی تعداد 11،000 سے زیادہ۔ آخری جنگ غزہ میں حالیہ جنگ تھی جو کچھ ہفتہ قبل ہوئی، جس میں 253 فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔

سیاسی میدان
لیکن سیاسی میدان میں ، قطری اخبار لکھتا ہے کہ نیتن یاھو نے نہ صرف فلسطینیوں کے ساتھ عملی طور پر کوئی امن مذاکرات نہیں کیے بلکہ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاریوں کی ترقی کی بھی حمایت کی۔ خارجہ پالیسی کے میدان میں ، ان کی کوششوں پر ایران کے جوہری پروگرام کی روک تھام پر توجہ دی گئی ہے ، جس میں انہوں نے سنہ 2015 میں امریکی کانگریس سے خطاب میں تہران کے ساتھ سابق امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کے جوہری مذاکرات کی مذمت کی تھی۔
العربی الجدید نے مزید کہا کہ اوباما کے دور میں نیتن یاھو نے جو شکست کھائی اپنے اتحادی ڈونلڈ ٹرمپ کے دوران اس کا ازالہ کر لیا کیونکہ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے باہر نکال دیا اور "صدی کی ڈیل" نام نہاد معاہدے کی نقاب کشائی کردی۔
اس اخبار نے مزید لکھا ہے، "متعدد عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا شاید نیتن یاہو کی سب سے اہم کامیابی ہے جس پر انہیں فخر ہے ، کیونکہ ان کی کابینہ نے متحدہ عرب امارات ، بحرین ، سوڈان اور مغرب کے چار ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے پر دستخط کیے۔"

العربی الجدید کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے خلاف غداری ، رشوت اور فراڈ سمیت خطرناک بدعنوانی کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد انہوں نے اقتدار برقرار رکھنے پر اصرار کرتے ہوئے اسرائیل کے سیاسی استحکام کو ہلا کر رکھ دیا۔
قطری اخبار کا مزید کہنا ہے کہ تل ابیب کے سیاسی رسم و رواج کے باوجود ، وزرائے اعظم ، نمائندوں اور سرکاری اداروں کے ملازمین پر اگر کوئی الزام عائد ہوتا ہے تو انہیں مستعفی ہونے کی ضرورت ہے لیکن نہ صرف نیتن یاہو نے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ تل ابیب کو دو سالوں میں چار مرتبہ انتخابات کے گھاٹی میں ڈھکیل دیا۔
نیتن یاہو کی حکمرانی کے دوران ، ان کی اہلیہ ، سارہ کے ساتھ ساتھ ، اس کے بیٹے ، اوونر اور یائیر کو بھی باغی ہونے کے لئے کھلا میدان مل گیا تھا ، یہاں تک کہ نیتن یاہو کی اہلیہ کابینہ کے پروٹوکول کے برخلاف عوامی معاملات میں مداخلت کریں۔
یہ بات اس حد تک آگے بڑھ گئی کہ تل ابیب کے کچھ وزراء اور جرنیلوں نے اعتراف کیا کہ سارہ نیتن یاہو فوجی کمانڈروں اور عہدیداروں کے بیانات سننے کے لئے میٹینگوں میں شرکت کرتی ہے، اور خفیہ ملاقاتیں کرنے پر زور دیتی ہے، خاص طور پر نیتن یاہو کی کارروائیوں کے دوران موساد کے سربراہوں کے زیر اہتمام اس تنظیم کے منتظمین سے خفیہ ملاقاتیں کرتی ہے۔

سارہ نیتن یاہو


............

242