1 فروری 2020 - 05:51
نہم آپریش کی مزید تفصیلات، مہینوں سے صنعا پر قبضے کی تھی تیاری، 1500 ہلاک، 1800 زخمی اور 2500 کیلومیٹر کا رقبہ آزاد

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں یمنی فوج اور رضاکار فورس کے البنیان المرصوص نامی بے نظیر فوجی آپریش کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن کے دوران 2500 کیلومیٹر مربع رقبہ آزاد ہوا، 1500 جارح ہلاک ہوئے جبکہ 1800 زخمی ہوئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں یمنی فوج اور رضاکار فورس کے البنیان المرصوص نامی بے نظیر فوجی آپریش کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن کے دوران 2500 کیلومیٹر مربع رقبہ  آزاد ہوا، 1500 جارح ہلاک ہوئے جبکہ 1800 زخمی ہوئے۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیر جنرل یحیی السریع کا کہنا تھا کہ سعودی اتحاد نے کم سے کم مدت میں دار الحکومت صنعا پر قبضہ کرنے کے لئے مہینوں تک اس آپریشن کے لئے تیاری کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ صنعا کے مشرقی علاقوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران جارحیت کے حملوں میں شدت آ گئی تھی۔ یہ ایسے حملے تھے کہ یمن کی مسلح افواج سنجیدگی سے ان کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہوئی۔  

ان کا کہنا تھا کہ جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق دشمنوں نے صنعا پر قبضے کے لئے آسان اور نزدیک راستے کا انتخاب کیا۔

یمنی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سعودی اتحاد نے اس حملے میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے 17 بٹالین اور متعدد بریگیڈ کو مختلف قسم کے ہتھیاروں سے لیس کرکے علاقے کی جانب روانہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی اتحاد نے اپنی فوج کی فضائی حمایت کی تاکہ زمین پر اس کی فوجیں آسانی سے آگے بڑھیں لیکن یمنی فوج کی میزائلوں کے خوف سے انہوں نے اپنے جنگی طیاروں کو بہت بلندی پر ہی رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے یمنی فوج پر حملے کے لئے 250 اڑانیں بھری تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یمن کے ائیرڈیفنس سسٹم فاطر نے سعودی جنگی طیاروں کو حیران و پریشان کرنے اور حملوں کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یمنی میزائلوں نے 25 آپریشن انجام دیئے۔



/129