اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق العالم کے مقامی ڈائریکٹر حسین مرتضی نے اطلاع دی ہے کہ دھماکوں کی شدت کی وجہ سےسیٹلائٹ ڈشز کا رخ بدل گیا تھا جس سے الاخباریہ ٹی وی کی نشریات بند ہوگئیں۔اس رپورٹ کے مطابق ان دھماکوں میں عمارت کو نقصان نہیں پہنچا اور عمارت کے قریب کنکریٹ کی رکاوٹوں کو تھوڑا سے نقصان پہنچا جہاں سے گاڑیاں عمارت کی طرف نہیں آسکی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق کنکریٹ کی رکاوٹوں کے قریب ایک انسانی لاش پڑی ہے جو غالبا خودکشی کرنے والے دہشت گرد کی ہے۔ شامی ٹیلی ویژن نے اس دھماکے کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ دو دھماکے در حقیقت دو خودکش کار دھماکے تھے جو گاڑیوں کو رکاوٹوں سے ٹکرا کر کئے گئے جن میں دو دہشت گرد مارے گئے اور کوئی جانی نقصان نہيں ہوا۔ ادھر کل رات کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق الاخباریہ کی نشریات چند منٹ بند رہنے کے بعد دوبارہ شروع ہوئیں اور دھماکے کے مقام کی تصویریں نشر کرکے اس چینل نے اپنا کام دوبارہ شروع کیا۔ الاخباریہ نے اپنی نشریات شروع کرکے کہا کہ دمشق میں ہونے والے دھماکے کار بم دھماکے تھے۔ تکفیری ٹولے جبہۃالنصرہ نے اس دہشت گردانہ اقدام کی ذمہ داری قبول کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
13 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 472096
دمشق کے میدان امویین میں واقع ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی عمارت کے قریب دو کار بم دھماکے ہوئے ہیں اور دھماکے کی شدت کے باعث عمارت کے اندر بعد بعض ڈش اینٹناؤں کو نقصان پہنچنے کے بعد وقتی طور شام کے الاخباریہ چینل کی نشریات بند ہوگئیں جو تھوری دیر بعد دوباری شروع کردی گئیں۔