9 ستمبر 2013 - 19:30
جان کیری کے موقف میں تبدیلی، اوباما نے اپنی بات واپس لےلی

شام پر حملے کے منصوبے سے جان کیری کی ضمنی پسپائی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گرگئی ہیں۔ ادھر اوباما نے واضح پسپائی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر شام کے ایٹمی ہتھیاروں کے سلسلے میں روسی منصوبہ نافذ ہوا تو ہم قطعی طور پر شام پر حملے کا منصوبہ روک دیں گے/ دمشق کے نواح میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال پر مبنی امریکی دستاویزات جعلی۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اگر شام کی حکومت اپنے کیمیاوی ہتھیار حوالے کردے تو شام پر حملہ نہیں ہوگا جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف رک گئیں بلکہ ان میں کمی بھی آئی اور برینٹ آئل کی قیمت 1.12 کم ہوکر 115 ڈالر تک گر گئی جبکہ امریکہ کے ہلکے تیل کی قیمت بھی 110 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔ رائٹرز نے لکھا ہے کہ دھونس دھمکیوں میں کمی آنے کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اگرچہ بقول رائٹرز کے، جنگ کا خطرہ ابھی تک موجود ہے اور شام بھی اپنے ہتھیار کسی صورت میں بھی مغرب کے حوالے نہیں کرے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ جان کیری پسپا کیوں ہوا؟ وہاں کانگریس کا اجلاس جاری ہے اور ابھی تک فیصلہ نہیں ہوسکا ہے لیکن اسی اثناء میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اگر شام کی حکومت اپنے تمام کیمیاوی ہتھیار بین الاقوامی حلقوں کے سپرد کرے تو وہ آنے والے ہفتے میں ممکنہ امریکی حملے کو روک سکتی ہے۔ کیری کے اس موقف کے بعد سوال اٹھایا گیا کہ جنگ کا ڈھول پیٹنے والے جان کیری نے اس بار سیاسی تجویز کیوں پیش کی؟ العالم کی رپورٹ کے مطابق جان کیری نے برطانوی ہم منصب ولیم ہیگ کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار دعوی کیا کہ شامی افواج نے کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں لیکن اس کے اس دعوے کا اعتبار چند ہی منٹ تک باقی رہا اور اس نے کہا: امریکہ باریک بینی کے ساتھ حساس ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتا ہے جس کے لئے فوج شام میں بھجوانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔کیری نے اس کے بعد فوری طور پر کہا: شام کے بحران کے لئے پر امن راہ حل کی ضرورت ہے اور اس کو فوجی اقدام سے حل نہیں کیا جاسکتا۔اسی اثناء میں ایک عرب تجزیہ نگار "ولید عربید" نے ایشیا نیوز ایجنسی سے بات چـیت کرتے ہوئے کہا: پرامن راہ حل پر مبنی کیری کے نئے موقف کا براہ راست تعلق اس حقیقت سے ہے کہ ایسی کوئی رپورٹ موجود نہیں ہے جو ثابت کرے کہ شامی حکومت نے کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں اور اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی بھی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ شام نے اس قسم کے ہتھیار استعمال کئے ہیں۔ انھوں نے کہا: روس نے ابتداء میں سیاسی راہ حل کی تجویز دی اور اس کے بعد کہا کہ لڑنا ہے تو پھر لڑو لیکن کیا دنیا تیسری عالمی جنگ کو برداشت کرسکتی ہے؟ انھوں نے کہا: عسکری کاروائی کی تجویز سے امریکی کانگریس کا اتفاق ایک منظرنامے کے سوا کچھ نہیں ہے کیونکہ افواج کے چیف کمانڈر اوباما ہی ہیں اور وہ خود ہی شام کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کرسکتے ہیں تا ہم کانگریس اور سینٹ کے بعض اراکین شام پر حملے اور طویل المدت جنگ کے اخراجات اٹھانے کے خلاف ہیں تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اس حملے کے بعد امریکی مفادات ثابت رہ سکیں گے؟ یہ وہی سوال ہے جو امریکہ کی رائے عامہ اور بعض اراکین کانگریس کی تشویش کا سبب بنا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا: فرانسیسی صدر نے امریکی حملے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے اور امریکہ کے باقی حلیف اس تجویز سے متفق نہیں ہیں لیکن صدر فرانسوا اولاند کو 68 فیصد کی مخالفت کا سامنا ہے اور یہ مسئلہ اس بات پر تاکید ہے کہ دنیا میں نئے قواعد سامنے آئے ہیں اور اس کے بعد امریکہ سمیت کوئی بھی ملک تن تنہا دنیا کا انتظام و انصرام چلانے کی اہلیت نہيں رکھتا۔ انھوں نے کہا: دمشق بھی 11 ستمبر کے واقعات سے استفادہ کرکے کہہ سکتا ہے کہ شام پر حملے کی صورت میں بڑی تعداد میں لوگ بھی شام میں برسرپیکار تکفیریوں کی حمایت کرسکتے ہیں اور شام کی حکومت بحران سے نکلنے کے لئے لبرل اور معتدل سنی تنظیموں کے ساتھ مذاکرات بھی شروع کرسکتی ہے۔ انھوں نے کہا: مجموعی طور پر شام کی حکومت کا تختہ الٹنا امریکی پالیسی کا اصل ہدف ہے کیونکہ شام اسرائیل کے لئے خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

اوباما نے اپنی بات واپس لی؛روسی منصوبہ نافذ ہو تو ہم حملہ نہیں کریں گےامریکی صدر اوباما نے سی این این کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شام کے کیمیاوی ہتھیاروں پر بین الاقوامی نگرانی کی روسی تجویز کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ اگر شام اپنے ایٹمی ہتھیار حوالے کردے تو عسکری اقدام کو "قطعی طور پر" روکا جاسکتا ہے۔ تاہم اوباما کا کہنا تھا کہ جنگ کی دھمکی اس موضوع کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ضروری تھی۔اوباما نے کہا: گذشتہ ہفتے جی 20 کے اجلاس کے موقع پر اس موضوع پر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ بات چیت ہوئی۔انھوں نے کہا: ہم شام کے موضوع میں سیاسی راہ حل کو عسکری اقدام پر ترجیح دیتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا: اگر کانگریس شام کے خلاف عسکری کاروائی کی مخالفت کرے تو وہ شام پر حملہ نہیں کرے گا۔لگتا ہے کہ جناب اوباما اپنی بڑھکوں والی پالیسی سے پسپا ہونے کے لئے کسی بہانے کی تلاش میں تھے جو اب انہیں مل چکا ہے اور ثابت ہوچکا ہے کہ امریکی کی یکطرفی حکمرانی کا دور واقعی اختتام پذیر ہوچکا ہے اور اب امریکہ کو ماننا پڑے گا کہ دوسرے کھلاڑی بھی اس دنیا میں ہیں جو اس کے تابع مہمل نہیں ہیں اور اب امریکہ کو دوسری کی رائے کا احترام سیکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ مشق کرنی پڑے گی۔

دمشق کے نواح میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال پر مبنی امریکی دستاویزات جعلی ادھر معلوم ہوا ہے کہ دمشق میں کیمیاوی ہتھیاروں کے سلسلے میں دکھائی جانے والی ویڈیوز جعلی تھیں اور حکومت روس کا کہنا ہے کہ ان ویڈیو دستاویزات کے جعلی پن پر مبنی متعدد قابل اعتماد ثبوت موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق روسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی ماہرین نے جنیوا کے چوبیسویں اجلاس میں ایسی معتبر دستاویزات پیش کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ریف دمشق میں کیمیاوی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے بارے میں امریکیوں کے پاس موجودہ تصاویر اور ویڈیو دستاویزات جعلی ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے: اقوام متحدہ کے جنیوا ہیڈ کوارٹر میں نو جون کو ہونے والے چوبیسیوں اجلاس کے موقع پر ماہرین کی پیش کردہ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ 21 اگست کو شامی افواج کے مبینہ کیمیاوی حملے کے سلسلے میں جو دستاویزات امریکیوں نے پیش کی ہیں وہ جھوٹی اور جعلی ہیں اور انہیں 21 اگست سے پہلے ہی تیار کیا گیا تھا۔ روسی وزارت خارجہ نے مزید کہا ہے کہ شام کے خلاف طاقت کے استعمال کی امریکی دھمکی، جنگی امریکیوں کی طرف سے جنگی منظرنامے کی تیاری اور اقوام متحدہ کو بائی پاس کرکے یک طرف طور پر حملہ، سب غیر قانونی ہے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنیوا کے اجلاس کے شرکاء نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی برادری شام پر امریکی حملے کی تائید نہیں کرتی کیونکہ شام پر جارحیت اس ملک کے اندر اور ارد گرد کے ممالک میں انسانی المیوں کا سبب بن سکتا ہے اور اس طرح کہ حملہ قطعی طور پر انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے فائدے میں ہوگا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/٭۔٭

شام پر امریکی حملہ نہ ہونے کا سب سے بڑا ہارنے والا ابوالفتنہ بندر بن سلطان آل سعود

المختار آرمی: امریکیوں کے خلاف لڑنے کے لئے 23 ہزار استشہادی تیار

علاقائی اور بین الاقوامی رد عمل/ پانچ سو میزائلوں کا رخ تل ابیب کی جانب

کیمیاوی ہتھیاروں پر بین الاقوامی نگرانی کے معنی کیا ہیں؟

شام پر حملے کے منصوبے میں امریکہ تذبذب کا شکار کیوں؟

جان کیری کے موقف میں تبدیلی، اوباما نے اپنی بات واپس لےلی