8 ستمبر 2013 - 19:30
علاقائی اور بین الاقوامی رد عمل/ پانچ سو میزائلوں کا رخ تل ابیب کی جانب

بشار اسد: ہمارے حلیف رد عمل ظاہر کریں گے/ المختار آرمی کے 23 ہزار فدائی امریکی مفادات پر حملے کریں گے/ حزب التوحید: تل ابیب پر پانچ سوا میزائلوں سے حملہ ہوگا/ صہیونی شام کے رد عمل سے ہراساں/ سعودی فضائیہ امریکہ کا ساتھ دے گی!/ شامی افواج کی ہائی الرٹ/ کانگریس فوجی اقدام کے حوالے سے تذبذب کا شکار / ایران جنگ کے شعلے بجھانے کے درپے/ ہاآرتص کا دعوی؛ بحران کے خاتمے کے لئے ایران روس مشترکہ منصوبہ/ شامی رد عمل غیرمعمولی ہوگا/ امریکہ کے حلیف محفوظ نہ ہونگے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکی جنگ پسندی اور علاقے میں امریکی، صہیونی، ترکی، سعودی اور قطری فتنہ انگیزی کا موضوع دنیا اور علاقے میں سفارتی حوالے سے زیر بحث ہے۔ ایسے حال میں کہ امریکہ، اسرائیل اور بعض علاقائی ممالک کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے متنازعہ مغربی دعوے کے بہانے شام کو حملوں کا نشانہ بنانے کے درپے ہیں اور ایران سمیت کئی ممالک سفارتکاری کے ذریعے علاقے کو نئی امریکی حماقت سے بچانے کے لئے کوشاں ہیں۔ اس اثناء میں اپنے دفاع کے لئے شامی حکام کی تیاریاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں اور دوسری طرف سے مقبوضہ فلسطین میں مقیم صہیونی جارحین پر شدید خوف و ہراس کی کیفیت طاری ہے۔ ــ بشار الاسد: ہم حمله ہوگا تو ہمارے حلیف رد عمل ظاہر کریں گے انھوں نے امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: میں غوطہ شرقیہ میں استعمال ہونے والے کیمیاوی ہتھیاروں کا ذمہ دار نہیں ہوں اور کیمیاوی ہتھیاروں کے بارے میں دکھائے گئے شواہد کافی نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا: : امریکی حملے کی صورت میں ہمارے حلیف رد عمل ظاہر کریں گے۔ انھوں نے کہا: شام پر حملے کا مقصد شامی افواج کو نشانہ بنانا اور فوجی توازن دہشت گردوں اور اسرائیل کے حق میں بگاڑنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: مجھے قطعی طور معلوم نہیں ہے کہ امریکہ شام پر حملہ کرے گا یا نہیں لیکن ہم پوری قوت کے ساتھ اس مسئلے کے لئے تیار ہیں۔ ــ شام اپنے دوستوں کے مدد سے بحران سے عبور کرے گا شامی وزير اعظم "وائل الحلقی" نے شام اپنے دوستوں ـ بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران ـ کی مدد سے ممکنہ بحران سے نمٹ لےگا اور عنقریب آخری فتح کا جشن منائے گا۔ ــ  المختار آرمی: امریکیوں کے خلاف لڑنے کے لئے 23 ہزار استشہادی تیار 

ــ حزب التوحید لبنان: پانچ صہیونی دارالحکومت پر پانچ سوا میزائلوں سے حملہ ہوگا لبنانی سیاسی جماعت "حزب التوحید العربی" نے جنگ پسندوں کو خبردار کیا ہے تو اس جماعت کی طرف سے تل ابیب کو پانچ سو میزائلوں کا نشانہ بنایا جائے گا اور حتی کہ ترکی اور بعض عرب ممالک بھی اس جماعت کے مجاہدین کے حملوں سے محفوظ نہ ہونگے اور انہیں بھی انتقامی حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔ شام اور حزب اللہ کی حلیف سنی ـ اسلامی و لبنانی جماعت "حزب التوحید العربی" کے سربراہ "وئام وہاب" نے کہا کہ شام پر امریکی حملے کی صورت ميں سب سے پہلے اسرائیلی شہروں کو میزائلوں کا نشانہ بنایا چائے گا اور بعد کے مراحل میں ترکی اور خلیج فارس کی امریکی حلیف ریاستوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔انھوں نے کہا: یہ جنگ دس لاکھ مقتولین کی جنگ ہوگی تا ہم ہمیں امید ہے کہ یہ جنگ نہ چھڑے۔ انھوں نے کہا: میرا موقف زبانی جمع خرچ یا جذباتی اعلان نہیں ہے بلکہ شام پر حملے کی صورت میں تل ابیب کو پانچ سو میزائلوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔ ــ صہیونی شام کی انتقامی کاروائی سے خوفزدہ ایک صہیونی ذریعے نے ـ جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے ـ انکشاف کیا ہے کہ اگرچہ اسرائیل شام کے بحران میں براہ راست مداخلت نہیں کررہا ہے لیکن اس کے باوجود امریکی حملے کی صورت میں شام کی انتقامی کاروائی سے تشویش میں مبتلا ہے۔ اس ذریعے نے صہیونی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ امریکہ شام پر حملے  سے کچھ گھنٹے قبل اسرائیل کو اس حملے سے آگاہ کرے گا۔ درین اثناء صہیونی ریاست نے شام کے جوابی حملوں کے خوف سے مقبوضہ فلسطین کی تمام سرحدوں پر میزائل شکن نظامات نصب کئے ہیں گوکہ یہ نظامات اس سے قبل غزہ کی آٹھ روزہ جنگ میں ناکام ہوچکے ہیں اور اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ شام کی فوجی قوت حماس اور جہاد اسلامی کی فوجی طاقت سے بہت بڑا اور پیچیدہ ہے۔ ــ سعودی فضائیہ شام پر حملوں میں شرکت کرے گی! اسرائیلی ویب بیس "دیبکا" نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے حکمران شام پر حملے کے اخراجات برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کاروائی میں براہ راست شرکت بھی کرے گا۔ دیبکا نے ـ امریکہ اور سعودی عرب میں "اپنے خصوصی" ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی فضائیہ شام پر ممکنہ فضائی حملے میں شرکت کرےگا جبکہ جنگ کے تمام اخراجات سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اور قطر برداشت کریں گے جبکہ حملوں کے لئے اپنی سرزمینوں کو بھی امریکہ کے حوالے کریں گے!!!  امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جنگ کے اخراجات بھی دیں گے اور اپنی سرزمین اور فوجی اڈے بھی امریکی افواج کے سپرد کریں گے!!"دیبکا" نے لکھا ہے کہ کیری کی بات کا مفہوم یہ ہے کہ سعودی عرب براہ راست اور عملی طور پر جنگ میں حصہ لے گا اور اس ملک کی فضائی اور زمینی حدود کے علاوہ اس کی فضائیہ بھی اس حملے میں شرکت کرے گی اور اردن میں شام یا محاذ مزاحمت کے ممکنہ انتقامی حملوں کی صورت میں، اس ملک کو بھی تحفظ دے گا۔قابل ذکر ہے کہ سعودی افواج کی قسمت میں آج تک کوئی کامیابی ثبت نہیں ہوئی ہے جبکہ ماہرین کہتے ہیں کہ ریاض کو بھی انتقامی کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس ملک کی فضائیہ انتقامی کاروائیوں کی وجہ سے شام پر کسی حملے کے قابل ہی نہ رہے۔ اور پھر حال ہی میں سعودی جاسوسی ادارے کے سربراہ بندر بن سلطان نے ضمنی طور پر روس کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ شام کی حمایت ترک نہ کرے تو ونٹر اولمپکس میں اس کو چیچن کے دہشت گردوں کی طرف سے حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔۔۔۔۔سعودی عرب، ترکی اور اسرائیل شام پر امریکی حملے کے اصل حامی ہیں؛ ترکی نے شام کے خلاف بننے والے کسی بھی عسکری اور عملیاتی اتحاد میں شرکت کرنے کا عندیہ دیا ہے اور اسرائیل امریکی کانگریس کو اوباما کے جارحانہ منصوبے کی منظوری کے لئے تیار کرنے میں مصروف ہے۔ صہیونی اخبار ہاآرتص نے لکھا ہے کہ اسرائیل نے صہیونی ادارے آئ پیک کے 250 ماہرین کو کانگریس کے اراکین سے بات چیت کرنے، لالچ دلانے اور ڈرانے دھمکانے کا مشن سونپا ہے۔ ــ شامی افواج جنگ ہائی الرٹ ڈیلی ٹیلگراف نے اپنے نامہ نگار بیل نلی کی رپورٹ میں امریکہ کے مجوزہ حملے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حکومت شام کے حامیوں اور مخالفین کا خیال ہے کہ اس حملے سے کوئی تبدیلی نہيں آئے گی۔ کیونکہ مخالفین کہتے ہیں کہ یہ حملہ بہت مختصر بھی ہے اور تاخیر سے انجام پارہا ہے اور اس حملے میں چند خالی عمارتیں منہدم ہونگی اور ناکارہ طیارے تباہ کئے جائیں گے کیونکہ شامی افواج نے اپنے تمام تر طیاروں اور عسکری سازوسامان کو متعلقہ اڈوں اور عمارتوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔بل نلی کا کہنا تھا کہ حکومت کے خیال میں بھی یہ حملہ در حقیقت بشار الاسد کا تختہ الٹنے میں امریکہ کی ناکامی کی علامت ہے اور اب امریکہ دنیا سے شامی حکومت کی جانب سے کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے سلسلے میں جھوٹ بول کر اپنی خفت چھپانے کی غرض سے شام پر حملہ کرنے کے درپے ہے۔  ڈیلی ٹیلگراف کے نامہ نگار نے لکھا ہے: میں نے کئی شامی فوجی افسروں اور نوجوانوں سے ملاقات کرکے ان سے امریکی حملے کے بارے میں پوچھا تو جارحین کے خلاف ان کے جذبے اور حوصلے بلند پائے اور ان فوجیوں کا کہنا تھا کہ شامی افواج کے پاس ایسے خفیہ ہتھیار موجود ہیں جو کروز میزائلوں کا بخوبی توڑ کرسکتے ہیں۔ ــ امریکی کانگریس فوجی اقدام کے حوالے سے ابھی تذبذب کا شکار امریکی وزیر خارجہ فرانس کے دورے پر کہا ہے کہ امریکی کانگریس اور سینٹ کے اراکین ابھی تک شام پر حملے کے منصوبے کے سلسلے میں تذبذب کا شکار ہیں.ــ لاس اینجلس ٹائمز: شام پر امریکی حملہ تین دن تک جاری رہے گااس امریکی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ امریکی وزارت جنگ نے اپنا منصوبہ تبدیل کیا ہے اور اب وہ محدود حملے کے بجائے وسیع حملے کی منصوبہ بندی کررہی ہے جو تین دن تک جاری رہے گا۔ اس اخبار نے نامعلوم عسکری ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ ابتداء میں مختلف ٹھکانوں پر میزائل حملے ہونگے اور اس کے بعد باقیماندہ ٹھکانوںـ نیز ان ٹھکانوں پر حملے کئے جائیں گے ـ جو ابتدائی حملوں میں محفوظ رہے ہوں۔ ــ چین کا انتباہ: امریکہ سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر شام پر حملے سے باز رہےادھر امریکہ نے کہا ہے کہ وہ شام پر حملے کے لئے سلامتی کونسل کی منظوری کو ضروری نہيں سمجھتا اور اس کے مقابلے میں چینی وزیر خارجہ اپنے امریکی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو کے ضمن میں کہا ہے کہ شام کے موضوع پر اقوام متحدہ میں بحث ہونی چاہئے۔ وانگ بی نے کہا: شام پر حملہ کرنے کے درپے ممالک کو ہر اقدام سے قبل تین مرتبہ سوچنا چاہئے اور انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ ــ ایران جنگ کے شعلے بجھانے کے درپے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شام میں جنگ کی آگ بجھانے کے درپے ہیں اور اس ملک میں جنگ کے شعلے بھڑکانا نہیں چاہتا۔ ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے بغداد میں عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری کے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب کو بین الاقوامی حقوق کی رعایت کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ شام کے بحران کے تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے اور ہمیں امید ہے کہ انشاء اللہ شام میں برادرکشی اور تشدد کا خاتمہ ہو۔ ــ شامی وزیر خارجہ: ممکنہ امریکی حملہ جنیوا 2 کانفرنس کے مستقبل کے لئے خطرہ شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے ماسکو کے دورے کے دوران کہا ہے کہ شام پر کسی قسم کا امریکی حملہ جنیوا 2 کانفرنس کے مستقبل کے لئے خطرناک ثابت ہوگا۔ انھوں نے کہا: صدر شام بشار الاسد نے روس کی حمایت کی بنا پر صدر ولادیمیر پیوٹن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اس دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا کہ ماسکو شام کے مسئلے کے سیاسی حل پر ہی زور دیتا ہے۔ اسکائی نیوز کے نامہ نگار نے روسی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ لاؤروف المعلم کو روس اور امریکہ کے درمیان ایک مفاہمت نامے کا متن دکھائیں گے جس کے ذریعے شام پر ممکنہ حملے کو ٹالنے کی کوشش کی جائے گی۔ رشیا ٹو ڈے کے مطابق لاؤروف نے کہا ہے کہ روس شامی اپوزیشن سے اپیل کرے گا کہ مکمل شفاف سازی کے ساتھ اور بغیر کسی پیشگی شرط کے، جنیوا ٹو کانفرنس میں شرکت کریں۔ ــ شام کی تازہ ترین صورت حال لاؤروف المعلم کی بات چیت کا اصل موضوع روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پیر کے روز المعلم کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں شام کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گآ اور شام کے مسئلے میں بیروی عسکری مداخلت کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ روسی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روس ـ شام وزرائے خارجہ کے درمیان مذاکرات میں شام کے بحران کے تمام پہلوؤوں کو زیر بحث لایا جائے گا۔ روسی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ روس تشدد کے خاتمے کا خواہاں ہے کیونکہ بےگن