اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کا انقلاب کرامت کے 327 دن پورے ہوگئے ہیں اور بحرینی عوام عدم تشدد کی بنیاد پر اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کے حوالے سے نئی تاریخ رقم کررہے ہیں۔ ایک طرف سے اگر آل خلیفہ کو آل سعود اور تمام عرب ڈکٹیٹروں اور امریکہ و برطانیہ کی ہمہ جہت حمایت حاصل ہے اور اگر آل خلیفہ کی ڈوبی ہوئی حکومت کو عوامی تحریک کچلنے کے لئے مغرب اور اسرائیل سے ہر قسم کے ہتھیار اور گیسوں کے کھیپ مل رہے ہیں اور اس کو عوام پر بے تحاشا مظالم کے باوجود بین الاقوامی تنظیموں، اقوام متحدہ اور جمہوریت و انسانی حقوق کے چیمپئنوں کی طرف سے کسی قسم کا دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا تو دوسری طرف سے بحرین کی مظلوم ملت ہے جو استقامت کا پہاڑ بنی ہوئی ہے اور عدم تشدد کے ہتھیار سے اپنے تمام دشمنوں اور اپنے حقوق پر قبضہ جمانے والوں کو رسوا کررہی ہے۔ جمعرات 26 جنوری 2012 کو بحرین میں کیا واقعات رونما ہوئے؟ آل حلیفہ حکومت نے اپنے آقاؤں اور پانچویں امریکی بحری بیڑے کے سامنے اپنے عوام پر کیا مظالم ڈھائے؟ اور بحرینی عوام کا رد عمل کیا رہا؟ دیکھئے:ــ بحرین: آل خلیفہ کے ہاتھوں ایک 17 سالہ نوجوان کی شہادتآل خلیفہ کے جلادوں نے جزیرہ سترہ میں 17 سالہ نوجوان "محمد ابراہیم علی یعقوب" کو گاڑی سے کچل کر شہید کردیا اور بحرین کے انقلاب کرامت کے شہیدوں کی تعداد 65 ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق سعودی جارحین کے حمایت یافتہ خلیفی جلادوں نے جمعرات کے روز جزیرہ السترہ میں ایک نوجوان "محمد ابراہیم علی یعقوب" کو گاڑی سے کچل کر شہید کردیا ہے۔ اس سترہ سالہ نوجوان کی شہادت کے ساتھ گذشتہ دو دنوں کے دوران چار بحرینی آل خلیفہ کے جلادوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے ہیں۔ جمعرات کے روز ایک بحرینی صارف نے فیس بک پر ایک خبر کے ضمن میں لکھا کہ "محمد ابراہیم علی یعقوب" کو خلیفی پولیس کی گاڑی نے ٹکر ماری اور اس کے مجروح جسم کو کچل دیا جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہوگئے۔ اس رپورٹ کے مطابق 35 سالہ نوجوان شہید منتظر سعید فخر کو بھی درحقیقت خلیفیوں نے گاڑی سے ٹکر مار کر زخمی کیا تھا اور ان کو زخمی حالت میں خلیفی اذیتکدوں میں منتقل کیا گیا جہاں ان کو مزید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے وہ بھی بدھ کے روز شہید ہوگئے تھے۔ عباس جعفر الشیخ بھی ایک بحرینی نوجوان اور 14 فروری انقلابی اتحاد کے راہنماؤں میں سے تھے جن کو الدیہ کے علاقے میں گولی مارکر شہید کیا گیا جبکہ 65 سالہ بزرگ "سعيد السكري" بھی العالی نامی قصبے میں آل خلیفہ کے جلادوں کی زہریلی گیس کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے تھے۔ آل خلیفہ کی فورسز نے بدھ کی شام کو بحرین کی سیاسی جماعتوں کی درخواست پر "صرف عوام ہی قانونی حیثیت دے سکتے ہیں"، کے عنوان سے منعقدہ ریلیوں کو تشدد کی انتہا کرکے کچل دیا۔
ــ بحرین: دو دنوں میں چوتھے شہید کی شہادت پر جمعیۃالعمل کی مذمت صرف دو دنوں کے دوران آل سعود کے حمایت یافتہ آل خلیفہ کے حکمرانوں کے ہاتھوں چوتھے بحرینی کی شہادت پر جمعیۃالعمل الاسلامی کی انفارمیشن کمیٹی کے رکن نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے عوام کے خلاف آل خلیفہ کی درندگی کی شدید مذمت کی ہے۔اطلاعات کے مطابق جمعیۃالعمل الاسلامی کی انفارمیشن کمیٹی کے رکن "یاسر الماحوزی" نے کہا کہ بحرین میں بدھ کا روز خونی دن تھا اور اس ملک میں حکومت کے ہاتھوں چار افراد شہید ہوئے۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ کی حکومت کو امریکہ اور برطانیہ کی سرکردگی میں مغربی دنیا اور علاقے کے عرب ڈکٹیٹروں کی پوری حمایت حاصل ہے اور وہ تمام مظالم مغرب سے ملنے والے گرین سگنلز کے بل بوتے پر کر رہی ہے چنانچہ ملت بحرین کے لئے نیا عیسوی سال شہداء کی تعداد میں اضافے اور آل خلیفہ کے جبر کی شدت کے ساتھ طلوع ہوا ہے۔ الماحوزی نے کہا: ال خلیفہ کی حکومت بدستور زور زبردستی موجودہ صورت حال ملت بحرین پر ٹھونسنا چاہتی ہے اور جبر و تشدد، قتل اور دہشت گردانہ کاروائیاں اس کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ انھوں نے کہا: عالمی تنقید کے باوجود آل خلیفہ کی حکومت ابھی تک سیاسی قیدیوں پر فوجی عدالت میں مقدمے چلا رہی ہے۔ جمعیۃ العمل الاسلامی کے راہنما نے کہا: ملت بحرین پامردی، استقامت اور اتحاد کے ساتھ آل خلیفہ کی حکومت کی درندگیوں کا مقابلہ جاری رکھے گی۔
ــ بحرین: تین شہیدوں کی تشئیع جنازہ؛ سہ روزہ سوگ کا اعلانبحرینی عوام نے بدھ کے روز آل خلیفہ کے ہاتھوں شہید ہونے والے تین بحرینی شہیدوں کی مشایعت کی جبکہ آل خلیفہ حکومت چوتھے شہید کی لاش ان کے اہل خانہ کی تحویل میں دینے سے انکار کررہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بحرینی عوام نے آل خلیفہ کے ہاتھوں شہید ہونے والے تین شہیدوں کے جنازوں کی مشایعت کی جبکہ آل خلیفہ کے سیکورٹی اہل کار کار کی ٹکر سے شہید ہونے والے شہید کی لاش ان کے اہل خانہ کی تحویل میں دینے میں تاخیری حربے آزما رہے ہیں۔ درین اثناء بحرین کی سیاسی جماعت "جمعیۃ العمل الاسلامی" نے ایک ہی دن چار افراد کی شہادت پر تین روزہ عام سوگ کا اعلان کیا ہے۔
ــ جمعیۃالوفاق: بحرین کی صورت حال نازک ہے؛ راہنماؤں کو خطرہ لاحقجمعیۃالوفاق الاسلامی الوطنی کی مشاورتی کونسل کے سربراہ نے حالیہ ہفتوں میں بحرین کی صورت حال نازک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہی دن میں چاری بحرینی انقلابیوں کی شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ سلامتی کے اعتبار سے بھی اور سیاسی لحاظ سے بھی ملک کی صورت حال نازک ہے۔اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز آل سعود کے حمایت یافتہ آل خلیفہ کے جلادوں نے 4 بحرینی انقلابی شہریوں کو شہید کردیا ہے جن میں دو افراد کو گاڑیوں سے کچل کر اور ایک کو گولی مارکر جبکہ چوتھے کو زہریلی گیس کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا ہے۔ جمعیۃالوفاق الاسلامی الوطنی کی مشاورتی کونسل کے سربراہ "جمیل کاظم" نے جمعرات کے روز ایک انٹرویو میں کہا: بحرین کے لمحمہ بلمحہ واقعات اور آل خلیفہ حکومت کے ہاتھوں عوام کو کچلنے کا عمل بدستور جاری ہے۔ جمیل کاظم نے حالیہ ایام میں کئی شہریوں کی شہادت اور متعدد کے زخمی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آل خلیفہ کے گماشتوں نے رہائشی علاقوں اور لوگوں کے گھروں پر حملے کرکے ان کو زبردست مالی نقصانات پہنچائے ہیں اور آج (26 جنوری 2012) کی صبح سے ملک کے گوشے گوشے میں تناؤ کی کیفیت میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور النعمی اور الدیہ نیز شہداء کی تشییع کے علاقوں میں آل خلیفہ کے گماشتوں کا تشدد جاری ہے اور آل خلیفہ کے گماشتے ان لوگوں کو کچلنے کے لئے ہر قسم کے اوزار استعمال کررہے ہیں جو پر امن طریقے سے اپنے جائز مطالبات کے لئے ریلیاں نکالتے اور احتجاج کرتے ہیں۔انھوں نے مختلف علاقوں میں رہائشی علاقوں پر آل خلیفہ کے گماشتوں کے شبانہ حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آل خلیفہ کی وزارت داخلہ نے مختلف حیلوں بہانوں سے دارالحکومت منامہ سمیت تمام شہروں اور قصبوں میں جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کی ہے جبکہ اگر خلیفی حکمرانی کے صرف 10 افراد حکومت کی حمایت میں جلوس نکالنے کی اجازت مانگیں تو انہیں فوری طور پر اجازت نامہ مل جاتا ہے۔جمیل کاظم نے کہا: آل خلیفہ کے حکمرانوں کی کوشش ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنی سرگرمیاں دور دراز کے علاقوں میں جاری رکھیں تا کہ وہ ذرائع ابلاغ کی نظروں میں نہ آئیں اور انہیں بآسانی کچلا جاسکے اور یوں خلیفی جبر بھی ذرائع ابلاغ کی نظروں میں نہ آسکے۔ انھوں نے کہا: بحرین میں آل خلیفہ کے بعض حامی ٹولے بھی پائے جاتے ہیں جن کے پاس ہتھیار بھی ہیں اور نقاب پہن کر سڑکوں پر عوام کو تشدد کا نشانہ بھی بناتے ہیں اور ان ہی ٹولوں نے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم اور ملک کے دیگر سیاسی اور مذہبی راہنماؤں کو دہشت گردانہ کاروائیوں کی دھمکیاں بھی دی ہیں اور بحرین میں سب جانتے ہیں کہ یہ ٹولے کون ہیں اور ان کے بیرونی اور اندرونی حامی کون ہیں جو ان کو مالی امداد بھی دیتے ہیں اور انہیں ہتھیار بھی فراہم کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان دہشت گرد ٹولوں کی جانب سے بحرینی راہنماؤں کی جان و مال کو خطرات لاحق ہیں۔
ــ بحرین: چار قصبوں پر آل خلیفہ کے وحشیانہ حملےمنامہ کے نواح میں چار قصبوں میں عوام کی شدید سرکوبی اور آل خلیفہ کے 41 کرائے کے غنڈے عوامی مزاحمت کے نتیجے میں زخمی ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق الجزیرہ نیٹ ورک نے بحرین کے حقائق کے بائیکاٹ پر مبنی اپنی دیرینہ پالیسی کو ایک دن کے لئے ترک کرکے رپورٹ دی ہے کہ بدھ کے روز بحرینی عوام نے دارالحکومت منامہ کے نواحی قصبوں میں احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا اور آل خلیفہ کی سیکورٹی فورسز نے ان کو جبر و تشدد کا نشانہ بنا کر منتشر کردیا۔رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں کرائے کے بیرونی قاتلوں نے بھی بھرپور حصہ لیا اور عوام نے بھی ان نقاب پوشوں کے حملوں کے سامنے مزاحمت کی روش اپنائی اور کسی قسم کے وسائل اور ہتھیار نہ ہونے کے باوجود اپنا دفاع کیا۔ آل خلیفہ کے سیکورٹی اہلکار طارق الحسن نے دعوی کیا کہ معترضین نے منامہ کے نواح میں کئی قصبوں کی سڑکیں بند کردیں اور آتشی بم اور پتھر پھینک کر الدراز، العکر، السنابس اور الدیر میں "پولیس والوں" پر حملے کئے۔ دریں اثناء حمعیۃالوفاق کے سابق رکن پارلیمان "مطر المطر" نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کے گماشتوں نے ان جھڑپوں کے دوران گیس کے گولوں سے کئی افراد کو براہ راست نشانہ بنايا اور ایک گولہ ایک نوجوان کے سر میں لگا جو شدید زخمی ہوگیا۔ یاد رہے کہ آل خلیفہ نے گیس کے گولے مظاہرین کے سروں میں مار اب تک کئی افراد کو شہید کردیا ہے۔ آل خلیفہ کی سرکاری خبر ایجنسی نے بھی کہا ہے کہ خلیفی فورسز پرسوں رات کو خواتین اور مردوں کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں جن کے ہاتھوں میں پتھر اور آتشی بم تھے۔ وزارت داخلہ نے نقاب پوش قاتلوں کو پولیس اہلکار قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ عوامی حملوں ميں کم از کم 41 پولیس والے زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے دو افراد کی حالت نازک ہے!۔ــ بحرین: سربراہ انسانی حقوق سینٹر: خلیفی جبر میں شدت آئی ہےانسانی حقوق سینٹر بحرین کے سربراہ نے کہا: حمد بن عیسی آل خلیفہ آل خلیفہ کی حکومت نے عوامی احتجاجات کچلنے اور عوام کے خلاف جبر و تشدد کے استعمال کو شدت بخشی ہے۔اطلاعات کے مطابق انسانی حقوق سینٹر بحرین کے سربراہ "یوسف الربیع" نے کہا ہے کہ شہدائے بحرین کی تعداد میں روز بروز اضآفہ ہورہا ہے اور پرامن شہریوں کے قتل کا سلسلہ درحقیقت ریاستی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے اور عوام کا قتل عام خلیفی وزارت داخلہ سے وابستہ مسلح گروپوں کا کارنامہ ہے۔انھوں نے کہا: بحرینی عوام وہ حقوق اور عدل و انصاف چاہتے ہیں جو بین الاقوامی قوانین اور منشورات میں تمام اقوام عالم اور بحرین کے نام نہاد آئین میں بحرینی عوام کے لئے مد نظر رکھا گیا ہے۔انھوں نے