23 ستمبر 2011 - 20:30

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی کال پر اسلام آباد ، کراچی ، سرگودھا، ملتان ، منڈی بہائولدین، ہری پور آزاد کشیمراور ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت پورے ملک میں سانحہ مستونگ کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا، اس دوران ا حتجاجی جلسے منعقد کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں.

ابنا: مجلس وحدت مسلمین کے کارکنوں اور عہدیداروں نے شہدائے مستونگ کے سایھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے درندہ صفت دہشت گردوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں مرکزی امام بارگاہ اثنا عشریہ جی سکس ٹو میں احتجاجی مظاہرہ ہوا ، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری اور دیگر مقررین نے سانحہ مستونگ کے دہشت گردی و لا قانونیت کی بد ترین مثال قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کی پشت پناہی نے والے عناصر کو بھی بے نقاب کیا جائے ، انہوں نے عدالت عالیہ بلوچستان کی جانب سے اس واقعہ کا سویو موٹو ایکشن لینے کا خیر مقدم کیا اور توقع ظاہر کی کہ عدالت عالیہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مکمل غیر جانب داری کی ساتھ اس المناک واقعہ کی تحقیقات کرائے گی ، کراچی میں خوجہ مسجد کھارا در میں یوم سوگ کے حوالے ایک احتجاجی جلسہ منعقد ہوا ، جس سے خطاب کرتے ہوئے جعفریہ الائنس کے سر براہ علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ 100سے زائد کالعدم تنظیموں کے دہشت گرد وں کو چھوڑنے والی عدلیہ کا کردار ملت جعفریہ کی نسل کشی کے خلاف ہمیشہ مشکوک رہا۔ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے کی سیاست کی جاری ہے قانون نافذ کرنے والے اداورں نے آج تک بلوچستان میں ملت جعفریہ کی نسل کرنے والے دہشت گردوں کو گرفتار نہیںکیاوزیر اعلی ،گورنر بلوچستان اپنی عیاشیوں میںلگے ہوئے ہیں جبکہ ایف سی کالعدم نتظیموں کے سرپرستی کر رہی ہے ۔علامہ عباس کمیلی کا کہنا تھا کہ اگر ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے کی سازش کی جا ری رہی ، سیاسی جماعتوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنی یہی بے حسی برقراررکھی تو اگلے الیکشن میںہم اپنے لائحہ عمل کا اعلان خود کریں گے ۔سپریم کورٹ کی جانب سے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے دہشتگرد ملک اسحاق نظر پابندی کے با وجود جنوبی پنجاب میں امن و امان کی فضا خراب گئی ہے جس کی مثال بھکر اور مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور گھلواں میں دہشتگر دملک اسحاق کا حملہ ہے ، بھکر واقعہ کے بعد شیعہ علما حکومت پنجاب سے مسلسل مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ملت جعفریہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔انہوںنے صدر پاکستان،وزیر اعظم پاکستان سمیت آرمی چیف سے مطا لبہ کیا کہ مستونگ میں ہونے والی دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کی جائے ۔بلوچستان سے ایران جانے والے زائرین اور راستوںپر سکیورٹی سخت کی جائے ۔کالعدم جماعت کے سر غنہ ملک اسحاق کے خلاف علی پور حملے کا مقدمہ درج کیا جائے اور کاروائی کی جائے۔اس موقع پر مظاہرین کی بڑی تعداد موجود تھی ،ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی سانحہ ،مستونگ کے خلاف منائے جانے والے یوم سیاہ کے موقع پر مجلس وحدت مسلمین اور آئی ایس او پاکستان ابرار شہید یونٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی ، ریلی کی قیادت مجلس وحدت مسلمین کے ڈسٹرکٹ آرگنائزر رائے شاہد علی خاں نے کی، ریلی کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر حکومت اور طالبان کے خلاف نعرے درج تھے، ریلی کے شرکاء جب جھنگ روڈ پر پہنچے تو وہاں پر احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد حسین جعفری نے کہا کہ بلوچستان کی نا اہل حکومت کو بر طرف کیا جائے اور ملت جعفریہ کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے سر عام پھانسی دی جائے، انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کی بزدلانہ کاروائیاں ملت جعفریہ کو حق گوئی سے نہیں روک سکتیں،انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی کرنے والی سیاسی جماعتوں کے خلاف سخت اقدامات عمل میں لانا ہوں گے تاکہ وطن عزیز میں پائیدار امن قائم کیا جاسکے، کالعدم تنظیموں کی بڑھتی ہوئی کاروائیاں پاکستانی عوام کے لئے لمحہ فکریہ ہیں، اور سیاسی اکابرین اپنے سیاسی مفادات کے حصول کی خاطر کالعدم تنظیموں کے کارکنان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کر رہے ہیں، جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا، انہوں نے کہا کہ ایسے تمام ادارے اور سیاسی جماعتیں جو دہشت گردی کی کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے والی جماعتوں کی حمایت میں بیان بازی کرتی رہتی ہیں کے خلاف سخت اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے، سامراجی قوتیں مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک میں بدامنی اور دہشت و خوف کی فضا پیدا کرکے اپنے مالی اور سیاسی مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کچھ بے ضمیر اور نام نہاد مسلمان گروہ ان کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں، فرقہ واریت کی حالیہ لہر کوئی شیعہ سنی فسادات نہیں بلکہ یہود و نصاریٰ کا اسلام دشمن ایجنڈا ہے، مسلم حکمرانوں کو ہوش مندی اور جرأت سے کام لے کر اسلام دشمن عناصر کو بے نقاب کرنا ہوگا، ریلی سے سید عون عباس شمسی نے بھی خطاب کیا، بعد ازاں ریلی کے شرکاء واپس مرکزی امام بارگاہ جھنگ روڈ پہنچ کر پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔یوم سیاہ کے حوالے سے ۔خیر پور ، جہلم منڈی بہائولدین، فیصل آباد، لارکانہ، نوشہرو فیروز اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور سانحہ مستونگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔

.............

/169