31 اگست 2011 - 19:30

سماء ٹی وی کے مطابق بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر نے کوئٹہ میں عید کی نماز کے بعد نمازیوں پر دہشت گردوں کے خودکش حملے سمیت گذشتہ تین سال سے جاری بدامنی کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اب یہ شہر فوج کے حوالے کیا جانا چاہئے تا کہ فوج ہی یہاں امن و امان قائم کرے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے سماء کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر سید اشرف زیدی نے آج قندھاری امامبارگاہ میں سانحہ عیدگاہ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اس کے باوجود کہ ہم نے حکومت کو بارہا حساس مقامات کی نشاندہی کی ہے لیکن کبھی بھی مؤثر سیکورٹی اقدامات عمل میں نہیں لائے جاتے، پولیس تعینات نہیں کی جاتی اور یہ واقعات بآواز بلند حکومت کی ناکامی ثابت کررہی ہے۔ انھوں نے کہا: گذشتہ تین برسوں کے دوران ہم نے 600 سے زاید افراد کے جنازے اٹھائے ہیں اور ہمارا صبر مزید نہیں آزمایا جانا چاہئے۔انھوں نے کہا: کالعدم اور ممنوعہ دہشت گرد ٹولوں کے عناصر سیکورٹی فورسز میں بھرتی کردیئے گئے ہیں اور یہ صورت حال جاری رہنے کا اصل سبب یہی ہے کہ دہشت گردوں پر ہاتھ ہی نہیں ڈالا جاتا۔سید اشرف زیدی نے پرزور مطالبہ کیا: چیف جسٹس آف پاکستان کو کوئٹہ میں جاری افسوسناک واقعات پر از خود نوٹس لینا چاہئے اور حکومت کو بھی امن و امان کے قیام کے لئے کوئٹہ شہر فوج کے سپرد کرنا چاہئے۔ ہزارہ قومی جرگہ، شیعہ علماء کونسل اور مجلس وحدت مسلمین کے راہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اپڈیٹ: پریس کانفرنس بحوالہ ہزارہ ٹرائیب:کوئٹہ کا کنٹرول پاک افواج کے سپرد کیا جائے : بلوچستان شیعہ کونسلکوئٹہ: گزشتہ 3 سالوں میں 600 سے زائد لاشیں اُٹھائیں گئی ہیں لیکن حکومت صرف تماشائی بنی بیھٹی ہے، بلوچستان شیعہ کانفرنسسید اشرف زیدی، صدر بلوچستان شیعہ کانفرنس نے نچاری امام بارگاہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں گزشتہ چند سالوں‌ سے ہزارہ مومنین کو نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن صد افسوس کہ حکومت صرف تماشائی بنی بیٹھی ہے جو انکی نا اہلی کا منہ بولتا صبوت ہے. گزشتہ کئی سالوں سے ہمیں نشانہ بنایا جارہا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ اب ہمارا صبرکا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے. ہمیشہ دہشت گرد بزدلانہ کاروائی کرتی ہے لیکن اگر کوئی گرفتار بھی ہوتا ہے تو اُسے رہا کردیا جاتا ہے.اُنہوں‌ نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری کو کوئٹہ کے حالات کا فوری نوٹس لینا چاہیئے. قیوم علی چنگیزی نےخبردار کیا کہ اگر اس دفعہ کوئی واقعہ رونما ہوا تو حالات کی زمہ دار خود حکومت ہوگی.اجلاس میں صدر ہزارہ قومی جرگہ ، شیعہ علماء کونسل اور مجلس وحدت مسلمین موجود تھے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110