2 نومبر 2010 - 20:30

کل رات بغداد میں دو خودکش دھماکے ہوئے اور بارود سے بھری 14 گاڑیاں دھماکے سے پھٹ گئیں جن کے نتیجے میں 464 افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے ہیں؛ زیادہ تر دھماکے شیعہ علاقوں میں ہوئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یہ 16 دھماکے بیک وقت ہوئے اور اس کے علاوہ مارٹر گولے بھی گرے جن سے دھماکوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ بغداد میں دہشت گردوں کے یہ حملے شاید اس سال کے بدترین حملے تھے جو حال ہی میں سعودی بادشاہ کی جانب سے عراقی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے سعودی بادشاہ کی دعوت مسترد ہونے پر انجام پائے۔"یرموك"، "الحسینیہ"، "الكاظمیہ" (کاظمیں)، "الشعب"، "العامل"، "الأور"، "الجہاد"، "ابودشیر"، "السیدیہ"، "الشعلہ" و "الامین" کے محلے اور صدر سٹی کے بعض علاقے ان حملوں کا نشانہ بنے۔ دہشت گردوں نے ان حملوں میں عوامی اجتماع کے مقامات، ریستورانوں اور بھاری ٹریفک والی سڑکوں کو نشانہ بنایا گو کہ یہ خبر ملنے تک ان حملوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی جس سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ سعودی بادشاہ کی دعوت ٹھکرائے جانے کا ان خونی حملوں سے تعلق ہے۔ ان حملوں میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے شہریوں کی تعداد کے بارے میں صحیح رپورٹ کسی کو بھی نہیں مل سکی ہے لیکن عراق کے وزیر صحت "صالح مہدی الحسناوی" نے کہا ہے کہ ان حملوں میں کم از کم 84 افراد قتل ہوئے ہیں جبکہ 380 افراد زخمی ہوئے ہیں اور یہ کہ 80 فیصد زخمیوں کو علاج معالجے کے بعد ہسپتالوں سے فارغ کردیا گیا ہے۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق دھماکوں والے مقامات کی طرف جانے والے راستے بند کردیئے گئے۔سعودی عرب نے ابتداء ہی سے مختلف اشکال میں عراق کی تشکیل حکومت کے حوالے سے مداخلت کا راستہ اپنایا ہے اور اس نے ایاد العلاوی کو دس کروڑ ریال کی مدد دے کر عراقی پارلیمان کے نمائندوں کو خرید کر اپنی پسند کی حکومت کے لئے ہارس ٹریڈنگ کا حربہ بھی آزمایا اور کئی بار دھماکے بھی کروائے لیکن تمام حربوں کی ناکامی کے بعد سعودی عرب کے معمر بادشاہ نے براہ راست مداخلت کی راہ اپنائی؛ انھوں نے عرب لیگ کی مداخلت سے عراقی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا اور جب وہاں سے ناکامی ہوئی تو پھر عراقی سیاستدانوں کو ریاض آنے کی دعوت دی کہ وہ وہاں جاکر عراقی حکومت تشکیل دیں لیکن ان کی اس دعوت کو عراقی سیاستدانوں نے اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت سے تعبیر کرکے مسترد کیا۔یادرہے کہ سعودی حکمرانوں سے وابستہ القاعدہ کے دہشت گردوں نے دو روز قبل بھی بازار حصص کے سامنے دو کار بم دھماکے کروائے اور اس کے بعد بازار حصص پر قبضہ کرنے کی کوشش کی مگر سرکاری فورسز نے مزاحمت کرکے انہیں ناکام بنایا تو انھوں نے ایک گرجاگھر پر حملہ کیا جہاں عیسائی برادری کی شادی کی تقریبات ہورہی تھیں چنانچہ دہشت گردوں نے انہیں یرغمال بنا کر مصر اور عراق میں قید اپنے بعض ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا لیکن عراقی فورسز نے ان پر حملہ کیا۔ اس حملے کے دوران ہی دہشت گردوں نے 38 یرغمالیوں کو قتل کیا اور سرکاری کاروائی میں 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ کئی غیرملکی دہشت گرد گرفتار بھی کرلئے گئے اور حکومت نے اعلان کیا کہ ان دہشتگردوں کی قومیت کا بہت جلد اعلان کیا جائے گا۔ اس خونی ڈرامے کے نتیجے میں 53 افراد قتل اور 70 زخمی ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ بیرونی مداخلت ہی عراق کی حکومت کی تشکیل میں رکاوٹ ہے اور تشکیل حکومت میں تأخیر عراق میں سیکورٹی مسائل کا باعث بن گئی ہے اور یہ ملک ایک بار پھر دہشت گردوں کی جنت میں تبدیل ہوگیا ہے۔ فرانس کی خبررساں ایجنسی نے کل کے حملوں کی اطلاع دیتے ہوئے عراقی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ حکومت عراق کے خیال میں یہ حملے بھی القاعدہ کے دہشت گردوں نے کئے ہیں۔ وزارت صحت کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ دریں اثناء وزیراعظم نوری المالکی نے کل کے حملوں کے بعد عراقی سیکورٹی فورسز کے کمانڈ سسٹم کی تعمیر نو کی ہدایات جاری کی ہیں۔ کردستان نیوز ایجنسی "آکانیوز" کے مطابق عراقی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ عراقی مسلح افواج کے چیف کمانڈر نوری المالکی نے کل کے حادثات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے عراقی سیکورٹی فورسز کے کمانڈ سسٹم کی تشکیل نو کی ہدایت جاری کی ہے۔ وزارت داخلہ کے اس اہلکار نے نام ظاہر نہ ہونے کی شرط پر آکا نیوز کو بتایا ہے کہ المالکی نے گذشتہ شب سیکورٹی کے حوالے سے منعقدہ ہنگامی اجلاس کے بعد آپریش کمانڈ سسٹم کے ڈھانچے کی تشکیل نو کا حکم دیا اور بغداد میں دہشت گردوں کے سامنے ناکامی پر بعض اعلی افسران کے لئے کڑی سزاؤں کا حکم بھی سنایا ہے جس میں کئی اعلی افسران کی تنزلی بھی شامل ہے۔  وزیراعظم اور کماڈدر انچیف عراقی مسلح فورسز نوری المالکی نے کل کے حملوں کے بارے میں تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔ واضح رہے کہ سنہ 2007 میں عراقی آئین کی منظوری کے بعد بغداد کا آپریشن کمانڈ سسٹم کمانڈر انچیف کی براہ راست نگرانی میں کام کرتا رہا ہے اور اس سسٹم میں متعدد عراقی اعلی افسران مصروف عمل ہیں۔ اس سے قبل بھی اس کمانڈ سسٹم کو کارکردگی بہتر نہ ہونے وزارت داخلہ کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110