اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق الجزیرہ نیٹ ورک کے تہران دفتر کے ڈائریکٹر نے زوجہ رسول (ص) عائشہ بنت ابی بکر نیز اہل سنت کی علامتوں اور مقدسات کی توہین کو حرام قرار دینے کے سلسلے میں آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے فتوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فتوی شیعہ سنی اتحاد پر آیت اللہ العظمی خامنہ ای اور ایران کے دیگر مراجع تقلید اور سیاسی قائدین کے پختہ یقین کی علامت ہے۔ محمد حسن البحرانی نے زوجات النبی (ص) اور اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام دینے کے سلسلے میں آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے فتوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا فتوی نہیں ہے بلکہ اس قسم کے متعدد فتاوی صادر ہوئے ہیں اور ایران کے مراجع تقلید اور دینی پیشوا اور سیاسی راہنما گاہے بگاہے اہل سنت اور دیگر اسلامی مذاہب کے مقدسات کی بے حرمتی کی حرمت کے بارے میں اپنی آراء و نظریات پیش کرتے رہتے ہیں۔ انھوں نے کہ جو کچھ حال میں رونما ہوا اگر ہم اس کو فتنہ کا نام دیں تو اس میں شک نہیں ہے کہ قم کے مراجع تقلید نیز ایران کے دینی و سیاسی حلقوں نے ان شرمناک بے حرمتیوں اور اہل سنت کے مقدسات کی ہر قسم کی توہین و اہانت کو حرام قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ آیت اللہ العظمی امام خمینی رحمةاللہ علیہ نے آج سے دوعشرے قبل اسی طرح کے فتاوی صادر کئے تھے اور آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بھی چند سال قبل مسلمانوں کے درمیان غیر معمولی ماحول بننے کے بعد اس قسم کے ماحول کا سبب بننے والے عناصر کو جاہل یا اجنبی قوتوں کے ایجنٹ قرار دیا تھا۔ الجزیرہ کے تہران دفتر کے ڈائریکٹر نے مزید کہا: ایران کے قائدین کے ان فتاوی کا مقصد تکلف نہیں ہیں اور یہ فتاوی اسلامی مذاہب کی نسبت حسن سلوک کی علامت نہیں ہیں بلکہ یہ فتاوی تمام انبیائے الہی کی حرمت و احترام کے تحفظ اور اسلامی مکاتب کے پیروکاروں کے درمیان اتحاد پر "بعنوان ترجیح اول" اسلامی جمہوریہ ایران کے راہنماؤں کے پختہ یقین کی علامت ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ امت کا اتحاد ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ محمد حسن البحرانی نے آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی کتاب "اجوبة الاستفتائات" کو ٹی وی اسکرین پر دکھا کر کہا: مثلاً اتحاد بین المسلمین کی پابندی کے بارے میں آپ نے اس کتاب میں اپنی رائے بیان کی ہے اور فرمایا ہے کہ اہل سنت برادران کی نماز جماعت میں شیعہ مسلمانوں کی شرکت جائز ہے۔ دوسری طرف سے ایران میں مجمع التقریب بین المذاہب الاسلامیہ اور تقریب کالج بھی سرگرم عمل ہیں۔ تہران میں الجزیرہ کے نمائندہ دفتر کے ڈائریکٹر نے کہا: ایرانی علماء کثیر فتاوی اور 12 ربیع الاول (اہل سنت کی روایت کے مطابق میلاد رسول (ص)) سے لے کر 17 ربیع الاول (ولادت رسول اللہ (ص) بروایت شیعہ) تک ہفتہ وحدت کے حوالے سے پورا ایک ہفتہ، ہفتہ وحدت کا جشن منا کر مسلمانوں کے اتحاد پر تأکید کرتے ہیں۔ ........../110
آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا فتوی؛ عالم اسلام کا زبردست خیر مقدم
آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا فتوی تکلف نہیں بلکہ یہ اتحاد اسلامی پر آپ کے یقین کی علامت ہے
آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا فتوی؛ شیخ الازھر نے حمایت کردی / استفتاء اور فتوی کا متن