واشنگٹن میں ہیلری کلنٹن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی سائنسدان شہرام امیری اپنی مرضی سے امریکا میں مقیم تھے اور جب چاہے ایران جا سکتے ہیں ۔ہیلری نے کہا کہ امیری نے ایران جانا تھا تاہم سفری دستاویزات مکمل نہ ہونے کے سبب نہیں جا سکا ۔ہیلری نے کہا کہ ایران نے تین امریکی نوجوانوں کو روک رکھا ہے ہم ایران سے دوبارہ درخواست کرتے ہیں کہ انہیں حقوق انسانی کی بنیاد پر امریکا آنے کی اجازت دے ۔ہیلری نے ایران سے کہا کہ2007 کو ایران سے لاپتہ ہونے والے سابق ایف بی آئی ایجنٹ روبرٹ لیون سن کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرے اور اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد کرے اور اس کی صحیح سلامت امریکا واپسی کی یقین دہانی کرائے ۔
بشکریہ از روزنامہ چنگ .......ہیلری نے یہ نہیں کہا کہ شہرام امیری جو عمرہ ادا کرنے گئے تھے مدینہ منورہ میں تھے اچانک امریکہ میں کیونکر مقیم ہوئے؟انھوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ امریکی باشندے چوری چپکے ایران میں داخل ہوکر کیا کرنا چاہتے تھے کیا وہ ایران میں قتل و غارت کے اسباب فراہم کرکے اور دہشت گردوں سے مل کر انسانی حقوق کی خدمت کرنا چاہتے تھے اب بیگم کلنٹن انسانی حقوق کے حوالے سے ان کی رہائی کی اپیل کررہی ہے؟ اور انھوں نے اس بات کی بھی وضاحت نہیں کی کہ ایف بی آئی ایجنٹ ایران میں کیا کرنے آیا تها جبکہ امریکہ ایران کا دشمن بھی ہے اور اس کے ایران کے ساتھ روابط بھی نہیں ہیں؟ کیا وہ بھی ایران میں انسانی حقوق کی خدمت کرنا چاہتا تھا کہ اب بیگم کلنٹن انسانی حقوق کے حوالے سے اس کا سراغ ایران سے چاہتی ہے؟یادرہے که شہرام امیری کچھ عرصہ قبل عمرہ کی ادائیگی کے لئے حجاز مقدس، مشرف ہوئے تھے کہ مدینہ منورہ میں انہیں سعودی سیکورٹی والوں نے گرفتار کرکے امریکیوں کے حوالے کیا مگر وہ امریکہ میں اپنے قیدخانے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے اور کچھ عرصہ روپوش رہنے کے بعد واشنگٹن میں واقع پاکستانی سفارتخانے میں قائم ایرانی مفادات کے دفتر پہنچ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔
/110