21 ستمبر 2011 - 20:30

بلوچستان کی سرحدی قصبے تفتان سے ملحقہ پاک ایران بارڈر میرجاوہ پر ایرانی حکام نے زیرو پوائنٹ تین روز تک کیلئے بند کردیا ہے۔

ابنا: شیعت نیوز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ ایرانی حکام نے گذشتہ دنوں بلوچستان میں مستونگ کے مقام پر فائرنگ میں شہید ہونے والے 26 یا 30 زائرین کی شہادت کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا کہ پاک ایران سرحد کو بند کر دیا جائے۔ دوسری جانب کوئٹہ تفتان ٹرانسپورٹرز نے سانحہ مستونگ کے خلاف کوئٹہ تفتان شاہراہ پر ٹرانسپورٹ بندکردی ہے ۔لیویز ذرائع کے مطابق پاک ایران سرحدی ایریا تفتان کے مقام پر زیرو پوائنٹ کو سانحہ مستونگ میں زائرین کی شہادت کے باعث بند کیا گیا ہے، بارڈر تین روز تک کیلئے بند رکھا جائے گا۔

دوسری جانب کوئٹہ تفتان ٹرانسپورٹرز نے سانحہ مستونگ کے خلاف کوئٹہ تفتان شاہراہ پر ٹرانسپورٹ بندکردی۔

ٹرانسپورٹ حکومت کی جانب سے سیکیورٹی کی عدم فراہمی کی وجہ سے بندکی گئی ہے۔

جب تک ٹرانسپورٹ اور مسافروں کو تحفظ نہیں فراہم کیا جاتا ٹرانسپورٹ بندرہے گی۔

تفتان روٹ پر ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے زائرین اور دیگر مسافروں کی بڑی تعداد تفتان میں پھنس گئی جنہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ بلوچستان کی سب سے بڑی مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام ۔ف، کی صفوں میں ایسے دہشت گرد عناصر موجود ہیں جو کہ آئے دن زائرین کی بسوں اور کوئٹہ میں شیعہ اور ہزارہ ہرادری سے تعلق رکھنے والے شیعہ عمائدین کو ٹارگٹ کلنگ میں شہید کرتے ہیں، تا ہم سانحہ مستونگ کے بعد اب پاک ایران سرحد کے بند ہو جانے سے جہاں زائرین کو ایران کے سفر میں مشکلات کا سامنا ہوگا وہاں پاک  ایران تجارتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوں گی، ضرورت اس امر کی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام ۔ف، اپنی صفوں سے ملک دشمن اور شیعہ دشمن عناصر کا خاتمہ کرے اور پاک ایران دوستی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے و الے امریکی و صہیونی دہشت گردوں کے خلاف حکمت عملی وضع کرے۔ .............

/169