اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے علاقے مستونگ میں منگل کے روز کوئٹہ سے ایران جانے والے زائرین امام رضا علیہ السلام کی بس پر کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور طالبان دہشت گردوں کے ناصبی وہابی یزیدی درندوں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں چھبیس زائرین امام رضا علیہ السلام شہید ہو گئے ہیں جبکہ پچیس سے زائد شدید زخمی ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق شہداء کی تعداد 30 ہے اور تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کالعدم دہشت گرد ٹولے لشکر جھنگوی نے کوئٹہ کے مقامی ذرائع ابلاغ کو فون کرکے اس بزدلانہ، وحشیانہ اور غیر اسلامی غیر انسانی حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور پاکستان کے ناکام وزیر داخلہ رجمن ملک نے کہا اس حملے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس کاروائی کے حوالے سے سرکار کی شرمندگی کا اعلان کرنے کی بجائے کہا ہے کہ "اس کے بعد کوئٹہ سے تفتان جانے والی زائرین کی بسوں کو ایف سی اور پولیس کو اطلاع دینی ہوگی۔واضح رہے کہ ناصبی وہابی دہشت گرد وں نے زائرین امام رضا علیہ السلام کی بس کو مستونگ کے قریب لک پاس کے مقام پر روک کر اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا اور آدھے گھنٹے تک بس پر گولیاں برساتے رہے لیکن پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں سے کوئی نہ پہنچا۔عینی شاہدین نے شیعیت نیوز کے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ زخمی زائرین کی حالت نازک ہے جن کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے تاہم اگر ان کو فوری علاج معالجہ فراہم نہ کیا گیا تو شہادتوں میں اضافے کا امکان ہے۔دوسری جانب سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان، جعفریہ الائنس پاکستان، شیعہ علماء کونسل، شیعہ کانفرنس بلوچستان اور آئی ایس او سمیت دیگر ملی و قومی تنظیموں نے کوئٹہ میں زائرین کی بس پر ہونے والے دہشت گردانہ حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت بلوچستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
شیعہ رہنماؤں اور عوام میں شدید غم غصہ کی لہر پائی جاتی ہے ، رہنماؤں کاکہنا ہے کہ بلوچستان حکومت امریکی و صہیونی آلہ کاروں کے ساتھ مل کر ملت جعفریہ کی نسل کشی میں مصروف عمل ہے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ اس نے گذشتہ دنوں القدس ریلی میں زخمی ہونے و الے تین معصوم اور بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کیا لیکن گزشتہ طویل عرصے سے ملت جعفریہ کے عمائدین اور عوام کی ٹارگٹ کلنگ اور زائرین کی بسوں پر حملہ کرنے والوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔
راہنماؤں کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان احمق ترین آدمی ہیں جنہیں حکومت زیب نہیں دیتی لہذٰا انہیں فوری طور پر مستعفی ہونا چاہئیے ۔قابل ذکر ہے کہ دو ماہ قبل 29 جولائی کو بھی کالعدم ناصبی وہابی دہشت گرد گروہوں نے زائرین کی ایک بس کو فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا جس میں بھی سات سے زائد شیعہ زائرین شہید ہو گئے تھے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امدادی سرگرمیوں کے لئے جانے والے شیعہ رضاکاروں پر بھی ناصبی وہابی دہشت گردوں نے فائرنگ کی ہے جس کے نتیجہ میں مزید تین شیعہ نوجوان زخمی ہو گئے ہیں۔
............
/169
بشکریہ از ہزارہ ٹرائیب