26 اکتوبر 2010 - 20:30

حجت الاسلام والمسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مجلس وحدت سندھ کے کنونشن میں تاریخی خطاب کے اقتباسات

سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا: اپنے نظریات میں شفافیت ہونا چاہیے واضح اور کھلا پن ہونا چاہیے ہم پاکستان دوست ہیں ہمارے ہاتھ میں پرچم پاکستان ہے اور ہم نظریہ ولایت فقیہ کے پیروکار ہیں ،ہم دین اور سیاست میں جدائی کے قائل نہیں ہیں، ہم سیکولر نہیں ہیں، ہمارا رہبر موجود ہے، وہ ولی فقیہ زمان ہیں، ہمیں فخر ہے کہ ہمارا رہبر اوباما نہیں ہے، بش اور نتن یاہو نہیں ہے اور دنیا کے ہوس پرست شیطان نہیں ہیں، ہمارا رہبر فرزند زہرا (ع) ہے نائب امام ہے اور اس تاریخ کا پاکیزہ ترین وجود اور انسان ہے وہ بابصیرت، شجاع، مدیر و مدبر ہستی ہے۔ (حاضرین کے نعرے)

 رہبر کے فرمان پر جان بھی قربان ہے ،سید کے اعلان پر جان بھی قربان ہے

ایک منظم اقلیت ایک غیر منظم اکثریت پر حکومت کرتی ہے، غلبہ پاتی ہے حتٰی ان کے ارادوں پر قبضہ جماکر جہاں چاہے لے جاتی ہے، اگر ہم منظم ہونا چاہتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کس صورت میں منظم ہوں اور کس طرح سے منظم ہوں کہ ہم اپنے کاموں کو بہتر طور پر انجام دے سکیں ،کن لوگوں کو منظم کیا جائے؟اس اقلیت کو منظم کیا جائے جن کے اہداف جن کے مقاصد اور جن کی آرزو ایک ہے اور وہ ملک میں بکھرے ہوئے پھر رہے ہیں۔ وہ اقلیت جو مشترک آرزو، مشترک ارمان، مشترک مقاصد رکھتی ہے ان افراد کو جمع کیا جائے تا کہ ایک مقصد اور ایک منزل کی جانب بڑھنے والے لوگ اکھٹے ہوجائیں۔ ہماری آرزوئیں وہی ہے جو مولاعلی (ع) کی تھیں، ہمارے آئمہ (ع) کی تھیں جو انبیاء، اولیاء، صدقین اور شہداء کی تھیں، جو شہید حسینی کی تھیں جو امام خمینی کی تھیں اور جو ہمارے رہبر عزیز کی ہیں ہمارے آرزویں اور ارمان وہی ہیں جو خدا نے انسانی فطرت میں رکھاہے ۔مجلس وحدت کس لئے بنائی گئی ہے؟وہ آرزویں اور ارمان جو کربلا والوں کی تھیں جو ان کی تھیں جو دیواروں میں زندہ چن لئے گئے، ان کی جو بغیر روشنی دیکھے تاریک زندانوں میں دل میں ان آرزوں کو لئے چل بسے ان کے ارمانوں (کی تکمیل کے لئے بنائی گئی)۔ہم امین ہیں تاریخ بشریت تمام مظلوموں اور انقلابیوں اور آرمانی سوچ رکھنے والوں کے ۔مجلس وحدت اس لئے بنائی گئی کہ ہم(شیعیان پاکستان)طاقتور ہو جائیں یہ درست ہے لیکن طاقتور بننا مقصد نہیں ہے وسیلہ ہے ،یہ خود ہدف نہیں ہے وسیلہ ہے ان آرمانوں اور قدروں کو زندہ کرنے کے لئے جنکا ذکر ہو چکا ہے اگر طاقتور بننا ہدف بن جائے تو یہ جماعت خدائی نہیں ہوگی بلکہ شیطانی ہوگی ،اس کے اندر فرعونی صفات آجاینگی،غرور آئے گا تکبر آئے گا ،منصب کی خاطر ایک دوسرے کو کاٹنے لگے ینگے اور ایسی صورت میں یہ جماعت شیطان کی جماعت تو بن سکتی ہے خدا اہلبیت ع اور شہداءکی جماعت نہیں بن سکتی پس ہمار مقصد اگر عالی ہے ،پاکستان میں بسنے والی اس منتشر اقلیت کو منظم کریں اور اس زمانے کے نائب امام اور ولی امر کے ساتھ متصل کریں اسطرح اسے طاقتور جماعت کی شکل میں ڈال دیںلہذا اس جماعت کے اندر خصوصیات اور صفات عالیہ ہونی چاہیےمیں رجوعہ میں بھی کہا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکیزگی اور طہارت کی تحریک کا نام ہے ،ہمارا کام ایسا ہو کہ لوگ پاکیزہ ہو جائیں ،انکے اہداف ،انکے مقاصد پاکیزہ ہو جائیں ،ہمارے اندر غرور،دنیا پرستی ،ہوا و ہوس کی اسیری نہیں ہونی چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110