ڈنمارک میں قرآنی معجزہ+تصویر

ڈنمارک میں قرآنی معجزہ+تصویر

یورپ کے شمالی ملک ڈنمارک میں قرآن کے اس معجزہ کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ڈنمارک کے شہر اسکاگن(Askagn) میں قرآن کریم کے اس معجزے کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے جہاں بالٹک سمندر اور شمالی سمندر دونوں آپس میں ملتے ہیں ۔ یہ دونوں سمندر جو مخالف سمت سے آپس میں ملتے ہیں لیکن ان کا پانی مکمل طور پر ایک دوسرے سے الگ رہتا ہے جس کی بنا پر یہ خوبصورت منظر دکھائی دیتا ہے اور اللہ کی قدرت کا کرشمہ نظر آتا ہے۔قرآن کریم میں متعدد بار اللہ کی نشانیوں کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے لیکن ہم اور آپ نے اللہ کے کلام کو ایک معمولی کلام سمجھ کر صرف سن لیا اور کبھی اس پر غور نہیں کیا اور اپنے اطراف میں اس کی نشانیوں کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی جبکہ اس کی ہزاروں لاکھوں نشانیاں ہمارے اطراف میں بکھری پڑی ہیں۔یہ بھی انہیں نشانیوں میں سے ایک  ہےجس کے بارے میں قرآن کریم نے مختلف مقامات پر گفتگو کی ہے۔اس خوبصورت منظر کو دیکھیے اور قرآن کریم کی آیات کو دقت کے  ساتھ مطالعہ کیجیے:

یہ وہی عجیب و غریب سمندر ہے جس کےبارے میں قرآن کریم کا ارشاد ہے: سورہ رحمن؛مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیانِ (19) بَیْنَهُما بَرْزَخٌ لا یَبْغِیانِ (20) فَبِأَیِّ آلاءِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ (21) یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجانُ (22)(19) اس نے دو دریا بہائے ہیں جو آپس میں مل جاتے ہیں (20) ان کے درمیان حد فا صلِ ہے کہ ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرسکتے(21) تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے (22) ان دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں۔سورہ فرقان؛« و هو الذی مَرَجَ البحرینِ هذا عَذبٌ فُراتٌ و هذا مِلحً اُجاجً وَ جَعَلَ بَینَهما بَرزَخا و حِجراً مَهجوراً»(53) اور وہی خدا ہے جس نے دونوں دریاؤں کو جاری کیا ہے اس کا پانی مزیدار اور میٹھا ہے اور یہ نمکین اور کڑواہے اور دونوں کے درمیان حدُ فاصل اور مضبوط رکاوٹ بنا دی ہے۔سورہ فاطر؛وَمَا یَسْتَوِی الْبَحْرَانِ هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَائِغٌ شَرَابُهُ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَمِن کُلٍّ تَأْکُلُونَ لَحْمًا طَرِیًّا وَتَسْتَخْرِجُونَ حِلْیَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْکَ فِیهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (12) اور دو سمندر ایک جیسے نہیں ہوسکتے ایک کا پانی میٹھا اور خوشگوار ہے اور ایک کا کھارا اور کڑوا ہے اور تم دونوں سے تازہ گوشت کھاتے ہو اور ایسے زیورات برآمد کرتے ہو جو تمہارے پہننے کے کام آتے ہیں اور تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ سمندر کا سینہ چیرتی چلی جاتی ہیں تاکہ تم فضل خدا تلاش کرسکو اور شاید اسی طرح شکر گزار بھی بن سکو۔سورہ نمل؛اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَ جَعَلَ خِلالَهَا اَنْهَارًا وَ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَینَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا ءَاِلهٌ مَعَ اللهِ بَلْ اَکْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُونَ ﴿61﴾(61) بھلا وہ کون ہے جس نے زمین کو قرار کی جگہ بنایا اور پھر اس کے درمیان نہریں جاری کیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور دو دریاؤں کے درمیان حد فاصل قرار دی کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی خدا ہے ہرگز نہیں اصل یہ ہے کہ ان کی اکثریت جاہل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲