خدا قانون کے سایہ میں انسانوں کی تربیت کرتا ہے: جوادی آملی

خدا قانون کے سایہ میں انسانوں کی تربیت کرتا ہے: جوادی آملی

آیت اللہ جوادی آملی: خداوند متعال قانون کے سایہ میں انسانوں کی تربیت کرتا ہے، فقہ اور اخلاقیات کے ذریعہ اس کی پرورش کرتا ہے اور اسی کی ذات انسانوں کی تربیت و پرورش کی ذمہ دار و عھدیدار بھی ہے، اس نے اس دنیا کی خلقت کی وہی اس کی تربیت بھی کرسکتا ہے ۔ تربیت کی دنیا میں پھول و پودے کی تربیت کچھ مختلف ہے تو زمین و آسمان کی تربیت میں کچھ مخصوص قوانین حاکم ہیں اور انسانوں کی پرورش الھی قوانین کےمطابق ہے، خداوند متعال انسانوں کو اپنے قوانین کے تحت پرورش کرتا ہے ۔

ابنا: سرزمین قم کے نامور عالم دین اور مفسر قرآن حضرت آیت ‌الله جوادی آملی نے اپنے سلسلہ وار تفسیر قران کریم کے درس میں جو مسجد اعظم حرم مطھر حضرت معصومہ قم(س) میں سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی شرکت میں منقعد ہوا سورہ احزاب کی دیگر آیتوں کی تفسیر کی ۔آیت ‌الله جوادی آملی نے آیت «وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَکُمُ اللَّائِی تُظَاهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَاتِکُمْ وَمَا جَعَلَ أَدْعِیَاءَکُمْ أَبْنَاءَکُمْ ذَٰلِکُمْ قَوْلُکُم بِأَفْوَاهِکُمْ» کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: مدنی احکامات کا عظیم حصہ رسول اسلام(ص) کے وجود کی برکتوں سے مدینہ میں جامہ عمل پہنایا گیا ، زمانہ جاہلیت میں موجود ظھار کی رسم کے سلسلہ میں ان آیات نے بیان کیا کہ ظھار طلاق کا کام نہیں کرسکتا بلکہ ظھار ایک حرام عمل ہے، ظھار کے بعد شوھر کفارہ دیئے بغیر زوجہ سے ازدواجی زندگی کے رابطے برقرار کرنے کا حقدار نہیں ہے ۔انہوں نے مزید کہا: خداوند متعال قانون کے سایہ میں انسانوں کی تربیت کرتا ہے، فقہ اور اخلاقیات کے ذریعہ اس کی پرورش کرتا ہے اور اسی کی ذات انسانوں کی تربیت و پرورش کی ذمہ دار و عھدیدار بھی ہے، اس نے اس دنیا کی خلقت کی وہی اس کی تربیت بھی کرسکتا ہے ۔ تربیت کی دنیا میں پھول و پودے کی تربیت کچھ مختلف ہے تو زمین و آسمان کی تربیت میں کچھ مخصوص قوانین حاکم ہیں اور انسانوں کی پرورش الھی قوانین کےمطابق ہے، خداوند متعال انسانوں کو اپنے قوانین کے تحت پرورش کرتا ہے ۔ اس نامور مفسر نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ وحی الھی کے مخالف باتیں باطل ہوتی ہے کہا: باطل کی دو قسمیں ہیں، کبھی انسان بغیر اعتقاد کے باطل کلمات کو اپنی زبان سے ادا کرتا ہے، یعنی بغیر اس کے کہ اس کا دل بھی ان باطل باتوں کے ساتھ ہو اسے زبان پرلاتا ہے، ایسے لوگوں کو ان کے کلام اور اعتقاد میں ہم آہنگی نہ ہونے کی بنیاد پر منافق کہتے ہیں۔ باطل کی دوسری قسم یہ ہے کہ انسان اپنے اعتقاد کی بنیاد پر خرافات بیان کرتا ہے یعنی انسان کا دل بھی ان باطل باتوں کے ھمراہ ہے، زبان سے نکلنے والی باتیں دل کی گہرائی سے نکل رہی ہیں، مگر چوں کہ حقائق کے خلاف ہیں لھذا ان کلمات کو صرف زبانی لقلقہ کا نام دیا جاتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا:  قران کریم نے دونوں گروہ کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ ان لوگوں کے یہاں زبانی لقلقہ ہے «ذَٰلِکُمْ قَوْلُکُم بِأَفْوَاهِکُمْ» سخن ھمیشہ حقیقت کے مطابق ہونا چاہئے، چاہے ماضی کے حقائق کے مطابق ہو چاہے عصر حاضر کے حقائق کے مطابق یعنی یا سچی رپورٹ پیش کرے یا آئندہ کی سچی خبر دے  کہ جو صدیقین یا غیب کے جاننے والوں کا کام ہے جو اھلبیت(ع) کے مانند ہیں ۔حضرت آیت‌ الله جوادی آملی نے تاکید کی : کبھی انسان کو اپنی باتوں پر اعتقاد نہیں اور کبھی بعض افراد باطل کے معتقد ہیں، اور اپنے اعتقاد کو زبانوں پر لے آتے ہیں ان کے سلسلہ میں خداوند متعال فرماتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے منھ کی باتیں کرتے ہیں اور ان کے دل بھی ان کی زبانوں کے مانند ہیں ۔خداوند متعال نے سوره مبارکه نوح میں فرمایا «إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِکُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِکُم» جب تم نے اپنی زبانوں سے ان باتوں کا تذکرہ کیا جس کا تمہیں علم نہیں تھا، تم معتقد تھے مگر حقیقت کچھ اور تھی، لاعلمی میں گفتگو کرتے ہو، نہ تمھاری گفتگو میں سچائی ہے اور نہ ہی تم سچے ہو، تم اپنے منھ کی باتیں کرتے ہو، ہر باطل کا دائرہ زبان ہے و لو شخص باطنی طور سے اس باطل کا معتقد بھی ہو مگر اس کا دل بھی اس کی زبان کے مانند ہوگا کیوں کہ اس کی باتیں حقائق کے برخلاف ہیں ۔ انہوں ںے مزید کہا: مگر خداوند متعال « یَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ یَهْدِی السَّبِیلَ» ہمیشہ حقیقت بیان کرتا ہے اور وہی انسانوں کو صحیح  راستہ کی جانب ہدایت بھی کرتا ہے، خداوند متعال حقیقت کو بھی بیان کرتا ہے اور اس تک پہونچے کا راستہ بھی دکھلاتا ہے یعنی جہاں اس نے منزل مقصود کو بیان کیا وہیں اس نے راستہ کا بھی تذکر کیا ۔انہوں نے آیت «مَا جَعَلَ أَدْعِیَاءَکُمْ أَبْنَاءَکُمْ» کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : ظھار کا ایران میں کبھی بھی وجود نہیں رہا ہے، مگر منھ بولے بیٹے جس کا اس سورہ میں تذکرہ ہے، ایران کی گذشتہ تاریخ میں وجود تھا اور آج بھی ہے، اگر کوئی کسی لڑکے یا لڑکی کو اپنی فرزندی میں قبول کرے تو آگاہ رہے کہ یہ بچہ یا بچی اس کا محرم نہیں ہے اور در حقیقت اس کا بچہ بھی نہیں ہے، اس سے نکاح کرنا حرام نہیں ہے، اس بچہ کا میراث میں کوئی حق نہیں ہے، ہاں اگر چاہیں تو اپنے مال سے کچھ اسے بخش سکتے ہیں، چاہے آئی کارڈ میں اسے بیٹے یا بیٹی کے عنوان سے ہی لکھا گیا ہو، آپ حضرات ان گود لئے بچوں یا بچیوں کو اپنا بیٹا یا بیٹی نہ جانیں، لہذا فقہی احکامات کی بھی مراعات کریں کہ من جملہ ان میں سے یہ ہے کہ وہ آپ کا محرم نہیں ہے اور اس سے نکاح بھی حرام نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید بیان کیا: آپ آئی کارڈ میں اپنی ولدیت لکھتے ہیں مگر اس سلسلہ میں قانونی اور شرعی راستہ اپنائیں، ہر بچہ کو اس کے باپ کی طرف منسوب کریں، اگر جنگ میں مارے گئے باپ کے بچہ کی آپ نے سرپرستی کی تو اسے دوست و احباب اور بھائی کا مقام دیں، فطری غربت اس فانی دنیا میں ممکن ہے یعنی ممکن نہیں کہ یہ دنیا بغیر فقر و تنگدستی کے رہے ، فانی دنیا اور طبیعت کا لازمہ فقر و تنگدستی کی حکمرانی ہے، اقتصادی فقر یہ ہے کہ کسی کو فقیر و تنگدست ہونے کا موقع نہ دیا جائے، اسلام میں اقتصادی فقر کا وجود نہیں اور دین نے ہرگز کسی پر بھی ستم نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲