سورہ حمد کی تفسیر (۱)

سورۂ حمد وہ واحد سورہ ہے جسکو روزانہ کم سے کم دس بارواجبی نمازوں میں تلاوت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔' لا صلاة الا بفاتحة الکتاب'

سورہ حمد کی فضیلت٭ سورۂ حمد کا دوسرا نام 'فاتحة الکتاب ' ہے اسکی سات آیتیں ہیں۔٭سورۂ حمد وہ واحد سورہ ہے جسکو روزانہ کم سے کم دس بارواجبی نمازوں میں تلاوت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔' لا صلاة الا بفاتحة الکتاب' ( مستدرک ، ج٤،ح ٤٢٦٥)٭رسول اسلام ۖ: سورہ ٔ حمد قرآن مجید کا سب سے بہتریں سورہ ہے۔سورۂ حمد اساس قرآن ہے۔اگر سورہ حمد کو ستر مرتبہ مردہ پر پڑھا جائے اور مردہ زندہ ہو جائے تو تعجب نہ کرنا۔٭اس سورہ کا دوسرا نام ' فاتحة الکتاب ' ہونے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم رسول اسلام کے زمانے میں ہی جمع آوری ہو کر کتابی صورتی میںآچکا تھا اورآپ ۖکے حکم سے اس سورہ کو آغاز کتاب میں قرار دے کر فاتحة الکتاب کا نام دیا گیا۔ اور جیسا کہ حدیث ثقلین میں بھی پیغمبر ۖ نے جو فرمایا : انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی۔ اس حدیث سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ آیات قرآن رسول خدا ہی کے زمانے میں کتاب اللہ کی صورت میں جمع ہو چکی تھیں۔سورہ ٔ فاتحہ مندرجہ ذیل موضوعات کی طرف اشارہ کرتا ہے:خدا وند عالم کے صفات و کمالات ، مسئلہ قیامت ، طلب اعانت اور اقرار عبادت، راہ مستقیم پر گامزن رہنے کی درخواست اور اس کی شناخت و معرفت، اولیاء خداکے ساتھ تمسک، گمراہ اور مغضوب لوگوں سے اظہار بیزاری۔سورۂ حمد کے تربیتی دروس١: انسان جب سورۂ حمد کی تلاوت کرے تو'بسم اللہ' کہتے وقت غیر خدا سے ہر طرح کی امید ختم کردے۔٢: 'رب العالمین' اور ' مالک یوم الدین' پڑھتے وقت یہ احساس کرے کہ اسکا کوئی رب اور مالک ہے لہٰذا اسے خود خواہی اور غرور و تکبر کو درکنار کرنا چاہیے۔٣: کلمۂ ' عالمین' پڑھتے وقت اس کے اور پوری کائنات کے درمیان ایک رابطہ برقرار ہو جاتا ہے۔لہٰذا اس رابطہ کو ہمیشہ باقی رکھے۔٤: ' الرحمٰن الرحیم' کہتے وقت انسان کو چاہیٔے کہ اپنے آپ کولطف پروردگار کے سایہ میں سمجھے۔٥: 'مالک یوم الدین' کے وقت قیامت کے منظر کو یاد کرے اور اس کے حساب وکتاب کے لیے اپنے کوآمادہ کرے۔٦: 'ایاک نعبد' کہتے وقت ریا اور شہرت طلبی کو زایل کرنا چاہیے۔٧:'ایاک نستعین' کہنے والے کو سپر پاور طاقتوں سے نہیں گھبرانا چاہیے۔٨:' انعمتَ' کہتے وقت یہ سمجھنا چاہیے کہ نعمتوں کا نزول اللہ کے اختیار میں ہے اس سے حاصل کرنے کے لئے اپنے اندر صلاحیت پیدا کرے۔٩:'اھدنا ' کہہ کر راہ مستقیم پر ثابت قدمی کی درخواست کرے اور ثابت قدم رہے۔١٠: ' صراط الذین انعمت علیھم ' کہتے وقت حق کے پیروکاروں کے ساتھ محبت اور ہمبستگی کا اعلان کرے۔١١: اور ' غیر المغضوب علیھم و لا الضالین ' کے ساتھ باطل اور اہل باطل سے اظہا برائت اور بیزاری کرے۔٭٭٭تفسیر بسم اللہ٭ 'بسم اللہ الرحمن الرحیم' کتاب الٰہی کا نکتہ آغاز ہے۔ بسم اللہ نہ صرف قرآن کے شروع میں بلکہ تمام آسمانی کتابوں کے آغاز میں آئی ہے ۔ تمام انبیاء کے کاموں کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا رہا ہے۔ جب جناب نوح کی کشتی طوفان کی موجوں پر سوار ہونے لگی تو جناب نوح   نے اپنے ساتھیوں سے کہا:سوار ہو جائو'بسم اللہ مجریھا و مرسیھا' یعنی اسکا چلنا اور ٹھہرنا اللہ کے نام سے ہے ۔ حضرت سلیمان نے بھی جب ملکۂ سبا کو خدا پرایمان لانے کی دعوت دی تو اپنے دعوتنامہ کا اس جملہ 'بسم اللہ الرحمن الرحیم' کے ساتھ آغاز کیا۔٭حضرت علی  نے فرمایا: بسم اللہ کاموں کی برکت کا ذریعہ اور اسکا ترک کرنا نحوست کا سبب ہے ۔ ایک شخص جملہ ٔ  بسم اللہ کو لکھ رہا تھاآپ نے فرمایا: 'جوّدھا' ۔اسکو خوبصورت انداز میں لکھو۔(کنز العمال ،ح ٢٩٥٥٨)٭ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی بہت تاکید کی گئی ہے حدیث میںہے کہ بسم اللہ کو کبھی بھی فراموش مت کرو۔س: کیوں ہر کام کے شروع میں بسم اللہ پڑھنے کی تاکید ہے؟ج: بسم اللہ اسلام کی نشانی اور علامت ہے۔ جس طریقے سے کسی کارخانہ کے تمام محصولات اور سامان پر اس کارخانہ کی علامت ثبت ہوتی ہے چاہے بڑی چیز ہو یا چھوٹی۔ اسی طریقے سے مسلمانوں کے تمام چھوٹے بڑے کاموں پر بسم اللہ کی مہر اور علامت ثبت ہونا چاہیے۔ ورنہ مسلمانوں کے کاموں کی پہچان نہیں ہوپائے گی۔(اور دوسری بات یہ کہ جو شخص ہر کام شروع کرنے سے پہلے اللہ کا نام لے گا وہ کبھی بھی اس کام کو خدا کی مرضی کے خلاف نہیں انجام دے سکتا۔ اس لئے کہ اللہ ہی کے نام سے اللہ کی مرضی کے مخالف فعل انجام دینا حماقت اور بے دینی کی علامت ہے)(مترجم)۔س: کیا بسم اللہ الرحمن الرحیم مستقل آیت ہے؟ج: اہلبیت عصمت و طہارت نے بسم اللہ کو مستقل آیت اور ہر سورہ کا جزء قرار دیا ہے۔ فخر رازی نے اپنی تفسیر میں سولہ دلیلیں پیش کی ہیں کہ بسم اللہ سورہ کا جزء ہے۔ مسند احمد میں بھی بسم اللہ کو جزء سورہ شمار کیا گیا ہے۔ بعض وہ لوگ جنہوں نے بسم اللہ کو سورہ کاجزء نہیں سمجھا اور یا نماز میں اسکو ترک کر دیا قابل اعتراض سمجھے گئے ہیں۔٭ مستدرک حاکم میں آیا ہے کہ ایک دن معاویہ نے نماز میں بسم اللہ نہیں پڑھی تو لوگوں نے اس پر اعتراض کیا۔ ' اسرقت ام نسیت ' بسم اللہ کو چورا لیا یا فراموش کر دیا؟!٭ آئمہ معصومین  تاکید کرتے تھے کہ بسم اللہ کو نماز میں بلند آواز سے پڑھو ۔ امام باقر علیہ السلام ان لوگوں کے بارے میں جو نماز میں بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے یا سورہ کا جزء نہیں شمار کرتے تھے فرماتے تھے: سرقوا اکرم آیة۔انہوں نے قرآن کی بہترین آیت کو چرالیا۔٭ شہید مطھری  نے سورہ حمد کی تفسیر میں ابن عباس، عاصم ، کسائی، ابن عمر، ابن زبیر، عطا، طاووس، فخر رازی اور سیوطی کو ان لوگوں میں شمار کیا جو بسم اللہ کو جزء سورہ مانتے ہیں۔ تفسیر قرطبی میں امام صادق   سے منقول ہے کہ بسم اللہ سوروں کا تاج ہے۔ صرف سورہ ٔبرائت کے شروع میں بسم اللہ نہیں آئی اور مولائے کائنات کے بقول یہ اس وجہ سے ہے کہ بسم اللہ امان و رحمت کا کلمہ ہے۔ اور کفار و مشرکین سے برائت کا اعلان خدا کی رحمت و محبت کے اظہار کے ساتھ سازگار نہیں۔( تفسیر مجمع البیان)نکات١: بسم اللہ رنگ الٰہی کی علامت اور توحیدی رفتار کی پہچان ہے۔٢: بسم اللہ حیات و بقا کی نشانی ہے اس لئے کہ جو الٰہی رنگ نہ رکھتا ہو وہ فانی ہے۔٣: بسم اللہ خدا سے محبت اور اس پر توکل کا ذریعہ ہے یعنی جو رحمان و رحیم ہے اس سے محبت رکھتے ہیں اور اپنے کاموں کو اسکے بھروسے سے آغاز کرتے ہیں کہ جس کا نام لینا حصول رحمت کا سبب ہے۔٤:بسم اللہ تکبر سے فرار اور درگاہ الٰہی میں انکساری اور عاجزی کا اظہار ہے۔٥:بسم اللہ عبادت و بندگی کی راہ میں پہلاقدم ہے۔٦: بسم اللہ شیطان کو بھگانے کا آلہ ہے۔خدا جس کے ساتھ ہو شیطان اس کے قریب نہیں جا سکتا۔٧: بسم اللہ کاموں کی پاکیزگی اور طہارت کا سبب ہے۔٨: بسم اللہ خدا کو یاد کرنا ہے یعنی اے خدا میں کبھی بھی کسی حال میں تجھے فراموش نہیں کر سکتا۔٩: بسم اللہ انسان کے ہدف کی پہچان ہے ۔ یعنی خدایا میرا ہدف صرف اور صرف تو ہے۔ نہ لوگ ،نہ ریاکاری اور نہ ھویٰ و ہوس۔١٠:امام رضا   نے فرمایا: بسم اللہ اسم اعظم الٰہی سے اتنا قریب ہے جتنا آنکھ کی سفیدی اس کی سیاہی سے نزدیک ہوتی ہے۔پیغامات١: بسم اللہ سورہ کے شروع میں اس بات کی علامت ہے کہ اس سورہ کے مطالب ایک منبع رحمت سے نازل ہوئے ہیں۔٢: بسم اللہ کتاب کے شروع میں اس بات کی علامت ہے کہ ہدایت صرف اس کی مدد اور توفیق سے حاصل ہو سکتی ہے۔٣: بسم اللہ وہ کلام ہے جو اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان گفتگو کا واسطہ ہے۔٤: رحمت الٰہی ذات الٰہی کی طرح ابدی اور دائمی ہے ' اللہ الرحمن الرحیم'٥: کلمہ ٔ رحمن اور رحیم کاقرآن کے شروع میںبیان ہونا اس بات کی علامت ہے کہ قرآن رحمت الٰہی کا ایک جلوہ ہے جیسا کہ خود خلقت کائنات اور بعثت انبیاء اس کے لطف و رحمت کا صدقہ ہے۔ 'الرحمن الرحیم'۔٭٭٭تفسیر الحمد للہ رب العالمینترجمہ: تمام تعریفیں اللہ سے مخصوص ہیں جو عالمین کا پالنے والا ہے۔نکات:۔رب: اسے کہا جاتا ہے حو کسی چیز کا مالک بھی ہو اور اس کی پرورش بھی کرتا ہو، خدا کائنات کا حقیقی مالک بھی ہے اور اس کا پروردگار اور مدبر بھی ، پس تمام عالم ہستی کے اندر حرکت تکامل پائی جاتی ہے یعنی پروردگار نےجو راستہ مجموعا موجودات عالم کے لیے معین کیا ہے ساری مخلوق اس پر گامزن ہے۔ ۔سورہ حمد کے علاوہ قرآن کے دوسرے چار سورے، انعام، کہف، سبا، فاطر بحی الحمد للہ سے شروع ہوتے ہین لیکن صرف سورہ حمد میں الحمد للہ کے بعد رب العالمین آیا ہے۔۔مفہوم حمد مدح اور شکر کے مفہوم سے مرکب ہے۔ انسان کسی کے جمال و کمال کو دیکھ کر اس  کی تعریف کرتا ہے اور اس کی نعمت ، خدمت اور احسان کے مقابلہ میں شکریہ ادا کرتا ہے۔ خدا وند عالم اپنے کمال اور جمال کی بنا پر لائق تعریف ہے اور اپنے احسانات اور نزول نعمات کی بدولت لائق شکر ہے۔۔ الحمد للہ خدا کا شکر ادا کرنے کا بہترین انداز ہے۔ کوئی شخص جہاں کہیں کسی زبان میں سے کسی طرح کی تعریف کسی کمال اور خوبصورتی کی کرے در حقیقت اس تعریف کی بازگشت ذات کبریاء کی طرف ہو گی۔ اس لیے کہ ہر زیبائی کا سرچشمہ وہ جمال کل ہے۔پروردگار عالم نے ہر چیز کی تربیت اور رشد و ہدایت کےراستہ کو معین کر رکھا ہے۔ " ربنا الذی اعطی کل شئی خلقہ ثم ھدیٰ" [سورہ طہ ۵] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو  لباس خلقت پہنایا پھر راہ کمال کی طرف اس کی ہدایت کی اس نے شہد کی مکھی کو یہ ہدایت دی کہ وہ کسی پھول کا رس چوسے اس نے چونٹیوں کو یہ خوب سکھایا ہے کہ کس طرح موسم سرما کے لیے خوراک کی ذخیرہ کریں اس نے بدن انسانی کی اس طرح تربیت کی ہے کہ بدن کے حصہ میں جہاں خون کی ضرورت پڑے یہ خون بنا کر وہاں پہنچائے گا ایسا پروردگار یقینا قابل تعریف اور لائق شکر ہے۔خدا تمام مخلوقت کا پالنے والا ہے " و ھو رب کلی شئی" جو کچھ آسمان ، زمین اور ان کے درمیان ہے سب کا پالنے والا ہے، " رب السماوات و الارض و ما بینھم"  [سورہ شوری۔ ۲۴] حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: " من الجمادات و الحیوانات" وہ جاندار اور بے جان سب کا پروردگار ہے " لہ الخلق و الامر تبارک اللہ رب العالمین" ساری مخلوقات اس کی ہے ان کے امور کی تدبیر اس کے ہاتھ میں ہے بابرکت ہے وہ خدا جو عالمین کا پالنےو الا ہے۔۔ "عالمین" سے مراد تمام عوالم ہستی ہے۔ " عالم" کے معنی مخلوقات ہے ہیں اور عالمین کے معنی تمام مخلوقات کے ہیں۔ اس آیت سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کل کائنات کا یاک ہی پانے والا اور پرورش کر نے والا ہے اور وہ خدا ہے لہذا دوسرے تمام عقائد جو تعدد ارباب کو بیان کرتے ہیں باطل ہیں۔پیغامات۱: ہر تعریف اللہ سے مخصوص ہے[الحمد للہ]۲: خدا موجودات کی تربیت کرنے میں صبر سے کام لیتا ہے اس لیے کہ اجباری کاموں کی حمد و ثنا نہیں کی جاتی۔ [ الحمد للہ]۳: تمام ہستی خوبصورتی اور زیبائی سے سرشار ہے لہذا کل ہستی اپنی زیبائی کے اعتبار سے لائق تعریف ہے۔۴: وہ اس لیے لائق تعریف ہے کیوں کہ وہ ہر شئی کا مربی حقیقی ہے۔۵: خدا کا مخلوقات کے ساتھ بہت گہرا اور دائمی رشتہ ہے کیوں کہ مربی وہی ہے جو ہر لمحہ ت