یمن ناقابل تسخیر حقیقت ہے

یمن ناقابل تسخیر حقیقت ہے

آج کے سیاسی منظر نامے میں اگر سعودی عرب اپنی حمایت میں چند ممالک پر مشتمل ایک اتحاد تشکیل دینے میں کامیاب ہوچکا ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے تو اسے اس بات سے باخبر رہنا چاہیئے کہ اس اتحاد کے مقابلے میں کوئی دوسرا مضبوط ترین اتحاد بھی سامنے آسکتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یمن پر سعودی حملے سے عالم اسلام میں اضطراب کی ایک نئی لہر پیدا ہوچکی ہے اور سوچنے والے افراد اس نقطے پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ حملہ کرکے سعودی عرب نے اپنی تباہی کو خود للکارا ہے اور اس مسلط کردہ جنگ کا نقصان خود سعودی عرب کو اٹھانا پڑے گا۔ حوثی فوجی اتحاد کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کیلئے 185 جنگی طیاروں کو یمن بھیجا جانا سعودی عرب کی خارجہ حکمت عملی میں ایک عجیب اور حیرت انگیز تبدیلی کا مظہر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ سعودی حکومت اس کو اپنی کامیابی قرار دے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یمن کی سرزمین کی جغرافیائی حقیقت اور اس علاقے کی تاریخ ہے کہ یہ علاقہ کئی بار بیرونی قوتوں کی جارحیت کا نشانہ بنا، لیکن ان قوتوں کو منہ کی کھانا پڑی۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کو بھی اسی طرح شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ یمن ایک ناقابل تسخیر حقیقت ہے۔ یہاں کے لوگ بہادر، جنگجو، انتھک اور ایمانی جذبے سے لیس ہیں۔ یمنی عوام سخت جان اور انکے جذبے ناقابل شکست ہیں۔

یہاں 50 لاکھ حوثی سادات رہائش پذیر ہیں، یہاں کی 60 فیصد آبادی زیدی فرقہ پر مشتمل ہے، جنہوں نے ایک طویل مدت تک یمن پر حکومت کی۔ حوثی یمن میں ایک باقاعدہ سیاسی حیثیت رکھتے ہیں۔ معزول یمنی صدر علی عبداللہ صالح حوثی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، وہاں پر تمام مسالک کے لوگوں کے درمیان مذہبی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ سعودی حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں القاعدہ اور داعش وغیرہ نے وہاں پر افراتفری، فرقہ واریت اور دہشت گردی کو ہوا دینے کی بھرپور کوشش کی، تاکہ وہاں کی آبادی سعودی عرب میں شہنشاہیت کیلئے خطرہ نہ بنے، لیکن یہ قوتیں اپنے مزموم مقاصد میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ انصار اللہ جو یمن کی ایک موثر سیاسی جماعت ہے، اسے وہاں کی تمام مذہبی قوتوں کی حمایت حاصل ہے، اس پر دہشتگردی کا الزام سراسر بے بنیاد اور غیر منطقی ہے۔

ماضی میں سعودی عرب کی بھرپور کوشش رہی کہ یمن کو عدم استحکام سے دوچار کیا جائے اور اسے اتنا کمزور اور غیر محفوظ بنا دیا جائے کہ وہ کبھی بھی ایک قوت بن کر خطے کے اندر اپنی سیاسی حیثیت ثابت نہ کرسکے، لیکن سعودیہ اس میں ناکام رہا۔ اس ناکامی کا بدلہ لینے کیلئے سعودی عرب نے آج یمن پر حملہ کرنے کا اقدام کیا ہے، افسوس تو اس بات کا ہے کہ سعودی عرب جو امت مسلمہ کا چیمپیئن بنا ہوا ہے اور آج یمن کے مظلوم عوام پر بمباری کر رہا ہے، جبکہ اس نے آج تک اسرائیل کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولا اور اس کی یہ خاموشی اسرائیل دوستی کی آئینہ دار ہے۔ آج پوری دنیا گواہ ہے کہ سعودی عرب نے تمام عالمی قوانین اور حقوق انسانی کے جملہ تقاضوں کی مخالفت کرتے ہوئے یمنی مسلمانوں پر بمبوں کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ وہ وقت دور نہیں کہ جب مظلوم یمنی عوام کے فلک شگاف نالے اور آہ و بکا آل سعود کی بادشاہت کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ کیا اس بمباری سے خواتین اور شیر خوار بچے شہید نہیں ہو رہے ہیں؟ کیا اس سے بے گناہ مسلمانوں کا خون نہیں بہ رہا؟ اور انکی املاک نظر آتش نہیں ہو رہیں؟

آخر یہ سب کچھ کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے، کونسا دین، کونسا قانون اور کونسا اخلاق سعودی افواج کو اس امر کی اجازت فراہم کر تا ہے کہ وہ اس طرح کے بہیمانہ اقدام کرے۔ آج کے سیاسی منظر نامے میں اگر سعودی عرب اپنی حمایت میں چند ممالک پر مشتمل ایک اتحاد تشکیل دینے میں کامیاب ہوچکا ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے تو اسے اس بات سے باخبر رہنا چاہیئے کہ اس اتحاد کے مقابلے میں کوئی دوسرا مضبوط ترین اتحاد بھی سامنے آسکتا ہے۔ پاکستان کو چاہئیے کہ وہ خود کو اس آگ میں نہ جھونکے، کیونکہ ماضی میں اس طرح کے تلخ تجربات پاکستان کیلئے نشانِ عبرت ہیں اور وہ زخم ابھی تک تازہ ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ پاک فوج جو ایک غیر جانب دار معاملہ فہم، محب وطن، مخلص اور بہادر جرنیل جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں پاکستان کے اندر دہشتگردوں کے خلاف ایک موثر آپریشن میں مصروف ہے، وہ دوسروں کی جنگ کی آگ میں خود کو جھونکنے کی طرف نہیں بڑھے گی۔

تحریر: سبطین شیرازی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*