سانحہ پشاور۔۔۔۔اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

سانحہ پشاور۔۔۔۔اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

ایک بات طے ہے کہ ظلم و جبر کی گود میں پلنے والی فکر روزانہ نت نئے جابرانہ حربوں سے ہی پروان چڑھتی ہے۔اور اس کے کارندوں کو یہ مجبوری لاحق ہوتی ہے کہ ظالمانہ کارروایوں کی حدت و شدت میں روزانہ اضافہ کریں

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
بقلم: فدا حسین بالہامی
جین رحسین نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ
Innocence has nothing to dread(Jean Rance    
یعنی معصومیت کا خوف و ہراس کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیںہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ آزار پیشہ اور گناہ گار افراد کو ہی اس بات کا ہمیشہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ مبادا انہیںاپنے کیے کا خمیازہ بگتنا پڑے ۔ برعکس اس کے معصوم اور بے گناہ افراد اس طر ح کی کیفیت سے مبرا ہوتے ہیں۔ اب اگر اس معصومیت اور بے گناہی کو متشکل دیکھنا ہو تو بلا ناغہ انسانی زندگی کے خوبصورت، بے لاگ اور شفاف دور یعنی بچپن پر ہی جاکے نظریں ٹھہرتی ہیں۔ باالفاظِ دیگر ایک بچہ اپنی معصومیت کی بنیاد پر تمام تر کینہ پردازیوںسے بے نیاز ہوتا ہے۔ ظاہر سی بات بے زرر وجود کے تئیںکسی کا درپر آزار ہونا توقع کے برخلاف ہے۔ مگر انسان جب انسانیت کی حدودمٹاکر درندگی پر اترآتا ہے تو اسے کچھ ایسے غیر متوقع افعال بھی صادرہوتے ہیں۔ جو خاص و عام کے لئے باعث ِحیرت ہو ا کرتے ہیں۔ اس کی ایک جیتی جاگتی مثال ١٦ دسمبر کو پشاور میںطالبان کے ہاتھوںمعصوم بچوںکا قتل عام ہے۔ اس واقع سے قبل کیا کسی سعید فطرت انسان کے وہم و گمان میںبھی یہ بات آسکتی تھی کہ ان ننھے فرشتوںکو بھی خونِ ناحق میں نہلایا جائے گا؟ یقینا مارے گئے بچوںکا یہ انجام ان کے خواب و خیال میںبھی نہیںآیا ہوگا۔کیونکہ اول تو وہ دنیا کی موجودہ حالات سے بے نیا ز ہوتے ہیں دوم وہ کسی سے دشمنی و کینہ نہیں رکھتے ہیں
  بہرحال تحریک طالبان پاکستان کی اس انسانیت سوز کارروائی سے دنیائے انسانیت سکتے میںہے۔ درندگی کا اس سے بڑھ کر مظاہرہ کیا ہوسکتا ہے۔ کہ ایک اسکول پر جدید ترین ہتھیاروںسے لیس ٦افراد پر مشتعل  ایک خود کش جتھہ حملہ آور ہوا۔ پہلے تو بم دھماکے ہوئے اور اس کے بعد کلاس بہ کلاس اندھا دھند گولیاںچلائی گئیں۔ کچھ بچوں نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے مختلف جتن کئے مگر سب بے سود ثابت ہوئے ۔کچھ بچوں نے خود کو بینچوں کے نیچے چھپایا لیکن حملہ آوروں نے انہیں ڈھوند ڈھانڈ کر ہلاک کر دیا ۔استادوں کے سامنے پوری کی پوری کلاس کے بچے موت کے گھاٹ اتارے گئے اور اس کے بعد علم و ادب کے خزینوںیعنی استادوںکے سینوںکو گولیوںسے چھلنی کیا گیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک سو بتیس بچوںکو شہید کیا گیا۔ حملے کے وقت صورت حال نے کس طر ح کا رخ اختیار کیا ہوگا سوچ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ بچوںکی چیخ و پکار، اشکوںسے لبریز چھوٹی موٹی ملتجی آنکھیں ،تندو تیز آندھیوںمیںپتوں کی طرح لرزتے ننھے منھے انسانی پیکر ،ہانپتی کانپتی زبانوں پر صدائے الغیاث و الامان۔
اس انسانی المیہ کو دیکھ کر ہر آنکھ اشکباراور ہردل سوگوار کیوں نہ ہو۔ ان ادھ کھلے پھولوں کا کیا قصور تھا؟ ان ننھے فرشتوں کوکہ جنہوں نے ابھی اپنے پر وا بھی نہیںکئے کس جرم کی سزا دی گئی۔ کون سی کدوت ان کے دل میں تھی جسے طالبان نے ان کے گرم لہو سے دھو ڈالا۔ خالق نے بچوںکو ایک ایسے مقناطیسی وصف سے مالا مال کیا کہ  جو شقی سے شقی ترین افراد کے جذبہ شفقت کو بھی اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔مگر نفرتوں کے یہ سوداگر کس قدر اس جذبہ سے عاری ہیںکہ انہوںنے ان بچوںکو چونٹیوںکی طرح مسل ڈالا اور شقاوتِ قلبی کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب رقم کر دیا۔ قومیت رنگ و نسل اور مسلک و مشرب سے ہٹ کر دیکھیں تو یہ کومل پیکر انسانی وجود نفرت سے منزہ، کدورت سے پاک، تعصب سے مبرہ، عصبیت سے دور ،پاک طینت، صاف دل، بے دا غ ضمیر اور حسین  و جمیل پیکر میںملکوتی روح کے حامل دکھائی دیںگے۔ان کی توتلی زبان انسانی روح میں تمام تر تلخیوں کو مٹا کر مدھرتا(مٹھاس)کا رس گھولتی ہے۔
بہرکیف یہ دلدوز واقع جس سے قدرجذباتی پہلو کا حامل ہے اسی قدر چند ایک معروضی نکات کو بھی زیر غور لانے کا متقاضی ہے۔ جب ہم اس واقع کو معروضی نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ اس بربریت کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے۔ پشاور کا واقع اپنی نوعیت کا پہلا واقع نہیں ہے اس سے قبل بھی لاتعداد واقعات اسی مجرم گروہ کے ہاتھوں مرضِ وجود میں آچکے ہیں۔جن پر انسانی ضمیر تا ابد نوحہ کناں ہوگا گزشتہ کئی سالوں سے انہوں نے بارہا انسانیت کی مٹی پلید کی ہے۔امسال ١٦ دسمبر کو اگر ایک سو بتیس بچوں سمیت  ڈیڑھ سو کے قریب بے گناہ جانیں ضائع ہوئیں۔ تو گذشتہ سال ان ہی ایام میں کوئٹہ کے سو سے زائدانسانوں کا قتل عام ہوا۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ سکولی بچوں کا قتل عام گذشتہ واقعات سے بہت زیادہ پر اثر ہے مگر اس کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس سے قبل دہشت گردی کے جتنے بھی واقعات پیش آچکے ہیں وہ یکسر غیر موثر تھے۔ کیا کوئٹہ کا قتل عام انسانی ضمیروں کو جھنجھوڑ نے کی سقت نہیں رکھتا تھا کہ اس پر عالمی سطح علی الخصوص پاکستان میں ملکی سطح پر وہ ردِ عمل سامنے نہیں آیا جس کا یہ واقعہ واقعی حقدار تھا۔ اصل میں آج کے واقع کا تجزیہ گذشتہ واقعات کے تناظر میں کرنے کی ضرورت ہے۔ تبھی تو صحیح نتیجے تک پہنچنا ممکن ہے۔ حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے  تویہ بات مترشح ہو جاتی ہے کہ اس سے قبل دہشت گردی کے بیشتر واقعات ایک مخصوص طبقہ فکر سے وابسطہ افراد کے ساتھ پیش آئے ہیں  لہذا اکثریت نے کسی شایانِ شاں ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔ جس سے نہ صرف دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہوئے بلکہ ان کے مربیوں کو بھی گرین سگنل مل گیا۔ یہی وجہ ہے کہ نوبت یہاں تک آگئی۔ ظاہرسی بات ہے کہ جب کسی قبیح عمل کیلئے معاشرہ میں کوئی خاطر خواہ مزاحمت نہ ہو تو وہ قبیح عمل انتہا کی سرحدوں کو چھو کر ہی دم لیتا ہے۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں باضوابطہ ایک ربط و تسلسل کا پایا جانا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جس طرح کا ردِ عمل عالمِ انسانیت علی الخصوص پاکستانی قوم نے اس مرتبہ دکھایا اگر یہی رد عمل بہت پہلے سامنے آیا ہوتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ کسی لگی لپٹی کے بغیر کہنا چاہیں  تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر گذشتہ سال ان ہی ایام میں کوئٹہ کی شاہراہ پر تین دن تک ١٢٠ کے قریب لاشوں کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہوتا تو شایداس سال یہ ایک سو سنتالیس لاشوں کا منظر دہرایا نہیں جاتا۔
معروضی تجزیہ میں جو دوسری بات اہم یہ ہے کہ اس واقعے کو محض مقامی سطح کاواقعہ جان کر ٹالا نہیں جاسکتا۔ کیونکہ اسلام کے نام پر شدت پسندی کا یہ عفریت صرف پاکستان میں ہی اپنی قرسامانیوں سے عوام کو خوف و وحشت میں مبتلا نہیں کررہا ہے بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں اس بربریت کا مظاہرہ ہورہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک اور خطوں میں سرگرم ان شدت پسندوں کے عقاید و نظریات یکساں ہیں نہ صرف طرز فکر بلکہ طرزِ عمل میں بھی شباہت اس بات کی ناقابل ِ تردیددلیل ہے کہ دہشت گردی کا ایک منظم نیٹ ورک پوری دنیا میں سرگرم ہے اور خاص قسم کی آئیڈیولاجی کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کے  لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ ان سب گروہوں کی فکری پناگاہ ایک ہے یہ سب ایک ہی نظریاتی منبہ  سے سیراب ہوتے آئے ہیں۔ اور ایک ہی Source سے ان کی مالی معاونت کی جاتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ شام اور عراق میں داعش نائیجریا میںبوکوحرام اور پاکستان میں طالبان جغرافیائی تفاوت کے باوجود ایک ہی فکری اساس کے حامل ہیں۔ تکفیری طرزِ تفکر کی بنیاد پر ہی اپنی آئیڈیولاجی کو ہی برحق سمجھ کر پوری دنیا پرغالب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں تمام جبری ذرایع کا بے دریغ استعمال اپنا حق سمجھتے ہیں اورتو اور اس مخصوص قسم کی آئیڈیولاجی کے منکروںکو واجب القتل سمجھتے ہیں۔ ان کے جان و مال اور عزت و آبرو کو مباح گردانتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان نے سکولی بچوںپر حملہ کرکے پہلی مرتبہ یہ کارنامہ اپنے نامہ اعمال میں درج نہیںکروایا ہے بلکہ اسے قبل ہی داعش نے شام میں ایک سکول کے کئی بچوں کو ان کے والدین کی آنکھوںکے روبرو قتل کرڈالا اور بعد اذاں ان کے بدنصیب والدین کو بھی موت کے گھاٹ اتارا۔ اسی طر ح نائیجریا میںبوکوحرام نے تین سو سے زائد سکولی طالبات کو اغوا کرکے یہ ثابت کیا کہ وہ بھی طالبان کی طرح موجودہ مروجہ تعلیم کو غیر اسلامی سمجھ کر اس نظامِ تعلیم کی بیخ کنی پر کمر بستہ ہیں۔ تحریک طالبان نے وزیرستان اور سوات میں ہزاروں سکولوں کو زمین بوس کرکے بوکوحرام کے ساتھ فکری ہم آہنگی کا بین ثبوت پیش کیا ہے۔ یاد رہے جس ہفتے میں طالبان نے پشاور میں خون کی ہولی کھیلی اسی ہفتے میں داعش نے ڈیڑھ سو خواتین کو عراق میں ذبح کر ڈالا کیونکہ  انہوں نے جہاد النکاح کے تحت داعش کے دہشت گردوں کی جنسی تسکین کا ذریعہ بننے سے انکار کیاتھا۔
واضح رہے کہ بچوں اور طبقہ نسواں کو حضورِ ااکرم کی تعلیمات کے مطابق جنگی حالات میں بھی استثنائی  پوزیشن حاصل ہے  اگر چہ ان کا تعلق حربی دشمن سے بھی ہو۔ لیکن ان دہشت گردوں نے نبی کریم کی تمام تعلیمات اور سیرت پاک کے بالکل برعکس اسی لائق ترحم طبقے کو نشانہ بناڈالا۔  وہاں عراق میں داعش نے ڈیڑھ سو خواتین کے گلے کاٹے اور یہاں پاکستان میں طالبان نے اسی تعداد میں بچوں کو تہہ تیغ کیا۔ اور بوکوحرام نے تین سو سے زائد طالبات ک کے ساتھ کنیزوں جیسے رویہ روا رکھ کراپنے وحشت و دہشت کی ڈھاک بٹھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ فرعونی حربہ اسی لئے پھر ایک بار آزمایا گیا تاکہ ان کے حریفوں کی نفسیات میں ان مسلح گروہوں کا رعب طاری ہو جائے۔ ان کی غیر انسانی کارروائی کے مابین مماثلت کو محض اتفاق گرداننا اصل حقیقت سے چشم پوشی ہے۔ لہذا پشاور کے سانحہ کو اس عالمی دہشت گردی کا مقامی روپ قرار دیا جاسکتا۔ جس نے عالم اسلام کے بیشتر ممالک کو مختلف زاویوں  سے اپنا ہدف بنایا ہے۔
بہر حال ایک بات طے ہے کہ ظلم و جبر کی گود میں پلنے والی فکر روزانہ نت نئے جابرانہ حربوں سے ہی پروان چڑھتی ہے۔اور اس کے کارندوں کو یہ مجبوری لاحق ہوتی ہے کہ ظالمانہ کارروایوں کی حدت و شدت میں روزانہ اضافہ کریں۔ اسی طرزِ عمل کے تحت ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ جہاں ظلم و جور کی تمام حدود کو عبور کیا جاتا ہے۔ تحریک طالبان نے معصوم بچوں پر شب و خون مارکر اسی مقام پر ظلم کے جھنڈے گاڑھے ہیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو اس بات کا شاید ادراک نہیں ہے کہ جب ظلم حد سے گزرجاتا ہے تو وہ ظالم کے اختتام کا باعث بھی بنتا ہے۔ ایک سو بتیس ننھے شہیدوں نے اپنے لہو سے یہ گواہی دی کہ ان کے قاتل جس راستے پر جارہے ہیں وہ گمراہی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اگر چہ ان کا نعرہ نفاذِ شریعت اسلامی ہی کیوں نہ ہو۔ اس معصوم گواہی کو کوئی کورچشم شخص بھی نظر انداز نہیں کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف عالم انسانیت نے بلالحاظِ مذہب و ملت اس واقعے کی مزمت کی بلکہ طالبان کے حوالی موالی بھی اس سانحہ پر خاموش نہ رہ سکے۔ انہیں بھی  اس بات کا احساس ہوا کہ یہ سانحہ ظلم و زیادتی کی انتہا ہے۔ یہاں تک تحریکِ طالبان کی فکری پناہ گاہوں سے بھی اس مرتبہ مذمتی بیان سامنے آگئے۔ اور جو ہاتھ درپردہ اس گروہ کو فکری و اقتصادی اور افرادی قوت کے حوالے سے معاون مددگار ہیں وہ بھی بظاہر چھاتی پیٹتے نظر آئے۔حتیٰ کہ ان کے سرپرستوں نے بھی اس مرتبہ اس بہیمانہ کاروائی سے پلو جھاڑنے کی ناکام کوشش کی۔
پشاور کا سانحہ تاریخ میں اپنی نوعیت کاپہلا اور آخری واقعہ نہیں ہے۔ بلکہ تاریخ کو بار بار دہرایا جاتا ہے کربلا میں  اسلام کے نام پر ایک پیاسے بچے کو حرملا نے تیر سے ذبح کر ڈالا اور یہاں پشاور میں بھی علم و آگہی کے پیاسے بچے علمی سرچشمے سے سیراب ہورہے تھے کہ ان علم و آگہی کے پیاسوں کو حرملا کے پیروکاروں نے پیاسا ہی شہید کردیا۔ مگر جس طرح حضرتِ علی اصغر نے اپنی شہادت پیش  کرکے یزیدیت کے تن سے اسلامی لباس نوچ ڈالا۔ اور اس کی حقیقت عریاں کردی۔ اسی طرح پشاور کے ان سکولی بچوں نے بھی اسلامی شریعت کے نفاذ کے دعوی داروں کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ اور ظلم کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ اس واقعے نے حقیقی اسلام اور امریکی اسلام کے مابین امتیازی اقدار کو نئی جلا بخشی۔ اور اسلام کا لبادہ اوڑھے اسلام کے اصلی وازلی دشمنوں کی طینت کو ظاہر کرکے بتادیا۔کہ ظالموں اور جابروں کا کسی مذہب کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا ہے ۔ بلکہ یہ مذہب کو بحیثیت ِہتھیار استعمال کرتے ہیںچنانچہ اسلامی تاریخ سے بات مترشح ہے کہ طاغوت کے کارندوں نے اسلامی نظام کا سہارا لے کر بہت سے  اسلام پسندوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کو شش کی ہے لیکن ان کے ہاتھوں کبھی کبھار اس طرح کی گھناونی حرکت سر زد ہوجاتی ہے  جسے ان کا اصل چہرہ سامنے آ جاتا ہے۔پشاور کا سانحہ اسی گھناونی حرکت کا شاخسانہ ہے۔ کربلا کے ننھے شہید کی شہادت کے آگے یزیدیت کے حامیوں کی لن ترانیاں دیوانے کی بڑھ معلوم ہوتی ہے ۔ کیونکہ اس معصوم شہادت کی اس کے سوا اور کوئی تاویل نہیںہو سکتی ہے کہ قاتلانِ حسین (چاہے کسی بھی طبقے سے ان کا تعلق ہو) مسلمان تو دور کی بات انسان بھی نہیں تھے اسی طرح پشاور کے کم سن شہیدوں کی شہادت نے ان کے قاتلوں کو دائرہ انسانیت سے خارج کر دیا ۔اور ان کی اس  تہمت کوباطل ثابت کیا کہ یہ مار دھاڑ اسلامی نظام کی نفاذ کی خاطر ہو رہا ہے ۔اس لئے یہ بات صد فی صد حق ہے کہ   مظلومیت نے ہر دور میں چہرہ ٔحق کو خون سے نکھارا ہے۔  
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
........

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*