شہید علامہ نواز عرفانی کی شہادت کے پس پردہ محرکات

شہید علامہ نواز عرفانی کی شہادت کے پس پردہ محرکات

عین ممکن ہے کہ داعش کے نام سے فعال سابقہ طالبان اور سپاہ صحابہ نے شہید کو ایک گھناونے مشن کی نیت سے قتل کیا ہو، تاکہ ایک طرف اپنے حریف سے چھٹکارا حاصل کرسکیں جبکہ دوسری طرف اپنی ایک مضبوط حریف قوم کو آپس میں لڑا اور الجھا کر کمزور کیا جاسکے، تاکہ کسی بھی وقت اپنے مضبوط ترین حریف پر حملے کی صورت میں انہیں شکست دی جاسکے، جبکہ کرم ایجنسی میں آباد طوری بنگش قبائل کو یہ لوگ گذشتہ کئی سال سے آزما چکے ہیں کہ یہ دوسرے قبائل کی مانند نہیں بلکہ یہ ایک ناقابل شکست قوم ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مرکزی جامع مسجد پاراچنار کے خطیب شہید علامہ محمد عرفان نواز کو اسلام آباد کے سیکٹر ای 11 میں 26 نومبر بروز بدھ رات سات اور آٹھ بجے کے درمیان گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا تھا۔ آقائے شہید کو کس نے اور کس مقصد کے لئے قتل کیا، یہ پاکستان میں قتل ہونے والے ان سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں شیعہ علماء، زعماء، آفیسرز وغیرہ کی مانند ایک لا ینحل معمہ ہے جس کا آج تک نہ کوئی حل نکالا جاسکا اور نہ ہی اس سلسلے کو روکا جاسکا۔ اگرچہ مذکورہ قتل کی ذمہ داری ایک دہشتگرد تنظیم نے قبول کرلی ہے، تاہم اس قتل کو فقط شیعہ ٹارگٹنگ کے طور پر نہیں لینا چاہئے بلکہ اسکے پیچھے مزید خطرناک عزائم کارفرما ہوسکتے ہیں۔

پاراچنار کے ساکنین کی رائے
اس حوالے سے بندہ نے اسلام آباد نیز کرم ایجنسی میں شہید کے خانوادے، سوگواروں اور دیگر متعلقین سے ٹیلی فون کے ذریعے معلومات اکٹھی کرکے کچھ نتائج اخذ کئے ہیں، جنہیں قارئین کی نذر کر رہے ہیں۔ ہنگو سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام جو شہید کے جنازے میں شرکت کرنے پاراچنار تشریف لے گئے تھے، اس حوالے سے جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ شہید کے فرزند جناب مھدی عرفانی کے مطابق انکے والد شہید سات بجے کے قریب گھر سے نکلے، میں نے ساتھ جانے کو کہا، لیکن انہوں نے قبول نہ کیا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ والد صاحب گھر کے پیچھے والی گلی سے مین روڈ کی جانب چلے گئے۔ مہدی عرفانی نے مزید بتایا کہ کوئی آٹھ بجے کے قریب اسے فون کے ذریعے اطلاع ملی کہ انکے والد زخمی حالت میں پمز ہسپتال اسلام آباد میں پڑے ہیں۔ فوری طور پر ہسپتال ہہنچ کر جب انہیں زخمی اور خون میں لت پت دیکھا تو پہچان نہ سکا، خون صاف کرنے پر یقین ہوا کہ مذکورہ زخمی میرے والد ہی ہیں۔

میرے ایک دوست علی نواز جعفری نے اپنے ایک دوست شریف حسین طوری کے حوالے سے بتایا کہ وہ شہید آغا عرفانی کی فاتحہ خوانی میں بیٹھا تھا، اس دوران آغائے شہید کے فرزند کو تعزیت پیش کرنے اور تسلی دینے کی غرض سے نامی گرامی افراد آتے رہے، چنانچہ ایسے افراد سے شہید کے فرزند جناب مہدی حسین کا کہنا تھا کہ سات بجے کے قریب کسی کے فون پر آغا صاحب گھر سے روانہ ہوئے، میں نے ساتھ جانے کی حامی بھری لیکن والد محترم نے قبول نہ کیا۔ چنانچہ وہ اکیلے ہی گھر سے نکل پڑے۔

اسلام آباد میں موجود پاراچنار سے تعلق رکھنے والے اکبر حسین طوری کا کہنا تھا کہ انکے علاقے کے ایک دوست جو اداروں میں کام کرتے ہیں، نے اسے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ اپنے ادارے میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ موصوف کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی تھی، کیونکہ مرحوم کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ تاہم مرحوم کی بھرپور مزاحمت اور مقصد میں ناکامی پر ملزموں نے گولی کو آخری حربہ جان کر اپنا مقصد پورا کیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پورے ملک میں دہشتگردی کی اتنی تیز لہر کے باوجود علامہ مرحوم کا اسلام آباد جیسے حساس علاقے میں اکیلے پھرنا انتہائی غفلت اور نہایت خطرناک اقدام تھا۔ مذکورہ اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں جبکہ ایک عام شیعہ دکاندار خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے تو ایسی حالت میں ایک جانی پہچانی شخصیت اور عالم دین ہونے کے ناطے علامہ موصوف کا تن تنہا پھرنا، اگر ایک لحاظ سے بڑی غفلت ہے تو دوسری جانب، اسکے پس پردہ کچھ اور عوامل بھی ممکن ہوسکتے ہیں۔

ایک اور دوست نے ساجد حسین طوری کے حوالے سے بتایا کہ آغا صاحب کے گھر اور آمد و رفت کا کسی کو بھی علم نہ تھا۔ انکا کہنا تھا کہ کسی شخص کو اگر آغا صاحب سے یا اسکے برعکس آغا صاحب کو کسی سے کام ہوتا تو وہ خود ہی اس شخص کی جائے اقامت پوچھتے، اور پھر خود جاکر اس سے مل لیتے۔ بندہ نے اپنے ایک پرانے دوست صامت حسین سے جب یہ پوچھا کہ علامہ شہید کے پاس محافظ موجود تھے تو انکا کہنا تھا کہ میرے علم کے مطابق جب وہ پاراچنار شہر میں تھے تو انکے ساتھ کئی گارڈ ہوا کرتے تھے، جبکہ یہاں بھی عام طور پر کچھ مخصوص افراد انکے ساتھ بطور گارڈ ڈیوٹی سرانجام دیا کرتے تھے۔ لیکن بعض حالات میں وہ اپنے ہمراہ گارڈ نہیں رکھتے تھے۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ گارڈ کی وجہ سے انسان کی شناخت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ شاید اسی خدشے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے وہ بعض اوقات محافظین کے بغیر گھومتے تھے۔

ھدف سے قبل حملہ آور کیا تیاری کرتا ہے؟
مذکورہ بالا افراد کی فراہم کردہ معلومات سے حاصل ہونے والے نتائج کا ذکر کرنے سے پیشتر اپنے قارئین سے دہشتگردی کے حوالے سے کچھ اہم نکات عرض کرنا مناسب خیال کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ دہشتگردی کا شکار ہونے والے افراد کے واقعات و سانحات کا اگر تفصیل سے مطالعہ کیا جائے تو آپ پر واضح ہوجائے گا کہ
1: حملہ آور اس وقت تک اپنے ٹارگٹ تک پہنچ نہیں سکتا، جب تک مطلوب کے حلیئے، سواری، رہائش، روٹ اور ٹائم کا پتہ نہ ہو۔ یہاں تک کہ بعض اوقات ٹارگٹ کلر اپنے ٹارگٹ کی رہائش گاہ تک رسائی حاصل کرتا ہے۔
۲: ٹارگٹ کلر پوری طرح اطلاع حاصل کرتا ہے کہ اسکے ھدف کے پاس کتنے محافظ اور انکے پاس کس قسم کا اسلحہ موجود ہے۔
۳: ھدف جس راستے کو معمولاً استعمال کرتا ہے اس راستے کے متعلق وہ دقیق معلومات حاصل کرتا ہے، یعنی یہ کہ اس راستے میں کہیں مطلوبہ ہدف کے حامیوں یا پولیس کی جانب سے خطرہ تو موجود نہیں۔
۴: حملہ آور کے لئے سب سے اہم بات مطلوبہ ھدف کا مخصوص ٹائم ہوتا ہے، کیونکہ وہ اسلام آباد تو کیا عام دیہاتی علاقے میں بھی مشکوک حالت میں یعنی ہتھیار وغیرہ سمیت زیادہ عرصے تک انتظار نہیں کرسکتا۔

شہید آغا کے قاتل کون ہوسکتے ہیں
اب اسی تناظر میں شہید آغائے محمد نواز عرفانی کے سانحہ قتل کو دیکھ کر تجزیہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کے پس پردہ کونسے عوامل اور محرکات ہوسکتے ہیں۔
1: جیسا کہ ذکر ہوا کہ شہید کے ٹھکانے کا علم بعض قریبی دوستوں کو بھی نہ تھا جبکہ واضح ہے کہ جب مطلوبہ ھدف کا ٹھکانہ معلوم نہ ہو تو اسکو نشانہ بنانا بہت مشکل بلکہ ناممکنات میں سے ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسی صورت میں صرف ایجنسیاں ہی یہ کام کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔ جنکو فون یا کسی اور پیشرفتہ ٹیکنالوجی کی مدد سے معلومات ہوتی ہیں۔ یوں وہ خود یا اپنے کسی آلہ کار کی مدد سے ایسے شخص کو نشانہ بناسکتی ہیں۔
۲: اپنے ہی دوستوں میں سے کوئی قابل اعتماد شخص یہ کام کرسکتا ہے جسے نشانہ بننے والے کی رہائش، حلیے، روٹ اور وقت وغیرہ سب کچھ کے متعلق بھرپور معلومات ہوں۔
۳: کوئی بھی دشمن، دوست کا روپ دھار کر ھدف سے مطلوبہ معلومات اکٹھی کرکے اسکے خلاف خود پلاننگ کرتا ہے یا کسی کا تعاون حاصل کرتا ہے۔
لہذا قوی احتمال یہ ہے کہ ماضی میں پاراچنار میں، بعض اداروں کے پروردہ طالبان کو پے در پے شکست سے دوچار کرنے والے طوری بنگش اقوام میں ڈیڑھ سال سے موجود کشیدگی سے فائدہ اٹھا کر انہی اداروں نے یہ کام کرکے اس ناقابل شکست قوم کو اس کئے کی سزا دی ہو۔ اسکے علاوہ یہ بھی احتمال ہے کہ کسی جانے پہچانے دوست نے فون کے ذریعے کسی بہانے سے شہید کو بلایا ہو اور تاک میں بیٹھ کر اسے پہلے اغوا کرنے کی کوشش کی ہو، جبکہ شدید مزاحمت پر یا کسی کے آنے کے خدشے سے انہیں قتل کر دیا ہو، جبکہ وقت گزرنے پر یہ اور اس جیسے کئی مزید شکوک بھی سامنے آنا متوقع ہیں۔
 
علاقائی شیعان کا فریضہ
جبکہ یہاں ایک گزارش یہ کی جا رہی ہے، کہ یہ ایک المناک حادثہ تو ہوگیا، اب اسے واپس تو نہیں کیا جاسکتا، تاہم تمام مومنین خصوصاً علمائے کرام سے یہ گزارش ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے سب سے اہم پہلو احتیاط ہے۔ آج کل تو اہل تشیع کے لئے حالات بہت ہی نازک ہیں، عام اور بالکل نارمل حالات میں عالم دین تو کیا بلکہ کوئی عام دکاندار بھی بلا ضرورت گھومتے پھرنے سے حتی الوسع اجتناب کرے، جبکہ علماء کرام کو تو خاص طور پر احتیاط برتنی چاہئے بلکہ انہیں رات تو کیا دن کو بھی بلا ضرورت کہیں جانے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ اس حوالے سے بہت سارے خدشات کے ساتھ ساتھ ایک قوی خدشہ اور بھی پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ کچھ دن قبل اسلام ٹائمز میں ایک کالم پڑھنے کو ملا، جس میں داعش کی جانب سے پورے پاکستان خصوصاً پاراچنار کو لاحق خطرات کے متعلق آگاہ کیا گیا تھا۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وزیرستان میں ہونے والے آپریشن کے متاثرین کا انتقام اب داعش کی شکل میں اہلیان پاراچنار سے لیا جا رہا ہے۔
 
چنانچہ راقم الحروف کا خیال ہے کہ عین ممکن ہے کہ داعش کے نام سے فعال سابقہ طالبان اور سپاہ صحابہ نے شہید کو ایک گھناونے مشن کی نیت سے قتل کیا ہو، تاکہ ایک طرف اپنے حریف سے چھٹکارا حاصل کرسکیں جبکہ دوسری طرف اپنی ایک مضبوط حریف قوم کو آپس میں لڑا اور الجھا کر کمزور کیا جاسکے، تاکہ کسی بھی وقت اپنے مضبوط ترین حریف پر حملے کی صورت میں انہیں شکست دی جاسکے، جبکہ کرم ایجنسی میں آباد طوری بنگش قبائل کو یہ لوگ گذشتہ کئی سال سے آزما چکے ہیں کہ یہ دوسرے قبائل کی مانند نہیں بلکہ یہ ایک ناقابل شکست قوم ہے۔ انکی شکست فقط اس نکتے میں پوشیدہ ہے کہ سب سے پہلے ان میں نفاق کی صورت میں دراڑ پیدا کی جائے، تب ہی جاکر ان کو شکست دی جاسکتی ہے۔
 
شہید کے خانوادے اور علماء کرام کا فریضہ
اس سلسلے میں شہید کے خانوادے سے بذریعہ اسلام ٹائمز یہ گزارش کیجاتی ہے کہ شہید کے فون کا بخوبی جائزہ لیا جائے کہ اس پر جو ان کمنگ اور آوٹ گوئنگ کالز ہیں، پولیس کی مدد سے ان کالز کا تجزیہ کیا جائے، جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انکے ساتھ آخری دفعہ کن کن افراد کا رابطہ ہوا ہے اور انکے ساتھ ہونے والی گفتگو کا ریکارڈ حاصل کیا جائے تو اصل ملزمان تک رسائی ممکن ہوسکتی ہے۔ پاراچنار کے علماء کرام، تعلیم یافتہ طبقے اور دیگر تمام افراد سے یہی گزارش کی جاتی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں اور دشمن کو غلبہ حاصل کرنے کا کوئی موقع خود اپنے ہاتھوں سے فراہم نہ کریں۔ اس حوالے سے ملک بھر کے علماء کرام خصوصاً شہید کے خانواے کے اہم افراد سے بھی گزارش ہے کہ اس نازک صورتحال میں وہ خود جاکر وہاں کے عوام کو سمجھائیں، کیونکہ ستم دیدہ فرد یا قوم کو خود کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا، انکے امور کو دوسرے لوگ بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔ آخر میں رب ذوالجلال سے یہی دعا ہے کہ خدا وندا، بحق محمد وال محمد پاکستان کے تمام شیعان، خصوصاً پاراچنار کے اہل تشیع کو متفق و متحد رکھے۔

رپورٹ: انعام علی گلگت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*