جارج جرداق: میں خود کو علوی شیعہ سمجھتا ہوں

جارج جرداق: میں خود کو علوی شیعہ سمجھتا ہوں

انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ آپ حضرت علی (ع) کو اتنی عظیم شخصیت کے عنوان سے پہچاننے کے بعد بھی عیسائی ہیں؟ کہا: میں علی(ع) کی انسانیت اور ان کے مقصد کا عاشق ہوں اور یہ کہنا چاہوں گا کہ میں خود کو علوی شیعہ سمجھتا ہوں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ چند روز قبل حضرت علی علیہ السلام کے متعلق ریسرچ کرنے والے عیسائی محقق جارج جرداق کا انتقال ہو گیا تھا اس مناسبت سے ہم ان کا ایک انٹرویو ابنا کے قارئین کے لیے شائع کر رہے ہیں جو لبنان میں ایران کلچر ہاوس کے کارکن ’’حسن صحت‘‘ نے ان سے لیا تھا۔ جب انہوں نے کتاب’’ علی، ندائے عدالت انسانیہ‘‘  لکھی تو ایران کے بادشاہ رضا پہلوی نے ان کے ایران جانے پر پابندی عائد کر دی تھی اس حوالے سے انہوں نے اس انٹرویو میں گفتگو کی۔
جارج جرداق نے اس بارے میں کہا: مجھے یاد ہے کہ ایرانی شاہ کی مخالفت کی وجہ دو موضوع تھے؛ پہلا یہ کہ اس کتاب میں ایک باب ’’ظالم بادشاہ‘‘ کے عنوان سے تھا جس کی وجہ سے شاہ ایران یہ سوچ رہا تھا کہ ہم نے اس کتاب کے ذریعے اس کی مخالفت کی ہے اور دوسرا موضوع امیر المومنین(ع) کی عدالت اور خاص طور پر آپ کا فقیروں اور مسکینوں کی مدد کرنا تھا جس کی وجہ سے اس نے ہماری کتاب پر پابندی عائد کر دی تھی۔
کتاب’’ علی، ندائے عدالت انسانیہ ‘‘ کے مولف نے اس سوال کے جواب میں کہ علی علیہ السلام کی زندگی کے کون سے حصے نے انہیں زیادہ متاثر کیا، کہا: علی علیہ السلام کی ساری زندگی انسانیت، عدالت اور عفو و درگذشت کا سرچشمہ ہے اس لیے کہ جہاں آپ ابن ملجم کو بھی بخش دیتے ہیں اور اس سے قصاص نہیں لیتے، دشمن کے سینے پر سوار ہو کر نیچے اتر آتے ہیں اور اسے قتل نہیں کرتے، بیت المال کی نسبت کس قدر حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہیں، علی کا مقام بہت سارے انبیاء سے بھی بالاتر ہے۔
جرداق نے اپنے بچپنے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہ کیوں انہوں نے اتنے انبیاء، اوصیاء، اولیاء اور دیگر بڑی بڑی شخصیات کو چھوڑ صرف حضرت علی (ع) پر قلم اٹھایا کہا: میں جنوبی لبنان میں پیدا ہوا اور شروع شروع میں، میں اسکول سے بھاگ جایا کرتا تھا اور پڑھنے لکھنے سے مجھے بالکل دلچسپی نہیں تھی، یہاں تک کہ ٹیچرز مجھے سزا بھی دیتے تھے لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ ایک دن میرے بڑے بھائی نے مجھے تنبیہ کرنے کی خاطر نہج البلاغہ دی تاکہ چند صفحے اس کا املاء لکھوں۔
انہوں نے کہا: جب میں اس دور میں نہج البلاغہ کو لکھتا اور پڑھتا تھا تو مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا لیکن میں نے اس کتاب کو اپنے پاس رکھ لیا پھر جب میں جوان ہوا تو اس کو پڑھنا شروع کیا تب میں اس کی کچھ کچھ عبارتیں سمجھتا تھا اس دوران مجھے علی علیہ السلام کے بعض جملے بہت ہی جذاب لگے اور میں نے اسی دوران علی علیہ السلام کے بارے میں تحقیق کرنے کا ارادہ کر لیا۔
جرج جرداق نے کہا: میں نے حضرت علی کے بارے میں بہت ساری کتابوں جو مصر اور دوسرے ملکوں میں چھپی تھی کا مطالعہ کیا لیکن مجھے ان میں سے کوئی بھی نہج البلاغہ اور حضرت علی (ع) کی شان کے مطابق نہیں لگی یہ چیز باعث بنی کہ میں نے یہ کتاب «الامام علي، صوت العدالة الانسانية» تالیف کی۔
انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ آپ حضرت علی (ع) کو اتنی عظیم شخصیت کے عنوان سے پہچاننے کے بعد بھی عیسائی ہیں؟ کہا: میں علی(ع) کی انسانیت اور ان کے مقصد کا عاشق ہوں اور یہ کہنا چاہوں گا کہ میں خود کو علوی شیعہ سمجھتا ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*