لائیک اور شئیر

لائیک اور شئیر

دانستہ یا نادانستہ اس قسم کی حرکتیں کرنے والوں سے میرا محض ایک سوال ہے کہ آپ نے بہت سکون سے ایک نبی کی قبر کی پامالی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا گوارا کیا۔ چاہا کہ دوسرے بھی اسے دیکھیں۔ سو شئیر کر دیا۔ ساتھ میں لعنت ملامت بھی کر دی۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ بس اتنا بتا دیجیئے کہ ۔۔۔۔۔۔۔؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کم ازکم اگلے سو سال تک ہمارے لئے صرف پرنٹ میڈیا ہونا چاہئے تھا۔ تاکہ ہمارے اندر پڑھنے، لکھنے، سمجھنے اور سمجھانے کی عادت پروان چڑھ پاتی۔ ہمارے شب و روز اخبارات، رسائل، کتب اور کاغذ پر لکھی تحقیقی تحریروں کے درمیان گزرتے۔ ہم گذشتہ دنیا اور اس میں بسنے والی قوموں کی تاریخ پڑھتے۔ وہ تاریخ ہمیں آئینہ دکھاتی، جسکی روشنی میں ہم اپنی ذاتی اور اجتماعی تربیت کرتے۔ ہم اخلاق نامی خلائی مخلوق کو پکڑ کر دیکھتے کہ یہ کیا بلا ہے کہ جسکو پکڑ کر غیر مسلم اور دوسری اقوام کہاں سے کہاں پہنچ گئیں۔ ہمیں معاشرتی، سیاسی، معاشی اور اخلاقی مسائل کا ادراک ہوتا تو ہم الیکٹرونک میڈیا کے صحیح استعمال کے قابل ہوپاتے۔ تب ہمیں معلوم ہوتا کہ ٹیکنالوجی، انفرمیشن ٹیکنالوجی، ٹی وی، ریڈیو، ٹیلی فون، کمپیوٹر، سیٹلائیٹ اور انٹرنیٹ کیا چیزیں ہیں۔ آیا انکا استعمال نعمت کے طور پہ ہوسکتا ہے یا زحمت کے طور پر۔ غلط اور ٹھیک میں تمیز مطالعہ اور مشاہدہ ہی بتاسکتا ہے۔ لیکن چونکہ ہماری گنگا الٹی بہتی ہے، اس لئے ہم نے پڑھائی لکھائی اور سیکھنے سمجھنے کے لازمی عنصرِ حیات کو بالائے طاق رکھنے کے قابل بھی نہ سمجھا بلکہ ریت کا ایک گڑھا گردانتے ہوئے اسکے اوپر سے لانگ جمپ لگائی اور سیدھا الیکٹرونک میڈیا کی رسی پر جھولتے ہوئے اگلی جست میں سوشل میڈیا کی دلدل میں جاگرے۔

کتابوں، رسالوں، اخباروں اور مقالوں کی ذہن گشا تربیت کے بغیر جب ہم نے الیکٹرونک میڈیا کی دنیا میں قدم رکھ دیا تو شروع شروع میں تو بہت مزہ آیا۔ آہستہ آہستہ معلوم ہونا شروع ہوا کہ یہی الیکٹرونک میڈیا جو مغرب کی ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، ہم ترقی یافتہ لوگوں کے لئے تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ جب لوگوں کو اس بات کی سمجھ آنا شروع ہوئی تو اس ناسور سے جان چھڑانا مشکل ہوچکا تھا۔ آج ہماری ایک بڑی تعداد میڈیا کے چنگل میں ایسا پھنس چکی ہے کہ چاہتے ہوئے بھی اس آکاس بیل سے چھٹکارا پانا آسان نہیں۔ اس پر مزید طرفہ تماشہ یہ ہوا کہ ہم بندروں کے ہاتھوں میں سوشل میڈیا نامی استرا آگیا، اور اسکا انجام عنقریب سب کے سامنے آنے کو ہے۔ ادھیڑ عمر اور بزرگ افراد تو ابھی اس بلا سے محفوظ ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگیوں کو چند معمولات کی حد تک محدود رکھا ہوا ہے، لیکن نوجوان نسل کا شاید ہی کوئی فرد ایسا ہو جو سوشل میڈیا کا شیدائی نہ ہو۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کو استعمال کرنے کے لئے تعلیم یافتہ یا صاحبِ حیثیت ہونا بھی ضروری نہیں۔ جو نوجوان  کمپیوٹر خریدنا افورڈ نہیں کرسکتے، انکے لئے بازار میں سوشل میڈیا کے تمام ٹولز اور ایپس سے لیس موبائل فونز موجود ہیں، وہ بھی دو دو ہزار روپے میں۔ یہ آجکل کا عام مظہر ہے کہ مجھ سمیت نئی نسل کے وقت کا ایک بڑا حصہ سوشل میڈیا پر گزرتا ہے۔ اسکولوں، کالجوں، جامعات، دفاتر اور دکانوں پر بھی ہم کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں۔ راستے میں، بازار میں، پارک میں، گھر میں یا عزیز رشتہ داروں کے درمیان بیٹھے ہوں تو سب ایک دوسرے سے بے نیاز اپنے اپنے موبائل فون کی دنیا میں ٹیکسٹنگ، چیٹنگ اور سوشلائزیشن میں مگن رہتے ہیں۔

فیس بک اور ٹوئٹر اس نوجوان نسل کے لئے ہوا اور پانی کی اہمیت رکھتے ہیں۔ اپنی ذات کی خوبصورت ترین تشہیر اور دوسروں کی حاسدانہ ٹوہ میں مگن رہنے کا ایک ایسا نادر نسخہ مل گیا ہے کہ کیا ہی کہنے۔ شاید یہی وہ دو کام تھے جن سے باز رکھنے کے لئے خدا نے انبیاء مبعوث کئے اور شریعتیں نازل فرمائیں۔ "لائک" اور "شئیر" شاید وہ اصطلاحات ہیں جو آجکل کی ہماری دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اصطلاحات ہیں۔ دیکھے، سمجھے اور جانے، بوجھے بنا ان دو بٹنوں کے استعمال نے ہمیں بے حسی کی اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اپنے انسان ہونے پر شک ہونے لگتا ہے۔ خود پسندی اور خود نمائی کا یہ عفریت ہم سے ایسے ایسے کام کروا رہا  کہ خدا کی پناہ۔ الیکٹرونک میڈیا کی خبریں سوشل میڈیا کی دنیا میں پہنچ کر وائرس کی طرح پوری طبیعی دنیا میں پھیل جاتی ہیں، اور ہم نتیجے سے بے خبر "لائک" کی تعداد بڑھنے کے جنون میں مبتلا رہتے ہیں۔  لائک اور شئیر کا جنون یہ بھی سوچنے نہیں دیتا کہ یہ معمولی سا عمل کتنی خرابیوں کا باعث بنتا ہے۔ کتنے گناہ ہم اپنے سر لے لیتے ہیں اور کس بیدردی سے اپنی ہی روح کا قتل کرکے بے حس معاشرے سے "لائک" کی بھیک طلب کرتے ہیں۔

دہشت گرد کفار و منافقین تمام عالمِ اسلام میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ پہلے شریف اور بے گناہ انسان ان ابلیسوں سے محفوظ نہ تھے۔ ان ملعونوں کی جرآت یہاں تک پہنچی کہ انبیاء، اصحاب، اولیاء و اوصیاء کی قبور کی بے حرمتی اور دھماکوں سے تاراجی جیسے قبیح اور شیطانی افعال کی جانب کمالِ بے غیرتی سے راغب ہیں۔ یہ شیطان زادے اپنے ہر ہر جرم کو کیمرے میں محفوظ کرکے سوشل میڈیا کے حوالے کرکے میری اور آپکی غیرت کا امتحان لیتے ہیں۔ لیکن ہمیں کیا معلوم کہ غیرتِ مسلمانی کس چڑیا کا نام ہے۔ جن ویڈیوز کو دیکھنے سے قبل ہمیں شرم سے مرجانا چاہیئے، ہم بڑے فخر سے شئیر کرتے ہیں اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد چیک کرتے ہیں کہ کتنے لائکس آئے۔

اگر حزبِ مردود کی جانب سے  حضرت یونس ؑ کا مرقدِ منورہ دھماکے کے ذریعے ریت کے ڈھیر میں بدل دیا گیا تو ہر اس غیرتمند مسلمان کو ڈوب کر مرجانا چاہیئے کہ جسکا ایمان تمام انبیاء و مرسلین پر ایمان لائے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ لیکن یہاں تماشا ہی الٹا ہے۔ یہاں ریس لگ جاتی ہے کہ کہیں کوئی اور مجھ سے پہلے اس ویڈیو کو شئیر نہ کردے۔ اگر ایسا ہوگیا تو میں روزِ جزا حضرت یونسؑ کو کیا منہ دکھاؤں گا کہ آ پکی عطا کردہ تسبیح کے سہارے تمام مشکلات سے نکلتا رہا۔ جب آپکا مرقد تاراج ہو رہا تھا تو میں اپنے گھر میں سو رہا تھا۔ اب ویڈیو آگئی تو کیا اسکو شئیر بھی نہ کروں!

مجھے نہیں معلوم کہ حضرت حجر بن عدی کے پامال شدہ جسد کی جانب اپنی ناپاک اور گناہگار نظریں اٹھانے کے لئے کس سطح کی ہمت  درکار ہوتی ہے۔ لیکن تمام دنیا جانتی ہے کہ جب یہ سانحہ رونما ہوا تھا تو اسکی تشہیر میں نام نہاد مسلمان دنیا ہی پیش پیش تھی۔ یہ گریبان چاک کرکے ماتم کرنے کا وہ مقام ہے جہاں ہم بے حس ہو کر انجوائے کر رہے ہیں۔ صرف معلومات کے لئے نہیں، بلکہ روح کو گھائل کر دینے کے لئے بھی محض ایک سطر کی خبر کافی ہوتی ہے کہ کسی نبی، کسی ولی یا کسی شہید کے مرقد کو پامال کر دیا گیا ہے، چہ جائیکہ اسکا ڈھنڈورا پیٹا جائے  اور کسی بھی طرح سے ثبوتی ویڈیو حاصل کرکے دنیا میں پھیلا دی جائے۔

دانستہ یا نادانستہ اس قسم کی حرکتیں کرنے والوں سے میرا محض ایک سوال ہے کہ آپ نے بہت سکون سے ایک نبی کی قبر کی پامالی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا گوارا کیا۔ چاہا کہ دوسرے بھی اسے دیکھیں۔ سو شئیر کر دیا۔ ساتھ میں لعنت ملامت بھی کر دی۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ بس اتنا بتا دیجیئے کہ خدانخواستہ، خاکم بدہن، اللہ نہ کرے کہ آپکا کوئی دشمن اٹھے اور آپکے والدین کی قبور کی بے حرمتی کرے یا کوئی ڈاکو آئے اور آپکے گھر کو آگ لگا کر  آپکی بے بسی کا مذاق اڑائے۔ ساتھ ہی اپنی ان وارداتوں کی ویڈیوز بھی بنائے اور پھر وہ ویڈیوز ایک دنیا دیکھے تو آپ کے دل پر کیا گزرے گی۔؟ کل ہی کی بات ہے کہ عراق میں ایک پادری نے شیطان کے ہاتھوں اپنی نظروں کے سامنے اپنی ناموس کو پامال ہوتا دیکھا تو فوراً خودکشی کرلی۔ (غیرت کا یہی تقاضا تھا)

انبیاء، اصحاب، اولیا اور شہداء کا مقام انکے پردے کے بعد بھی کم نہیں ہوتا۔ انکی قبور ہی انکے حرم ہوتے ہیں، جہاں انکے جسد ہائے خاکی بالکل محفوظ ہوتے ہیں۔ دنیا اور دنیا والوں کے لئے یہ حرم اتنے ہی محترم ہیں کہ جتنی ان میں محوِ استراحت ہستی۔ یہ قبور کی بے حرمتی نہیں، بلکہ ان انبیاء اور اس خدائی نظام کی بے حرمتی ہے جو خود خدا کا تخلیق کردہ ہے۔ خدارا! لائک اور شئیر  کرکے ان مظلوموں کی ارواح کو مزید زخمی اور اپنی ارواح کو ایسے گناہوں سے آلودہ نہ کریں۔ شکریہ

طاغوت کی جانب سے ہمیں بے غیرت، بے حمیت اور بے شرم کرنے کے بعد اب بے حس کرنے کی یہ گھناؤنی چال ہے کہ بڑے بڑے گناہوں کو اتنا عام کر دو کہ وہ گناہ ہی محسوس نہ ہوں۔ ہم بہت سیانے ہیں۔ ہمیں فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ ہمارے خلاف سوچی سمجھی سازش کی جا رہی ہے۔ لیکن سیانے سے زیادہ ہم بھولے ہیں جو جانتے بوجھتے بھی ہر سازش کا شکار بھی ہوجاتے ہیں اور پوری ایمانداری کے ساتھ اسکی ترویج میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آجائے تو لائک کریں نہ کریں، دوستوں سے شئیر ضرور کریں.

تحریر: سید قمر رضوی
................

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*