عرب بادشاہوں کے دورے اور پس پردہ مقاصد

عرب بادشاہوں کے دورے اور پس پردہ مقاصد

علامہ جواد نقوی نے کہا کہ وہی پاکستان جس کا نعرہ ( پاکستان کا مطلب کیا ؟لا الہ الا اللہ )تھا، وہ آہستہ آہستہ اس نعرے میں تبدیل ہوگیا کہ (پاکستان کا مطلب کیا؟ روٹی ، کپڑا اور مکان )۔ بلکہ اس نعرے کا سلسلہ یہاں بھی نہیں رُکا بلکہ آج (پاکستان کا مطلب کیا؟ دہشت گردی، لوٹ مار اور چوری ڈکیتی ) بن گیاہے۔ پہلے پاکستان زندہ باد کہا جاتا تھا اب یہ نعرہ بن گیا ہے کہ (پاکستان سے زندہ بھاگ)۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔جامعۃ العروۃ الوثقیٰ میں 23مارچ کی مناسبت سے منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سفیرِ انقلاب سید جواد نقوی نے کہا کہ جب تک پاکستان پر دہشت گردوں کا راج اور حکومت نہیں تھی،اُس وقت تک23 مارچ کو پاکستان میں ایک عید کے طور پر منایا جاتا تھا، پورا پاکستان سجایا جاتا تھا جس کی وجہ سے نئی نسل پاکستان کے نظریے، مقصد اور فلسفے سے آشنا ہوتی تھی لیکن پاکستان میں مدتوں سے ایسی احمقانہ اسٹریٹجی اپنائی گئی کہ پاکستان کو دہشت گردوں کے سپرد کیا گیا۔ البتہ دہشت گرد وجہ اور بنیاد نہیں ہیں بلکہ دہشت گرد خود اس اسٹریٹجی کا نتیجہ ہیں ۔ درحقیقت نالائق حکمرانوں نے اور غیر متوازن سیاست نے پاکستان کو اجنبیوں اور غیر ملکیوں کے حوالے کیا ہے ، جس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ ملک پر دہشت گردوں کا راج ہے ۔فرزندِ انقلاب نے مزید کہا کہ مغربی تہذیب نے پاکستانیوں کو اپنی تہذیب سے اجنبی بنانا شروع کیا اور پاکستانی بھی بڑے شوق سے اپنی تہذیب سے دور ہوتے گئے اور مغربی تہذیب کوخوشی سے اپنا لیا، اگرچہ بعض شعبوں میں ابھی تک کچھ آثار ہیں لیکن مغربی تہذیب پوری زندگی پر حاوی ہوگئی ہے ، تعلیم کا میدان مغربی ثقافت نے مکمل طور پر اپنے اختیار میں لے لیا ہے اور اسی طرح سے دوسرے سماجی چند شعبے بھی مغربی تہذیب نے اپنی گرفت میں لئے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی طور پر پاکستان ناپائیدار ترین مملکت کا لقب اختیار کر چکا ہے، جس میں سیاسی طور پر شدید ناپائیداری ہے، اس ناپائیداری کے اثرات ہر شعبے میں ہیں اور از جملہ روز مرہ کی معیشتی مسائل اسی ناپائیداری کا نتیجہ ہیں، انرجی کا بحران اور اس کے نتیجے میں صنعتوں کا بحران، صنعتی بحران کے نتیجے میں تجارت کا بحران اور پھر مارکیٹ کا بحران پیدا ہوا ہے ۔اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی پالیسی یہ اپنائی جا رہی ہے کہ ڈالر کی قیمت جو 110تک پہنچ گئی تھی واپس 100سے نیچے لے آئے ہیں اور بہت خوش ہیں ، اپنی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے کہ یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ ہم نے ایک سو دس سے ڈالر کی قیمت نیچے لے آئے ہیں اور سو سے بھی کم کر دیے ہیں ، البتہ سب کو معلوم ہے لیکن سارے اس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔درحقیقت عالمی اداروں سے بے دریغ و بے تحاشا قرض لیا گیا ہے اور اس قرض نے یہ خدمت انجام دی ہے کہ ڈالر ایک سو دس سے واپس سو سے نیچے آگیا ہے اور اس پر بہت خوش ہیں ۔ یہ اقتصادی بدحالی اور اقتصادی ابتری کہ علامت ہے کہ ملک کی پوری معیشت کا دارومدار قرض پر اور بیرونی امداد پر ہے ۔آغا جواد نقوی نے حالیہ عربی بادشاہوں کے دوروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے عرب ممالک کے بادشاہ پاکستانیوں کی معیشتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاکر لاکھوں کی تعداد میں مزدور لے کر جاتے تھے اور ان سے استفادہ کرتے تھے لیکن اس وقت مزدوروں کیلئے نہیں بلکہ قاتل خریدنے کیلئے دورے کر رہے ہیں۔اس وقت سعودی عرب نے پاکستان کوڈیڑھ ارب ڈالر گفٹ دیا ہے ،یہ وہی سعودی عرب ہے جس نے پاکستان میں آگ لگائی ہے اور فتنہ و فساد و قتل و غارت مسلمانوں کے اندر پوری دنیا میں تفرقے کا بیج بویا ہے۔آغا جواد نقوی نے اقتصادی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی قوم، ملت یا افراد روزمرہ کی مشکلات میں گر جاتے ہیں اور ڈوب جاتے ہیں تو وہ اپنی اصل راہ اور اپنے اصل مقصد سے دور ہوجاتے ہیں، ظاہر ہے کہ جب ایک قوم اپنی روزانہ کی ضروریات پوری نہ کر سکے ، اس کے ہاں بجلی نہ ہو، اس کے ہاں ضروریاتِ زندگی نہ ہو، اس کے بچوں کی تعلیم نہ ہو رہی ہو ، اس کے روزہ مرہ امور میں خلل آرہا ہواور کرپشن کے علاوہ کوئی راستہ اس کے سامنے نہ بچا ہو تو اِس صورت میں انھیں اپنی تاریخ، اپنی ہویت، اپنی شخصیت، اپنا ماضی، اپنا مستقبل اور اپنا ہدف بھول جاتی ہے، ان چیزوں کی کوئی اہمیت ان کیلئے نہیں رہتی۔ اسی وجہ سے 23مارچ اور14اگست جیسے عظیم دن پاکستانی تقریباً بھلا چکے ہیں۔ بہانہ دہشت گردی کا ہے کہ دہشت گردی کے خوف سے23مارچ کا اہتمام نہیں کیا جا رہا ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔فرزندِ انقلاب نے 23مارچ اور 14اگست کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسلیں اپنے ماضی سے آگاہ ہونے کیلئے اور نئی نسل کو ماضی سے متصل رکھنے کیلئے ان ایام کی بہت اہمیت ہے، پوری دنیا میں ہر قوم کے اندر یہ ایام آتے ہیں ،یعنی آزادی، مبارزے اور مقاومت کے دن آتے ہیں، جس میں اُس ملت کی عظمت کی یادہانی کرائی جاتی ہے لیکن پاکستان میں یہ تسلسل ٹوٹ گیا ہے، چونکہ یہاں دہشت گردی کا راج ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہی پاکستان جس کا نعرہ ( پاکستان کا مطلب کیا ؟لا الہ الا اللہ )تھا، وہ آہستہ آہستہ اس نعرے میں تبدیل ہوگیا کہ (پاکستان کا مطلب کیا؟ روٹی ، کپڑا اور مکان )۔ بلکہ اس نعرے کا سلسلہ یہاں بھی نہیں رُکا بلکہ آج (پاکستان کا مطلب کیا؟ دہشت گردی، لوٹ مار اور چوری ڈکیتی ) بن گیاہے۔ پہلے پاکستان زندہ باد کہا جاتا تھا اب یہ نعرہ بن گیا ہے کہ (پاکستان سے زندہ بھاگ)۔ آغا نے اس حوالے سے مزید کہا کہ روٹی کپڑا اور مکان تو اُس وقت بھی میسر تھے جب الگ پاکستان نہیں بنا تھا، تحریکِ پاکستان روٹی ، کپڑا اور مکان کیلئے شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ نظریہ لا الہ الا اللہ کیلئے تحریک شروع ہوئی تھی لیکن ان احمق حکمرانوں کی اسٹریٹجی نے اس ملک کا نعرہ یکسر تبدیل کر دیا۔آغا جواد نقوی نے مزید کہا کہ اس وقت ہر حکمران کے خواہ وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کا ہو اس کی اولاد، اس کا بنک بیلنس ، اس کی جائیدایں اور مستقل سمیت سب کچھ بیرون ممالک میں ہیں، وہ صرف اپنی حکومت کی مدت پوری کرنے کیلئے پاکستان آتے ہیں اور ایک ملت جب اس حد تک گر جائے تو پھر اس سنبھالا دینے کیلئے شعور اور بیداری کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲