آیت اللہ سید محمد مھدی دستغیب کون تھے؟

آیت اللہ سید محمد مھدی دستغیب کون تھے؟

آیت اللہ دستغیب ۱۹۸۱ میں اپنے بھائی شہید محراب کی شہادت کے بعد ۳۲ سال تک شیراز میں شاھچراغ کی تولیت کے عہدہ پر فائز رہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ سید محمد مھدی دستغیب ماہ ربیع الاول ۱۳۰۳ ھ ق کو شیراز کے ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے آپ کی پیدائش کے بیس دن بعد آپ والد سید محمد تقی دار فانی سے الوداع ہو گئے۔آیت اللہ سید محمد مھدی دستغیب، شہید محراب سید عبد الحسین دستغیب کے چھوٹے بھائی تھے شیراز میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے اپنے بڑے بھائی شہید آیت اللہ دستغیب کے کہنے کے مطابق حوزہ علمیہ میں قدم رکھا اور بعد از آں اعلی دینی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے نجف اشرف کا رخ کیا۔آیت اللہ دستغیب نے نجف اشرف جو اس زمانے میں دینی تعلیم کا سب سے بڑا مرکز تھا میں آیت اللہ خوئی اور آیت اللہ سید عبد الہادی شیرازی سے کسب فیض کیا۔آیت اللہ دستغیب دو سال نجف اشرف میں رہنے کے بعد ایران واپس لوٹے اور ازدواجی زندگی کا آغاز کر کے دوبارہ نجف اشرف کا لوٹ گئے۔انہوں نے نجف اشرف میں بزرگ علماء اور مراجع کرام کے حضور سے کچھ عرصہ فیضیاب ہونے کے بعد حوزہ علمیہ قم کا سفر کیا اور آیت اللہ العظمی بروجردی اور آیت اللہ العظمی اراکی کے دروس میں شرکت کی۔آیت اللہ دستغیب قم میں حوزوی تعلیم کو مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی وطن شیراز لوٹ گئے اور وہاں تبلیغ دین کا سلسلہ شروع کیا۔انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے اپنے بھائی شہید عبد الحسین دستغیب کے شانہ بشانہ ظالم حکومت کے خلاف مصروف جہاد رہے اور شیراز کی ایک اہم مسجد میں امام جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ حوزہ علمیہ میں تدریس کا کام بھیجاری رکھا۔آپ مدرسہ حکیم میں فقہ و اصول کا درس خارج دیتے تھے ۔آپ کی اہم تالیفات میں سے علم النفس، نغمہ ہائے عارفان اور معراج الخاشعین کا نام لیا جا سکتا ہے۔آیت اللہ دستغیب ۱۹۸۱ میں اپنے بھائی شہید محراب کی شہادت کے بعد ۳۲ سال تک شیراز میں شاھچراغ کی تولیت کے عہدہ پر فائز رہے۔آپ نے گزشتہ روز ۲۴ مارچ ۲۰۱۴ کو نجف اشرف میں کہولت اور بیماری کے سبب دار فانی کو الوداع کہہ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲