آیت اللہ جوادی آملی:

ائمہ معصومین(ع) کی علم کو کتابت کے ذریعے محفوظ رکھنے پر تاکید

ائمہ معصومین(ع) کی علم کو کتابت کے ذریعے محفوظ رکھنے پر تاکید

رسول اکرم(ص) سے نقل ہوا ہے کہ اگر کسی با ایمان انسان کا ایک ورق علمی سرمایہ ہو تو وہ ورق اس کے اور دوزخ کی آگ کے درمیان حجاب بن جائے گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حضرت آیۃ اللہ جوادی آملی نے ایک تحریر میں معصومین علیھم السلام کے کلام میں کتابت اور نگارش کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ، الہی علوم کی کتابت اور تحقیق کے کلی اصول بیان کیے۔لکھنا پیغمبر کی نظر میںپیغمبر اکرم (ص) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: علم کو لکھ کر محفوظ کرو اور اس کو نابود ہونے سے بچاو «قيّدوا العِلمَ»، قيل: و ما تقييدُهُ؟ قال(صلّي الله عليه وآله وسلّم): «كتابَتُه». (۱)انصار کا ایک شخص پیغمبر اکرم (ص) کی بزم میں تعجب خیز باتیں سنتا تھا مگر وہ ان کو یاد نہیں رکھ پاتا تھا ؛ اس نے حضرت سے شکایت کی۔ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: اپنے دائیں ہاتھ سے مدد لو؛ یعنی لکھو: «إنّ رجُلاً مِنَ الانصارِ كان يَجلسُ إلي النبي(صلّي الله عليه وآله وسلّم) فيسمع منهُ الحديث فيُعجبهُ و لايحفظهُ فشكا ذلك إلي النبي(صلّي الله عليه وآله وسلّم) فقال له رسول الله(صلّي الله عليه وآله وسلّم): استعنْ بيمينك و اَومأ بيدهِ أي خُطّ». (۲)امام حسن (ع) کی اپنے فرزندوں کو وصیتحضرت امام حسن مجتبی (ع) سے منقول ہے کہ آپ نے اپنے فرزندوں اور بھتیجوں کو بلوایا اور ان سے فرمایا: تم قوم کے بچے ہو اور امید ہے کہ آیندہ کے بزرگ بنو گے علم حاصل کرو اور اگر کوئی یاد کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو وہ اس کو لکھے اور اس کو محفوظ کر لے: «اِنّه دعا بنيه و بني أخيه فقال: أنّكم صِغارُ قومٍ و يُوشكَ أن تكُونوا كبارَ قومٍ آخرين فتعلّموا العلمَ فمن يستطيعُ منكم اَن يحفظهُ ‏فليكتبه و ليضعه في بيته». (۳)ایک صفحہ لکھنے کی فضیلترسول اکرم (ص) سے نقل ہوا ہے کہ  اگر کسی با ایمان انسان کا ایک ورق علمی سرمایہ ہو تو وہ ورق اس کے اور دوزخ کی آگ کے درمیان حجاب بن جائے گا : «المُؤمنُ إذا ماتَ و تركَ ورقةً واحدةً عليها علمٌ تكونُ‏تلك الورقةُ يوم القيامة ستراً فيما بينه و بين النار... ». ۔۔۔۔۔۔۔۔(۴)جب ایک عالم کا ترکہ امام حسن عسکری (ع) کی خدمت میں پیش کیا گیا  تو آنحضرت نے فرمایا :خداوند سبحان اس کے ہر حرف کے بدلے میں قیامت کے دن ایک نور اس کے لکھنے والے کو عطا فرمائے گا: عرضتُ علي أبي محمّد صاحب العسكری(عليه‌السلام) كتاب يومٍ و ليلةٍ ليونس، فقال لي: «تصنيفُ مَن هذا؟» فقلتُ تصنيفُ يونس مولي آل يقطين، فقال: «اعطاه الله بكلّ حرفٍ نوراً يوم القيامة». (۵)آئمہ (ع)کی اپنے شاگردوں کو تاکید کبھی آئمہ معصومین علیھم السلام  اپنے شاگردوں کو کتابت اور قلمی آثار نشر کرنے کی ترغیب دلاتے تھے کہ وہ ان کی علمی یاد گار رہے جیسا کہ چھٹے امام (ع) نے مفضل کو حکم دیا کہ لکھو اور اپنے علم کو اپنے بھائیوں کے درمیان پھیلاواور جب مر جاو تو اپنے فرزندوں کو اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی کتابیں میراث کے طور پر دے  کر جاو اس لیے کہ ایک ایسا زمانہ  آئے گا کہ لوگ اپنی تحریر کے سوا کسی اور چیز سے مانوس نہیں ہوں گے؛ «اُكتُبْ وبُثّ علمك في إخوانكَ فإنْ متّ فورث كُتبك بنيك فأنّه يأتي علي الناس زمان هرجٍ ما يأنسونَ فيه إلاّ بِكتبهم». (۶) صرف لکھنا نہ ہو بلکہ مکتوب کے اندر عمیق میٹر ہو  اس کے لیے دینی پیشواوں کی تربیتی روش یہ تھی کہ ان کے شاگرد خطا اور خواہشات سے خالی باتوں کو لکھیں اور جس حال میں بھی ان سے کوئی بات سنی جائے اس کو لکھ لیں چونکہ وہ ہر حال میں حق کہتے ہیں اور زمانے کے حوادث ان کو حق سے ہر گز منحرف نہیں کر سکتے اور باطل کی طرف نہیں موڑ سکتے ۔ایک شخص نے پیغمبر اکرم (ص) سے پوچھا: میں جو کچھ بھی آپ سے سنوں اس کو لکھ لوں؟ فرمایا؛ ہاں ۔ پوچھا: چاہے آپ کی خوشی کی حالت میں یا غصے کی حالت میں ؟فرمایا: ہاں ، اس لیے کہ ہم ان تمام حالات میں حق کے علاوہ کچھ نہیں کہتے ؛ قُلت يارسول الله! أكتُبُ كُلّما اسمعُ منكَ؟ قال: «نعم». قُلت: في الرضا و الغضب؟ قال: «نَعَم، فإنّي لا أقُولُ في ذلك كلّه إلاّ الحقّ». (۷)اور  تحریر کے  زیادہ پائیدار ہونے کی خاطر رہبران الہی کا حکم یہ تھا کہ حساس مطالب کو کھال پر لکھو تا کہ وہ زیادہ پائیدار رہیں نہ کہ کاغذ کے اوپر کہ وہ دیر پا نہیں ہوتا ۔ایک شخص امام رضاء علیہ السلام کی خدمت میں پہونچا اور ایک کتاب یا کاغذ کہ جس پر امام صادق علیہ السلام کی حدیث لکھی ہوئی تھی  آپ کی خدمت میں پیش کیا ؛ اس حدیث کا مضمون یہ تھا  کہ ولایت الہی کے مقام پر فائز انسان کے سامنے دنیا ایک اخروٹ کی مانند ہے کہ جو ہر چیز پر اطلاع کے لحاظ سے بھی اور ہر چیز پر اقتدار کے اعتبارسے بھی اس کے اختیار میں ہے ، حضرت امام رضاء علیہ السلام نے فرمایا؛ خدا کی قسم یہ بات سچ ہے اس حدیث کو کاغذ سے کھال پر منتقل کرو کہ پائیدار ہو جائے : دخلتُ علي الرضا(عليه‌السلام) و معي صحيفةٌ أو قرطاسُ فيه عن جعفر(عليه‌السلام): «إنّ الدنيا مُثّلت لصاحبِ هذا الأمر في مثلِ فَلْقَةِ الجوزة. فقال: يا حمزة! ذا والله حقٌّ فانقلوهُ الي أديم». (۸) سونے کے پانی سے لکھوتحریر کے دوام کے ساتھ خوبصورتی کے ہنر سے بھی بہرہ مند ہونے کے لیے اولیائے الہی کا دستور یہ تھا کہ عمیق علوم خاص کر وہ کہ جو مسئلہ ولایت اور اہل بیت عصمت و طہارت  علیھم السلام  کی امامت کے بارے میں ہوں ان کو سونے کے پانی سے لکھو : قال الصادق(عليه‌السلام): «نفسُ المهموم لظلمنا تسبيحُ و همّه لنا عبادة و كتمان سرّنا جهادٌ في سبيل الله»، ثم قال ابوعبدالله(عليه‌السلام): «يجبُ أن يكتبَ هذا الحديث بماء الذهب». (۹) جس وقت چھٹے امام علیہ السلام کے سامنے امیر المومنین علیہ السلام کا نام لیا گیا ، آنحضرت نے حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے مزار کی شناخت اور معرفت رکھتے ہوئے زیارت کی فضیلت بیان کی اور اس کے بعد راوی سے فرمایا : «... اكتب هذا الحديث بماء الذهب»؛ (۱۰) اس حدیث کو سونے کے پانی سے لکھو۔پیغمبر  (ص)کی نظر میں اصول تحریراور اس لیے کہ کتابت ہنر کی زیبائی اور تحریر کے سلیقے سے بہرہ مند ہو تا کہ وہ اہل مطالعہ کو اپنی طرف پڑھنے کے لیے جذب کرے، پیغمبر اکرم (ص) کا اپنے بعض منشیوں کو یہ حکم تھا کہ روشنائی میں کچھ لیقہ ملا لیں اس لیے کہ لیقہ کے ہوتے ہوئے تحریر کیڑوں سے محفوظ رہتی ہے اور قلم گندہ نہیں ہوتا  اور حروف کو برابر ایک الگ نظم کے تحت کہ جیسا حضرت فرماتے تھے لکھا جائے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ قلم منشی کے پاس رہے اور کھو نہ جائے اور گردو غبار سے محفوظ رہے حضرت نے یہ حکم دیا کہ قلم کو کان کے پیچھے رکھو چنانچہ آج بھی ارباب ہنر اور ہاتھ سے کام کرنے والے ایسا ہی کرتے ہیں : قال(صلّي الله عليه وآله وسلّم)لبعض كُتّابه: «القِ الدّواةَ و حَرّف القَلَم... وَ ضَعْ قلمكَ علي اُذُنكَ اليُسري، فإنّه اذكر لك». (۱۱)حوالے(۱)۔بحار الانوار۔۔۔ ج ۲ ص ۱۵۱(۲)۔وہی۔ص۱۵۲(۳)۔وہی(۴)۔وسائل الشیعہ ج ۲۷ ص ۹۵(۵)۔وسائل الشیعہ ج۲۷ ص۱۰۲(۶)۔بحار الانوار ج۲ ص۱۵۰(۷)۔بحار الانوار ج۲ ص۱۴۷(۸)وہی ص۱۴۵(۹)۔بحار الانوار ج۲ ص۱۴۷(۱۰)۔وسائل الشیعہ ج۲۷ ص۸۲(۱۱)۔بحار الانوار ج۸۹ ص۳۴  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲