پاکستانی حکومت کے طالبان سے مذاکرات کے بنیادی مقاصد

پاکستانی حکومت کے طالبان سے مذاکرات کے بنیادی مقاصد

علامہ سید جواد نقوی نے طالبان سے مذاکرات کرنے کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت طالبان کو دنیا کے لئے ایک مستقل خطرے کے طور پر باقی رکھنا چاہتی ہے اس لیے انہیں ایک طاقت کے طور پر مان کر انہیں مذاکرات کے میز پر بٹھاتے ہیں۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستانی حکومت کے طالبان سے ہونے والے حالیہ مذاکرات کے پس پردہ عوامل اور اہداف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حجۃ الاسلام و المسلمین سید جواد نقوی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ مذاکرات میں پہلا ہدف طالبان میں چھانٹی کرنا ہے ۔ یعنی وہ گروپس جو ابھی ان کے کنٹرول میں نہیں ہیں ،ابھی ان کے وفادار نہیں ہیں یا جو اِن سے زیادہ کی ڈیمانڈ کرتے ہیں ، اُن کو ہٹاکر اُنکی جگہ وفادار افراد لانا ہے ، مثلاً حکیم اللہ محسود کو مار دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ پر فضل اللہ کو راہنما بنا دیتے ہیں۔ اب فضل اللہ اگر آجائے جیسا یہ اُس کو راہِ راست سکھاتے ہیں تو یہ متفقہ طور پر طالبان کمانڈر رہے گا، اگر یہ نہیں مانتا ہے تو ایک اور ڈرون حملے میں یہ بھی ہلاک ہوجائے گا اور اس کی جگہ پر ایک نیا کمانڈر آجائے گا۔ یہ عمل اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک اِن کو اطمینان نہ ہوجائے کہ یہ موجودہ طالبان سیٹ اپ ان کے کنٹرول میں ہے اور اُن کا وفادار ہے اور اب ان کے اندر کوئی بغاوت کا امکان نہیں ہے ۔ حجۃ الاسلام جواد نقوی نے حوزہ علمیہ العروۃ الوثقیٰ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا ایشو اس لئے چھیڑا ہے کہ اب پینسٹھ گروپس بن گئے ہیں ، پینسٹھ تو انھوں نے نام لیا ہے ورنہ اس سے زیادہ گروپس ہیں۔ ظاہر ہے کہ مذاکرات کی جب بات ہوتی ہے تو طالبان کے ساتھ مذاکرات کا نام سنتے ہیں کئی گروپس کو شوق چڑھا کہ ہمیں بھی مذاکرات میں بٹھائیں چونکہ مذاکرات میں بیٹھنے سے سیاسی اور مالی بہت سارے فوائد ہیں۔ مذاکرات میں جس کو بٹھایا جاتا ہے اس کو ایک رسمی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے، وہ ایک مانا جانا لیڈر یا رقیب طے ہوجاتا ہے ، یعنی اس کو بٹھاکر بات کر رہے ہیں تو اسکا مطلب ہے کہ اس کو مان لیا ہے ۔ لہٰذا طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے ٹیم بنائی گئی ۔ جو ٹیم بنائی گئی اُن میں سے کوئی طالبان شامل نہیں ہے جو طالبان ہیں، طالبان کی ٹیم اور حکومتی ٹیم میں ایک ہی ٹیم دو حصوں میں بنا دی گئی ہے ۔مذاکرات کا مطلب یہ ہے کہ طالبان کے مختلف گروپس اب سامنے آجائیں گے ، اب اُن سے شرائط طے ہوں گی کہ ہماری بات مانتے ہو یا نہیں مانتے؟ اگر مانتے ہو تو ہمیں آپ کو اگلے مرحلے کے مذاکرات میں بٹھائیں گے اگر نہیں مانتے ہو تو آپ ختم ہوجاؤ گے۔انہوں نے اس مذاکرات کے دوسرے مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسرا ہدف طالبان کی بکھری ہوئی طاقت کو سمیٹنا اور انتشار سے بچانا ہے چونکہ ان پر بڑی محنت کی گی ہے ، ان پر بہت پیسہ لگا ہے۔ آسانی سے یہ گروپس نہیں بنے ہیں ۔ یہ لشکر ، جہادی گروپس اور طالبان آسانی سے نہیں بنے ہیں ، ان پر بیت المال کا پیسہ ، وقت اور مال و ثروت کئی ملکوں نے لگایا ہے ۔ لہٰذا ان کے لئے یہ قیمتی ہیں ۔ عوام کی نگاہ میں طالبان بھیڑیے، خون خوار اور درندے ہیں لیکن جنھوں نے بنایا ہے اُن کی نگاہوں میں یہ دنیا کی سپر طاقت اور فوج ہے اور جس کو کسی بھی میدان میں استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ لہٰذا ان کو سمیٹنا اور جمع کرنا ان کا دوسرا ہدف ہے ۔ یعنی ایک چھانٹی کرنا اور دوسرا یہ کہ ان کے بکھرے دھڑوں کو دوبارہ جمع کرنا ہے.انہوں نے تیسرا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کو دنیا کے لئے ایک مستقل خطرے کے طور پر باقی رکھنا ہے ، یہ سوچتے ہیں کہ ان کے ذریعے سے ہم دنیا پر ایک دباؤ برقرار رکھ سکتے ہیں ، یعنی انھیں یہ ڈنڈے کے طور پر باقی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اندورنی و بیرونی حالات کو اپنے قابوں میں رکھیں اور جہاں بھی ضرورت پڑ جائے وہاں پر ان کو استعمال کیا جا سکے۔ مثلاً ایران کو اگر ڈرانا ہو تو ایران کی طرف بھیج دو، شیعہ کوسبق سکھانا مقصود ہو تو شیعہ کے پیچھے لگا دو۔ پس انھیں ایک مستقل خطرے کے طور پر باقی رکھنا چاہتے ہیں۔جنگوں میں قوتِ خطر بڑی چیز ہوتی ہے لہٰذا یہ قوتِ خطر کے طور پرباقی رکھنا چاہتے ہیں ۔ طالبان نے اس وقت ایک دوسرے کے گلے کاٹنا شروع کیا ہے اس کو روکا جائے اور ایک مرکزیت قائم کی جائے اور انھیں ایک مستقل خطر کے طور پر قائم رکھا جائے۔طالبان سے مذاکرات کے چوتھے مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے العروۃ الوثقیٰ کے پرنسیپل نے کہا کہ چوتھا اور اہم ترین ہدف عالمی تکفیری فورس کی تیاری ہے ۔ اس وقت دنیا میں بندر بن سلطان کی رہنمائی میں ایک عالمی تکفیری فوج تیار ہو رہی ہے ، یعنی انھوں نے اگلا قدم اٹھایا ہے، پہلے انھوں نے اس کیلئے علاقائی یونٹ بنائے، مثلاً تکفیری فوج کا ایک لشکر پاکستان میں، دوسرا سعودیہ میں، تیسرا لیبیاء میں ، چوتھا تیونس اور پانچواں مصر میں بنایا ۔ یہ اپنے اپنے علاقوں کے لئے مؤثر ہیں لیکن عالمی حالات پر اثر انداز ہونے کیلئے یہ لشکر اتنے کارآمد نہیں ہیں ۔ لہٰذا انھوں نے ایک عالمی تکفیری فوج تشکیل دینا شروع کیا ہے جس میں پوری دنیا سے ان کو جمع کیا جا رہا ہے ۔ یعنی پہلے ان کو لوکل یونٹس تیار ہوں پھر ابتدائی مراحل طے کر کے آگے جائیں تو عالمی تکفیری فوج بندر بن سلطان کی فوج میں داخل ہوجائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲