ملت پاکستان کا صرف ایک مطالبہ

ملت پاکستان کا صرف ایک مطالبہ

ارض پاکستان کے بیس کروڑ سے زائد باسیوں کا صرف اور صرف یہ مطالبہ ہے کہ اس ملک میں قانون کی حاکمیت کو یقینی بنایا جائے اور قانون کے خلاف جنگ کرنے والوں کے ساتھ جنگ کی جائے۔

ابنا: انسان کا عمل اس کی ذات کا گواہ بھی ہے، وکیل بھی اور قاضی بھی۔ عمل سب سے بڑا ثبوت بھی ہے، سب سے بڑا گواہ بھی اور سب سے بڑا منصف بھی۔ عمل کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں، لیکن جو چیز عمل کے لئے بنیاد اور محرک بنتی ہے وہ انسان کی فکر ہے۔ کسی بھی عمل سے زیادہ اس کے پیچھے چھپی ہوئی فکر اچھی یا بری ہوتی ہے۔ میں فکری طور پر پاکستان کی اس نسل سے تعلق رکھتا ہوں جس کا ماضی پاکستانی اور بنگالی کے ٹکراو سے عبارت ہے، جس کے حال کے دامن پر مذہبی جنونیوں کے تعصب کے دھبّے ہیں اور جس کے مستقبل کی شاہراہ پر خود مختار کشمیر اور آزاد بلوچستان جیسے مسائل ایک خاموش آتش فشاں کی مانند سوئے پڑے ہیں۔اس وقت ہمارے ملک میں ملک دشمنی اور غداری کی ریل گاڑی جتنی تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے، ہمارے پاس اس ملک کو بچانے کا وقت اتنا ہی کم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ہماری غلط سوچ ہی ہے جو ہمارے ملک کو تقسیم در تقسیم کی طرف کھینچ کر لے جا رہی ہے۔ پیغمبر اسلامﷺ کے زمانے کے مسلمان کی یہ سوچ تھی کہ"میں خود بے شک بھوک سے سو جاوں لیکن میرا ہمسایہ بھوکا نہ سوئے، لیکن 61 ھجری کے مسلمان نے دین کو ملوکیت و بادشاہت کے سانچے میں ڈھالنے کی سوچ لی اور یہ سوچ آل رسول ﷺ کے قتل پر منتہج ہوئی۔جب اقتدار کی دیوی اہل بیت رسول ﷺ کی لاشوں سے گزر کر ملوکیت کے ایوانوں تک پہنچی تو پھر برس ہا برس تک مقتدر بادشاہ دنیائے اسلام پر حکومت کرتے رہے۔ بادشاہت کا تاج نسل در نسل مسلمانوں میں منتقل ہوتا رہا، یہان تک کہ ترکی کے مسلمان نے اتاترک کے ہاتھ پر بیعت کرلی، فارس کے مسلمان نے شہنشاہ ایران کی چھتری کے نیچے آنکھیں موندھ لیں، افغانستان کا مسلمان امان اللہ خان کی لوریوں سے بہل گیا، ایسے میں خلافت عثمانیہ کے ڈوبتے ہوئے بیڑے کو دیکھ کر جس نے دردناک چیخ ماری وہ برّصغیر کا مسلمان تھا۔1947ء میں اس مسلمان کی فکر صرف اور صرف یہ تھی کہ "سب مسلمان ایک الگ قوم ہیں" لیکن پاکستان بننے کے بعد 1971ء تک اس مسلمان کی فکر اتنی تبدیل ہوگئی تھی کہ پنجابی، بنگالی، بلوچی۔۔۔ الغرض سب الگ الگ قوم بن گئے اور پھر اس قوم کا تماشا ساری دنیا نے دیکھا۔ پاکستان بنانے کی تحریک بنگلہ دیش سے شروع ہوئی تھی  اور سب سے زیادہ قربانیاں بنگالیوں نے ہی دی تھیں، لیکن جب پاکستان بن گیا  تو آج کی طرح 1971ء میں بھی ہمارے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس حضرات کے ذہنوں میں یہ خنّاس گردش کرنے لگا تھا کہ استحصال اور ظلم  کو روکنے کے بجائے مظلوم کو دبایا جائے اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ ہمارے بڑوں کی یہ غلط فکر تقسیم پاکستان کا باعث بنی۔ پاکستان ٹوٹنے کے بعد ہمارے حکمرانوں کی غلط سوچ کے باعث ہماری سرزمین  دہشت گردوں کے لئے جنت بن گئی، یہ ہمارے حکمرانوں کی غلط سوچ اور منحرف فکر کا نتیجہ ہے کہ آج اس ملک میں شیعہ، سنّی، مقامی، مہاجر، بلوچ، پٹھان، پروفیسر، ڈاکٹر، مسجد، امام بارگاہ، چرچ، پولیس، فوج الغرض کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ہمارے حکومتی اداروں کی غلط فکر کے باعث آج اس ملک کی یہ حالت ہے کہ مسافر گاڑیوں میں، نمازی مسجدوں میں، عزادار مجالس میں، ماتمی جوان جلوسوں میں، عیسائی چرچوں میں، زائرین اولیائے کرام کے مزاروں میں اور فوج و پولیس کے جوان اپنی ڈیوٹیوں کے دوران بے دردی کے ساتھ قتل کئے جا رہے ہیں۔ پورے ملک میں کشیدگی کا دور دورہ ہے اور اس کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر طالبان جیسے شیطانوں اور مسلمہ غداروں کے ساتھ مذاکرات کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات گویا شیطان کے ساتھ مذاکرات ہیں اور اس مذاکراتی ڈھونگ کی نسبت سے میں کاغذ کے دمدمے پر قلم کی توپ رکھ کر اپنے کالم کی وساطت سے ایوان اقتدار کی خوف زدہ فصیلوں میں دہشت گردوں سے ڈر کر ہانپنے والے سیاستدانوں، وزیروں اور مشیروں تک یہ پیغام بھیجنا چاہتا ہوں کہ "اے ڈالروں، ریالوں، ڈرون اور طالبان کے بوجھ تلے دبے ہوئے سلطانو! اور جرنیلو" ابھی بھی وقت ہے، اپنی فکر کا کعبہ درست کرلو، ماضی کی غلطیاں نہ دہراو اور جذبات سے مغلوب ہوکر نیز دھمکیوں سے ڈر کر پالیسیاں نہ بناو۔ ہرحال میں یہ یاد رکھو کہ یہ "ملک ہم سب کی مشترکہ میراث ہے۔"چنانچہ ہم یہ نہیں کہتے کہ فلاں سے مذاکرات کرو اور فلاں سے نہ کرو، ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ فلاں فرقے کی کتابوں پر پابندی لگے اور فلاں کی کتابوں پر نہ لگے، ہمارا یہ بھی مطالبہ نہیں کہ فلاں فلاں لیڈر کو پابند سلاسل کیا جائے اور فلاں فلاں کو رہائی دی جائے۔ نہیں نہیں، ارض پاکستان کے بیس کروڑ سے زائد باسیوں کا صرف اور صرف یہ مطالبہ ہے کہ اس ملک میں قانون کی حاکمیت کو یقینی بنایا جائے اور قانون کے خلاف جنگ کرنے والوں کے ساتھ جنگ کی جائے۔ ہر گروہ، ہر پارٹی، ہر فرقے اور ہر مسلک کے لوگوں کا ریکارڈ حکومت اپنے سامنے رکھے اور پارٹیوں، گروہوں اور فرقوں کی فعالیت اور عمل و کارکردگی کے پس پردہ چھپی ہوئی اس غلط فکر کو ڈھونڈا جائے اور اس غلط اور غلیظ فکر پر پابندی لگائی جائے کہ جو "قائد اعظم کو کافر اعظم کہتی ہے، جو پاکستان کو کافرستان کہتی ہے، جو پاک فوج کو ناپاک فوج کہتی ہے، جو پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کو کافر کہتی ہے، جو پاکستان کے قانون کو نہیں مانتی اور پاکستان میں بسنے والی پرامن اقلیتوں کو واجب القتل کہتی ہے۔"آج غداروں، قاتلوں، وحشیوں اور ظالموں کے ساتھ مذاکرات، ملت پاکستان کا نہیں بلکہ حکومت پاکستان کا غلط فیصلہ ہے۔ ان مذاکرات کے دوران حکومت کے سامنے طالبان جتنے چاہیں مطالبے رکھیں، لیکن ملت پاکستان کا صرف ایک مطالبہ ہے کہ جو لوگ نہ تو پاکستان کے آئین کو مانتے ہیں اور نہ ہی پاکستان میں بسنے والے لوگوں کے خون اور جان و مال کی حرمت کے قائل ہیں، جو پاکستان بنانے والے مسلمانوں کو کافر کہہ رہے ہیں اور پاکستان میں بسنے والی محب وطن اقلیتوں کے خون سے ان کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں، وہ خواہ کسی بھی مکتب اور پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں، ان پر پاکستان کی اعلٰی عدالت میں غداری کا مقدمہ چلایا جائے، انہیں اور ان کے مٹھی بھر ہم فکروں کو پاکستان کی تمام سرکاری و غیر سرکاری ملازمتوں سے الگ کیا جائے، پاکستان کی سیاست میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا جائے اور پاکستان کے آئین میں ان غداروں کی آئینی حیثیت کو مشخص کیا جائے۔تحریر: نذر حافی[email protected]۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲