استقبالِ محرم

استقبالِ محرم

یہ وہ ذاکرین ہیں جنہیں ہم سب سمیت مؤمنین کی ایک بڑی تعداد پسند کرتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو دلوں کو حبِ علی ع کی گرمی سے گرما دیتے ہیں۔ انہی کی مجالس نعروں سے گونج رہی ہوتی ہیں اور جو آپ زاہدی زاہدی صاحب کی رٹ لگائے ہوئے ہیں، جانتا ہوں میں زاہدی صاحب کو۔ اگر بور ہونا ہو اور کمر میں درد کروانا ہو تو اس سے بہتر اور کوئی بندہ نہیں۔ بھلا بتاؤ۔ مجلس میں توضیح المسائل کا کیا کام؟ زاہدی صاحب ہر جگہ تو یہی باتیں لے کے بیٹھ جاتے ہیں۔ مجال ہے جو انکی مجلس میں ایک نعرہ بھی لگتا ہو!

بسم اللہ ۔۔۔۔۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ آج کی میٹنگ کا ایجنڈا محرم الحرام کے پروگراموں کو تشکیل دینا ہے۔ اسی موضوع پر مزید کچھ اور بیٹھکیں بھی متوقع ہیں۔ آج ہم اپنی امام بارگاہ کے لئے پہلے عشرہء محرم الحرام کے پروگراموں کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گے۔ ساتھ ہی ایک اور اہم نکتہ ہم سب کی توجہ کا مستحق ہے اور وہ ہے امام بارگاہ کی توسیع۔ آپ تمام مؤمنین کے علم میں ہے کہ اس امام بارگاہ کو قائم ہوئے پچاس سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے۔ اپنے قیام سے آج دن تک اس مرکز نے اس شہر کے مؤمنین کی تمام دینی ضروریات کو ازحد پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان تمام امور کی تفصیلات میں جانے کا نہ وقت ہے اور نہ ہی ہماری میٹنگ کا ایجنڈا! مختصراً عرض کروں کہ پچاس سال کے طویل عرصے میں اس شہر میں مؤمنین کی آبادی جس رفتار سے بڑھی ہے، اس لحاظ سے اب یہ امام بارگاہ ناکافی ہے۔ ہمیں جنگی بینادوں پر اسکی تعمیر و توسیع پر توجہ دینا ہے، چونکہ امام بارگاہ اور عزاداری کا چولی دامن کا ساتھ ہے، اس لئے آجکی میٹنگ میں یہ دونوں نکات زیرِ بحث رہیں گے۔ اس سلسلے میں آپ حضرات کے ذہنوں میں کوئی آئیڈیاز یا تجاویز ہوں تو ضرور پیش کریں، تاکہ ہم اپنے مرکز کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال سکیں اور یہ عزاداری اور خدمتِ مؤمنین کے لئے اپنا فرض ادا کرتا رہے۔ میری آپ سب حضرات سے گزارش ہے کہ اپنی گفتگو کو موضوع کی حد تک محدود رکھئے اور کم سے کم وقت میں جامع اور ثمر آور مشوروں سے نوازیئے۔ جناب!

بٹ صاحب: جناب میں سمع خراشی کی معذرت کے ساتھ کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔ سب سے پہلے تو ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہیئے کہ امام بارگاہ کی تعمیر و توسیع کا بجٹ کیا ہے۔ ہمارے خزانے میں کتنی رقم باقی ہے اور کتنی درکار ہوگی۔ اس پروجیکٹ کی تکمیل کے لئے عرصہ کتنا درکار ہوگا اور اسکے بعد اس مرکز کی کیا شکل ہوگی۔

جعفری صاحب: بٹ صاحب! آپ نے بہت معقول اور اچھی باتوں کی طرف نشاندہی کی ہے۔ یہ تمام تفصیلات انشاءاللہ اگلی میٹنگ میں آپ کے سامنے پیش کر دی جائیں گی، فیزیبلٹی رپورٹ تیار ہے۔ ٹائپ ہو کر آجائے تو ٹرسٹ کے تمام ساتھیوں تک پہنچا دی جائیگی۔ مختصراً اتنا عرض کر دوں کہ اس وقت خزانہ تقریباً خالی ہے اور اس نئے منصوبے کے لئے کم از کم بیس کروڑ روپے کی خطیر رقم درکار ہے۔

بٹ صاحب (آنکھیں دگنا کھولتے ہوئے): بیس کروڑ جناب؟ کیا امام بارگاہ کے فانوسوں میں اصلی ہیرے جڑوانے کا ارادہ ہے۔؟ زیدی صاحب: حضور! میں نے عرض کیا تھا کہ ہمارے پاس وقت کم ہے۔ اس لئے آپ حضرات اپنی گفتگو کو محرم کے پہلے عشرے کو کامیاب بنانے کی حد تک ہی رکھیں تو بہتر ہوگا۔ یہ باتیں اگلی کسی میٹنگ میں بھی ہوسکتی ہیں۔ بٹ صاحب: او حضور۔ آپ ہی نے تو کہا تھا کہ امام بارگاہ کی توسیع اور عزاداری پر بات کرنا ہے۔ ہم کونسا موضوع سے بھٹک رہے ہیں۔ میرا سوال سیدھا سا ہے کہ آخر ایسی کیسی توسیع ہے جو بیس کروڑ مانگ رہی ہے۔۔۔

زیدی صاحب: بٹ صاحب! ابھی جعفری صاحب نے فرمایا ہے کہ فیزیبلٹی رپورٹ پرنٹ ہوکر آجائے گی تو پڑھ لیجئے گا۔ اس میں آپکے ہر اس سوال کا جواب بھی موجود ہے جو آپکی سوچ میں بھی نہیں آیا ہوگا۔ آپ بس ہمیں یہ بتایئے کہ آپکی نظر میں ایسا کونسا خطیب ہے جسکو ہم پہلے عشرے کے لئے دعوتِ خطاب دیں۔ بٹ صاحب: میری نظر میں تو کافی علماء ہیں، بہتر ہوگا اگر دیگر صاحبان کی رائے بھی لے لی جائے۔ ملک صاحب: جناب! اجازت ہو تو خاکسار اپنا نقطہءنظر بیان کرسکتا ہے؟ تمام حضرات: جناب، حضور! ضرور ضرور۔ فرمایئے۔ ملک صاحب: میرے خیال میں اس سال باہر سے کسی کو بلوانے سے بہتر ہوگا کہ کسی مقامی مولوی کو موقع دیا جائے۔ یہ اس لئے کہ تاکہ یہاں کے لوگوں کا اعتماد بھی بحال ہو۔ ہم ہمیشہ باہر کے علماء پر تکیہ کئے بیٹھے رہتے ہیں اور یہاں کے مقامی علماء کا کوئی پرسانِ حال ہی نہیں ہوتا۔

زیدی صاحب: ملک صاحب۔ آپکا نقطہء نظر سر آنکھوں پر۔ لیکن جناب، بات ہو رہی ہے پہلے عشرے کی۔ مقامی علماء کے لئے سارا سال حاضر ہے۔ آپکو معلوم ہے کہ پہلے عشرے میں ایسے لوگ بھی مجالس میں آتے ہیں جنکا سارا سال دین سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ اس لئے ہمیں اس مجمع کے لئے خطیب بھی ویسا ہی درکار ہے جو اس مجمع کی توقعات پر پورا اتر سکے۔ بٹ صاحب: جناب یہ مجمع کی توقعات سے آپکی کیا مراد ہے۔؟ زیدی صاحب: ارے جانے دیں بٹ صاحب! کیا آپکو نہیں پتہ کہ مجمع کیا چاہتا ہے؟ محرم کے اولین ایام میں لوگوں کو خون گرما دینے والی تقاریر کی ضرورت ہوتی ہے۔ سارا سال لوگ گھروں میں سوئے رہتے ہیں۔ یہی دس دن ہیں کہ انکی روحِ دینی جاگتی ہے۔ ہمارے پاس بھی یہی موقع ہے کہ انہی دس دنوں میں لوگوں سے سال بھر کا حساب برابر کریں۔

بٹ صاحب: جناب میں نہیں سمجھ پارہا کہ آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔ اگر تو آپکے خیال میں یہی دس دن ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے تو میرے خیال میں مولانا علی احمد زاہدی سے بہتر اور کوئی آپشن نہیں۔ اس شخص کے پاس سوئے ہوئے لوگوں کو جگانے اور انکو سال بھر کا مواد دینے کے لئے اتنا علم ہے کہ جسکا کوئی حساب نہیں۔ خطیب بھی اچھا ہے اور انتہائی درویش صفت انسان ہے۔ خاں صاحب: بٹ صاحب! یہ آپ نئے نئے نام کہاں سے نکال کے لاتے ہیں؟ ان مولانا کا تو نام بھی ہم نے نہیں سنا اور آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ سوئے ہوؤں کو جگاتا ہے!!! تمام محفل (قہقہہ لگاتے ہوئے): ہاہاہاہاہا بٹ صاحب: جناب۔ آپ لوگ عجیب بات کر رہے ہیں۔ اس وقت افکارِ آلِ محمدؑ کی اصل ترویج و تبلیغ کی اشد ضرورت ہے اور مولانا زاہدی صاحب جیسے لوگ اس مشکل دور میں یہ فریضہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ادا کر رہے ہیں۔ آپ لوگوں میں سے کسی نے انکی مجلس سنی ہے؟

جعفری صاحب: بتایا ناں بٹ صاحب کہ انکا تو نام بھی ہم نے نہیں سنا۔ جس شخص کو ہم ٹرسٹی نہیں جانتے، اسے عام لوگ کیا خاک جانتے ہوں گے؟ اور جسے جانتے ہی نہیں، اسکی مجلس میں کون آئیگا؟ بٹ صاحب! آپ تو لگتا ہے اس سال ہمارا سارا پروگرام فلاپ کروانے کے موڈ میں ہیں۔ (مسکراتے ہوئے): کہیں آپ نے دوسری امام بارگاہ کا ٹرسٹ تو جوائن نہیں کرلیا؟ بٹ صاحب: جعفری صاحب! میں ایک انتہائی گناہگار آدمی ہوں۔ میرا کسی ٹرسٹ یا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔ میں تو بس اتنا چاہتا ہوں کہ یہ ایامِ عزا سیدالشہداؑ کی جانب سے غنیمت ہیں۔ ہمیں ان سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ کبھی غور کیجیئے گا۔ ہم لوگ اپنی عمریں ضائع کر چکے ہیں۔ آنے والی نسلوں کو بچانا ہے تو افکارِ کربلا ان تک پہنچانا ہوں گے اور اس کام کے لئے میرے خیال میں اس وقت مولانا زاہدی صاحب سے بہتر اور کوئی نام نہیں۔

زیدی صاحب: آپکی تجویز سر آنکھوں پر۔ ہم ٹرسٹ کے اراکین ضرور زاہدی صاحب کے بارے میں غور کریں گے اور انکو عشرے کے بعد کے کسی پروگرام میں دعوت دے دی جائیگی۔ فی الحال ہمارا ٹارگٹ پہلا عشرہ ہے اور میں اپنی بات کو سادہ اور آسان الفاظ میں سمجھائے دیتا ہوں کہ ہمیں کسی شعلہ بیان مقرر کی ضرورت ہے۔ مثلاً جابر عباس، ناصر علی پوری یا غضنفر کربلائی۔۔۔ بٹ صاحب: زیدی صاحب! آپ کن لوگوں کے نام لے رہے ہیں؟ ان میں سے تو ایک بھی عالم نہیں ہے۔ یہ سب تو فصلی بٹیرے ہیں۔ پیسے کے لئے منبر پر چڑھ بیٹھے ہیں۔ ملک صاحب: بٹ صاحب۔ آپ بھی ذرا احتیاط سے گفتگو کریں۔ یہ وہ ذاکرین ہیں جنہیں ہم سب سمیت مؤمنین کی ایک بڑی تعداد پسند کرتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو دلوں کو حبِ علیؑ کی گرمی سے گرما دیتے ہیں۔ انہی کی مجالس نعروں سے گونج رہی ہوتی ہیں اور جو آپ زاہدی زاہدی صاحب کی رٹ لگائے ہوئے ہیں، جانتا ہوں میں زاہدی صاحب کو۔ اگر بور ہونا ہو اور کمر میں درد کروانا ہو تو اس سے بہتر اور کوئی بندہ نہیں۔ بھلا بتاؤ۔ مجلس میں توضیح المسائل کا کیا کام؟ زاہدی صاحب ہر جگہ تو یہی باتیں لے کے بیٹھ جاتے ہیں۔ مجال ہے جو انکی مجلس میں ایک نعرہ بھی لگتا ہو!

زیدی صاحب: بالکل ٹھیک کہا ملک صاحب نے۔ ہمیں پہلے عشرے کے لئے کسی ٹھنڈے بندے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں مجمع کھینچنے والا خطیب چاہیئے۔ جسکے نام پر لوگ کھنچے چلے آئیں۔ زیادہ سے زیادہ چندہ دیں تاکہ اس بارگاہ کی تعمیر و توسیع کا خواب شرمندہء تعبیر ہوسکے۔ حضرات میرے خیال میں آپ میرا مطلب سمجھ گئے ہوں گے۔ ملک صاحب: جی جناب۔ میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں کہ ہمارے پہلے عشرے کے لئے جابر عباس آف جھنگ بہترین انتخاب ہوگا۔ یہاں کے لوگ انہیں دیوانوں کی طرح چاہتے ہیں۔ بٹ صاحب: ایک منٹ سرکار۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ جابر عباس ایک عالم نہیں ہے۔ اس نے کسی معتبر جگہ سے تعلیم تک حاصل نہیں کی اور اپنے نام کے ساتھ علامہ لگاتا ہے اور تو اور وہ عزاداری کی تجارت کرتا ہے۔ اپنے منہ سے دام طلب کرتا ہے اور اگر آپ افورڈ نہیں کرسکتے تو انکار کر دیتا ہے۔ ۔۔۔

جعفری صاحب: جی سر۔ ہم سب جانتے ہیں، لیکن ملک صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ لوگ انہیں سننا پسند کرتے ہیں۔ وہ اگر ریٹ کی بات کرتے بھی ہیں تو لوگ بھی تو انکے نام پر جی بھر کے پیسہ دیتے بھی تو ہیں۔ میری کچھ معززین سے بات ہوئی ہے۔ انکا بھی یہی کہنا ہے کہ اگر علامہ جابر عباس یہاں خطاب کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں تو وہ تمام مجالس کو اسپانسر کرنے کو تیار ہیں۔ ملک صاحب: انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔۔۔ یہ کون معززین ہیں جو خونِ حسین کی قیمت لگانے او ر پھر اسے ادا بھی کرنے کی جسارت کر رہے ہیں؟؟؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس شخص نے ایک مجلس کا ایک لاکھ لینا شروع کر دیا ہے؟ ہم امام حسینؑ کو اپنے ان تمام اعمال کے جوابدہ ہیں۔ یہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟

زیدی صاحب: بٹ صاحب۔ اب جانے بھی دیں۔ جعفری صاحب نے مخیر حضرات کی توجہ اس مرکز کی تعمیرِ نو کی جانب مبذول کروانے کی جو کوشش کی ہے، اسکی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ جب انتظامیہ، تعاون کنندگان اور حاضرینِ مجلس کو کوئی اعتراض نہیں تو میرے خیال میں آپکو بھی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔ دس مجلسوں کے علامہ صاحب دس لاکھ لے بھی لیں گے تو کیا ہوا؟ ہمارے پاس اسپانسرز کی جانب سے بیس لاکھ آنے کی قوی امید ہے۔ اسکے علاوہ ان دس مجالس میں دس سے پندرہ ہزار افراد تو شریک ہوں گے ہی۔ اگر پانچ ہزار نے روزانہ پچاس روپے بھی دیئے تو اوسطاً پچیس لاکھ روپے آرام سے اکٹھے ہوسکتے ہیں۔ اس طرح سے پہلے عشرے کی صرف علامہ جابر عباس کی مجلس سے پچیس لاکھ روپے کی خطیر رقم اکٹھا ہونے کی امید ہے۔ فیزیبلٹی رپورٹ میں یہ تمام اعداد و شمار موجود ہیں۔ آپ پڑھیں گے تو دل خوش ہوجائیگا۔

مؤمنینِ کرام! آجکی اس میٹنگ میں محرم الحرام 1435ھ کے پہلے عشرے کے لئے متفقہ طور پر علامہ جابر عباس آف جھنگ کے نام کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اکثریت اس ایک نام پر متفق ہے، اس لئے ہماری عزادار کمیٹی اگلے تین یوم میں علامہ صاحب سے ملاقات کرکے یا فون پر ان سے وقت لینے کی پابند ہے۔ قبل اس کے کہ علامہ صاحب کسی اور امام بارگاہ کے لئے یہ وقت مختص فرما دیں۔ ہمارا مقصد عزاداری کا فروغ اور مؤمنین کو بہتر سے بہتر مجالس کے مواقع بہم پہنچانا ہے۔ خدا ہماری ان تمام کاوشات کو بعنوانِ عبادت اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہ